| حقوقِ انسانی

کے پی نے انسانی حقوق کی ہاٹ لائن پر درج کروائی جانے والی شکایات کا جواب دینا شروع کیا ہے

محمد شکیل


صوبائی وزیرِ قانون سلطان خان، 2 جولائی کو پشاور میں کے پی کے ڈائریکٹریٹ آف لاء اینڈ ہیومن رائٹس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو درج کروانے کے لیے ٹول فری نمبر کا آغاز کر رہے ہیں۔ ]کے پی حکومت[

صوبائی وزیرِ قانون سلطان خان، 2 جولائی کو پشاور میں کے پی کے ڈائریکٹریٹ آف لاء اینڈ ہیومن رائٹس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو درج کروانے کے لیے ٹول فری نمبر کا آغاز کر رہے ہیں۔ ]کے پی حکومت[

پشاور -- خیبر پختونخواہ (کے پی) کے حکام نے اس ٹول فری ہاٹ لائن پر ملنے والی شکایات کا جواب دینا شروع کیا ہے، جسے گزشتہ ماہ قائم کیا گیا تھا اور جس میں شہری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں شکایات درج کروا سکتے ہیں۔

کے پی کے ڈائریکٹریٹ آف لاء اینڈ ہیومن رائٹس کے نائب ڈائریکٹر سکندر علی خلیل نے کہا کہ 7 جولائی تک، ہاٹ لائن کو 12 شکایات ملی تھیں اور "ہمارے ڈپارٹمنٹ نے متعلقہ علاقوں میں، شکایت دہندگان اور جواب دہندگان میں ملاقاتوں کا انتظام کیا ہے"۔

قانون اور پارلیمانی امور کے صوبائی وزیر سلطان خان نے 2 جولائی کو کے پی کے ڈائریکٹریٹ آف لاء اینڈ ہیومن رائٹس میں ایک کال وصول کر کے، ٹول فری نمبر --- 11180-0800--- کا آغاز کیا۔

انہوں نے اس موقعہ پر کہا کہ "ہم سخت اقدامات کریں گے اور متاثرین کی شکایات درج کرنے کے بعد، انہیں انصاف فراہم کریں گے"۔

خلیل نے کہا کہ "ٹول فری نمبر شروع کرنے کا خیال اس لیے آیا کہانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے شکار افراد مدد کے حق دار ہیں"۔ٹول فری نمبر کو استعمال کرتے ہوئے "اب ہر ایک شہری آزادی سے شکایت درج کروانے کے لیے آزاد ہے"۔

خلیل نے کہا کہ "انسانی حقوق" ایک وسیع اصطلاح ہے جس میں وہ تمام حقوق آتے ہیں جن سے کوئی شخص زندگی میں لطف اندوز ہوتا ہے۔

کے پی میں، انتہا پسندوں کی طرف سے ماورائے عدالت ہلاکتیں، تشدد اور دھمکیاں انسانی حقوق کی ایسی معمول کی خلاف ورزیاں ہیں، جن کا سامنا شہریوں کو کرنا پڑتا ہے۔

خلیل نے کہا کہ ڈائریکٹریٹ کو ملنے والی زیادہ تر شکایات دور دراز کے علاقوں سے آئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فاصلوں کے زیادہ ہونے کے باعث، متاثرین کے لیے مدد حاصل کرنے کے لیے بڑے شہروں تک آنا مشکل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب، متاثرین اپنی شکایات ڈائریکٹریٹ میں جمع کروا سکتے ہیں جہاں عملہ چوبیس گھنٹے موجود ہوتا ہے۔

ایبٹ آباد کے ایک اسکول کے استاد محبوب لطیف نے کہا کہ انہوں نے اس نمبر کو استعمال کرتے ہوئے شکایت درج کروائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام "ہمیں امید فراہم کرتا ہے کیونکہ یہ ہمیں مسائل کے حل تلاش کرنے کا موقع دیتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ عمل "تھوڑا سست مگر مستحکم ہے اور ایک مثبت طرف جا رہا ہے"۔

حکومت پر اعتماد

خلیل نے کہا کہ "اگرچہ شکایات عوامی ویب سائٹ پر بھی درج کروائی جا سکتی ہیں ۔۔۔ مگر ٹول فری نمبر دور دراز کے علاقوں کے رہائشیوں اور ایسے لوگوں کی مدد کرے گا جو انٹرنیٹ اور ابلاغ کے جدید ترین طریقوں کے استعمال سے واقف نہیں ہیں"۔

خلیل نے کہا کہ ایک کمپیوٹر آپریٹر شکایات درج کرتا ہے اور انہیں سپروائزر کے تجزیے اور غور کے لیے جمع کرتا ہے۔ تجزیے اور جائزے کے بعد، ڈائریکٹریٹ، متاثرین اور آگاہ کرتا ہے اور کسی ضروری قدم کے لیے رپورٹ کو متعلقہ حکام کے پاس بھیج دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "اگر کسی کو ہماری کوششوں سے مدد ملتی ہے تو اس سے دوسروں کو بھی ڈائریکٹریٹ کی طرف سے عوامی فلاح کو بہتر بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے موثر ہونے کے بارے میں پیغام ملے گا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ نئی پیش رفت ایک ایسی سماجی تبدیلی کی بات کرتی ہے جس سے ہر ایک شہری کی زندگی متاثر ہو گی اور ان کا سرکاری نظام اور اداروں پر اعتماد مضبوط ہو گا۔ حکومت پر عوام کے اعتماد کو دوبارہ بحال کرنا بذاتِ خود ایک کامیابی ہے"۔

پشاور میں قائم خواتین کے حقوق کے وکیل گروہ، دی ہوا لور کی چیرپرسن اور بانی خورشید بانو نے کہا کہ "ٹول فری نمبر شروع کرنے پر حکومت کی تعریف کی جانی چاہیے"۔

انہوں نے کہا کہ "اس پروگرام سے ان عام شہریوں کی مدد ہو گی جو نظام کی پیچیدگیوں کے باعث، اپنے حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے میں ناکام ہیں

انہوں نے مزید کہا کہ "اسے حکومت کی طرف سے ان لوگوں کی خدمت کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش سمجھا جانا چاہیے جو اپنے حقوق سے آگاہ نہیں ہیں یا اپنے حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے بہت کمزور ہیں"۔

انتہاپسندوں کے ایجنڈا میں انتشار

بانو نے کہا کہ عام پاکستانی "تشدد کا سہارا لینا چھوڑ دیں گے اگر حکومت ۔۔۔ان کے حقوق کی حرمت کو یقینی بنائے گی"۔

انہوں نے کہا کہ "پریشانی، غیر یقینی اور حکومت پر اعتماد کا نہ ہونا، ایسے کچھ عناصر ہیں جو بہت سی سماجی برائیوں جیسے کہ انتہاپسندی، تشدد، قنوطیت اور عسکریت پسندی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ایک مطمئن، خوش امید اور پرامید شخص، نظام پر یقین رکھے گا اور یقینی طور پر قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے سے بچے گا"۔

کے پی کے ایک وکیل اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن حاجی عبادالرحمان نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں اور پروگراموں پر شہریوں کا اعتماد، انتہاپسندی کا خاتمہ کرنے کی بنیادی کنجی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "انسانی حقوق ۔۔۔شہریوں کے لیے خوشحالی اور ترقی کے لیے ایک راجع ماحول فراہم کرتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "انتہاپسندی کے عناصر کے لیے سماجی احاطے میں داخل ہونا اس وقت بہت مشکل ہو گا جب شہریوں کو اپنے اداروں کی کام کرنے کی اہلیت پر اعتماد ہو گا"۔

انہوں نے کہا کہ "انتہاپسندوں اور دہشت گردوں کا ایجنڈا حکومت کو غیر مستحکم کرنا، عوام کو مسلسل پریشانی میں رکھنا اور معصوم لوگوں کو دھوکے سے قابو کرنا ہے"۔

وکیل کے مطابق، انتہاپسندی کو اس وقت ایک اور دھچکا پہنچے گا جب معاشرہ منفیت پھیلانے والوں کو مسترد کر دے گا۔

رحمان نے کہا کہ "یہ صرف ایک ایسے معاشرے میں ہی ممکن ہو گا جہاں عوام کو ان کے بنیادی حقوق کی حفاظت کا یقین دلایا جائے گا"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

8
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha