http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/08/06/feature-01
| مذہب

تصاویر میں: عید الاضحیٰ کی تیاری

شہباز بٹ

31 جولائی کو پاکستانی پشاور کے قریب عید الاضحیٰ کے لیے جانوروں کی خریدوفروخت کر رہے ہیں۔ [شہباز بٹ]

31 جولائی کو پشاور کی منڈی میں لے جانے سے قبل مالکان اپنے جانوروں کو نہلا رہے ہیں۔ [شہباز بٹ]

31 جولائی کو پشاور کے قریب ایک شخص مویشی منڈی میں لے جانے سے قبل اپنے بیل کو دھو رہا ہے۔ [شہباز بٹ]

31 جولائی کو پشاور کے قریب ایک لڑکی ایک گائے کو گلی میں نیچے لے جا رہی ہے۔

31 جولائی کو پشاور کے علاقہ زرگرآباد میں ایک نوجوان سڑک کنارے لگے ایک سٹال سے قربانی کے جانوروں کے لیے آرائشی اشیاء منتخب کر رہا ہے۔ [شہباز بٹ]

31 جولائی کو لالہ مویشی منڈی میں تاجر ٹرک سے جانور اتار رہے ہیں۔

31 جولائی کو ایک شخص پشاور کے قریب ایک بیل گاڑی پر جانوروں کا چارہ لاد رہا ہے۔ [شہباز بٹ]

31 جولائی کو پشاور میں عیدالاضحیٰ سے قبل ایک لڑکی اپنے والد کے ہمراہ ایک لفافے میں کوئلے پیک کر رہی ہے۔ [شہباز بٹ]

31 جولائی کو عید الاضحیٰ کے دوران بڑھتی ہوئی مانگ میں ایک لوہار اپنی دکان پر بار بی کیو کی بھٹیاں تیار کر رہا ہے۔ [شہباز بٹ]

31 جولائی کو عید الاضحیٰ سے قبل پشاور میں ایک لوہار چھریاں تیز کر رہا ہے۔ [شہباز بٹ]

پشاور – پاکستانی 12 اگست کو عید الاضحیٰ منانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

پشاور کے ایک 37 سالہ رہائشی حبیب خان نے کہا، "آج کل ہر کوئی عید کی تیاری میں مصروف ہے۔۔۔ قربانی کے لیے ایک اچھا جانور خریدنا اکثریت کا معاملہٴ فکر ہے۔"

خان نے کہا کہ اس نے پہلے ہی قربانی کے لیے ایک جانور خرید لیا ہے، اس نے مزید کہا کہ قیمت زیادہ ہو سکتی ہے، لیکن ایک مسلمان ہونے کے ناطے "یہ اولین فریضہ ہے۔"

31 جولائی کو لی گئی اس تصویر میں پشاور کے قریب مویشی منڈی دیکھی جا سکتی ہے۔ [شہباز بٹ]

فیصل آباد کا ایک رہائشی، فتح محمّد، جو سفر کر کے پشاور آیا، نے کہا کہ قربانی کے جانوروں کی قیمتیں گزشتہ برس کی نسبت بہت بڑھ گئی ہیں۔

اس نے کہا کہ بھنسوں، گایوں اور بیلوں کی قیمت میں گزشتہ برس کے مقابلہ میں تقریباً 20,000-30,000 روپے (125-187 ڈالر) کا اضافہ ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دوراندہشتگردوں کو نکالنے میں پاکستان کی پیش رفت کے بعد شہری عید کی تیاری کے لیے باہر جاتے ہوئے زیادہ آزاد محسوس کر رہے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
5
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha