|

کوئٹہ میں 4 پولیس افسران قتل

اے ایف پی

کوئٹہ -- جمعرات (13 جولائی) کو موٹرسائیکل سوار نامعلوم مسلح افراد نے جنوب مغربی پاکستان میں چار پولیس اہلکاروں کو قتل کر دیا، جو کہ بے قابو صوبہ بلوچستان میں سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بنانے والا تازہ ترین حملہ ہے۔

واقعہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پیش آیا، جس کی ایک دہائی سے زائد عرصے سے علیحدگی پسندوں اور اسلام پرست فساد سے بدبختی آئی ہوئی ہے۔

اعلیٰ پولیس افسر عبدالرزاق چیمہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ پولیس سپرنٹنڈنٹ مبارک شاہ پولیس کے تین محافظوں سمیت دفتر جا رہے تھے جب مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر گولیاں برسا دیں۔

مسلح افراد جائے واردات سے فرار ہو گئے، کا اضافہ کرتے ہوئے چیمہ نے کہا، "حملہ آوروں نے مختلف سمتوں سے فائر کھولا، جس سے مبارک شاہ اور تین پولیس محافظ جاں بحق ہو گئے۔"

کوئٹہ حکومت کے ایک سینیئر اہلکار، محمد طیب نے اموات کی تصدیق کی۔

ابھی تک کسی بھی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

ان ہلاکتوں کے چار روز قبل جنوب مغربی بلوچستان میں ایک تناؤ والے سرحدی شہر چمن میں ایک اعلیٰ سطحی پولیس چیف اور ان کے محافظ کو بم سے ہلاک کر دیا گیا تھا جبکہ دیگر 11 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ نے بتایا تھا کہ "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش) تنظیم نے چمن حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج