| دہشتگردی

اقوامِ متحدہ کے ممتاز تفتیش کار کا داعش کا نازی جنگی مجرمان کے ساتھ موازنہ، مقدمات قائم کرنے کا مطالبہ

اے ایف پی


سنہ 2015 میں، پلمیریا، شام میں داعش کے نوعمر جلاد ایک مجمعے کے سامنے 25 شامی سرکاری فوجیوں کو گولی مارنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ایسے جرائم کی تفصیلات بین الاقوامی برادری کی جانب سے مطالبہ کردہ مقدمات میں سامنے آئیں گی۔ [فائل]

سنہ 2015 میں، پلمیریا، شام میں داعش کے نوعمر جلاد ایک مجمعے کے سامنے 25 شامی سرکاری فوجیوں کو گولی مارنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ایسے جرائم کی تفصیلات بین الاقوامی برادری کی جانب سے مطالبہ کردہ مقدمات میں سامنے آئیں گی۔ [فائل]

بغداد -- اقوامِ متحدہ (یو این) کی "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش)کے جرائم کی تفیش کرنے والی ٹیم کے سربراہ نے نیورمبرگ میں نازی رہنماؤں جیسے مقدمات چلانے کا مطالبہ کیا ہے یہ یقینی بنانے کے لیے دہشت گردوں کے متاثرین کی آواز سنی جائے اور ان کے نظریئے کو "بے نقاب" کیا جائے۔

عرصہ ایک سال سے، برطانوی وکیل کریم خان نے اقوامِ متحدہ کے یونیٹاڈ کہلانے والے ادارے کے لیے ثبوت اور شہادتیں جمع کرنے کے لیے لگ بھگ 80 کے قریب ساتھیوں کی ایک ٹیم کے ساتھ پورے عراق کا سفر کیا ہے۔

جبکہ تفتیشی ٹیم 200 سے زائد اجتماعی قبروں سے 12،000 لاشوں، داعش کے جرائم کی 600،000 ویڈیوز اور تنظیم کی بیوروکریسی کی جانب سے 15،000 صفحات کا تجزیہ کرنے کے لیے کام کر رہی ہے، انہوں نے کہا، "یہ ایک پہاڑ کی چوٹی سر کرنے جیسا کام ہے۔"


سنہ 2016 میں داعش کی جانب سے عید الاضحیٰ کے موقعہ پر جاری کردہ ایک ویڈیو کا سکرین شاٹ، جس میں داعش کے ایک جنگجو کو شامی متاثرین کے گلے کاٹنے سے چند لمحے پہلے دکھایا گیا ہے۔ [فائل]

سنہ 2016 میں داعش کی جانب سے عید الاضحیٰ کے موقعہ پر جاری کردہ ایک ویڈیو کا سکرین شاٹ، جس میں داعش کے ایک جنگجو کو شامی متاثرین کے گلے کاٹنے سے چند لمحے پہلے دکھایا گیا ہے۔ [فائل]


15 مارچ کو عراق کے ضلع سنجار کے گاؤں کوجو میں فارنزک اہلکار داعش کی جانب سے قتل کیے گئے سینکڑوں یزیدیوں کی ایک اجتماعی قبر کی قبر کشائی کے دوران علاقے کا مقائنہ کر رہے ہیں جبکہ ایک عراقی یزیدی خاتون انہیں دیکھ رہی ہے۔ [زید العبیدی/اے ایف پی]

15 مارچ کو عراق کے ضلع سنجار کے گاؤں کوجو میں فارنزک اہلکار داعش کی جانب سے قتل کیے گئے سینکڑوں یزیدیوں کی ایک اجتماعی قبر کی قبر کشائی کے دوران علاقے کا مقائنہ کر رہے ہیں جبکہ ایک عراقی یزیدی خاتون انہیں دیکھ رہی ہے۔ [زید العبیدی/اے ایف پی]

داعش کی سفاکی کی 'کوئی حد نہیں'

پانچ برس قبل،جب داعش کا عراق اور شام کے وسیع علاقے پر قبضہ تھا، تنظیم نے ستر لاکھ متاثرین پر اپنے ظالمانہ اصول تھوپ رکھے تھے جن میں اس کے اپنے منتظمین، سکول، بچے سپاہی، اسلام کی ایک متشدد تشریح اور قرونِ وسطیٰ کی سزائیں شامل تھیں۔

اقلیتیگروہ جنہیں داعش کی جانب سے "کفار"یا "شیطان کے پیروکار" تصور کیا جاتا تھا انہیں ہزاروں کی تعداد میں موت، اذیتوں یا غلامی کا سامنا کرنا پڑا۔

بغداد میں انتہائی محفوظ یونیٹاڈ ہیڈکوارٹرز سے خان نے کہا کہ داعش "کسی قسم کی گوریلا جنگ یا ایک گشتی باغی تنظیم نہیں تھی ۔۔۔ وہ ایک پہلو ہے جو بین الاقوامی انصاف کے لیے غیر معمولی ہے"۔

داعش کے لیے "کچھ بھی ممنوعہ نہیں تھا"، انہوں نے کہا۔

"21 ویں صدی میں کون سوچ سکتا تھا کہ ہم مصلوب کیا جانا یا زندہ انسانوں کو پنجروں میں جلانا، غلامی، جنسی غلامی، لوگوں کو عمارتوں کے اوپر سے گرانا، سر قلم کرنا وغیرہ دیکھیں گے؟"

اور یہ سب "ایک ٹی وی کیمرے کے ساتھ" ریکارڈ کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ خوف کے علاوہ، یہ جرائم "نئے نہیں ہیں، داعش کے لیے شاید نیا یہ ہے کہ اس نظریئے نے مجرم تنظیم کو بالکل اسی طریقے سے بھڑکایا جس طریقے سے فاشزم نے [نازی جرمن قائد ایڈلف] ہٹلر کے مجرمانہ پروگراموں کو بھڑکایا تھا۔"

داعش کے نظریئے کو بے نقاب کرنا

جنگِ عظیم دوم کے دوران تقریباً چھ ملین یہودیوں کے قتل کے لیے نازی قائدین پر 1946-1945 میں نیورمبرگ، جرمنی میں بین لاقوامی فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے تھے۔

آج لگ بھگ ہر روز عراقی عدالتیں گرفتار شدہ داعش کے ارکان کو سزائیں سنا رہی ہیں، جو کہ اکثر سزائے موت ہوتی ہے، مگر متاثرین مقدمات میں موجود نہیں ہوتے اور واحد الزام جو لگایا جاتا ہے وہ داعش کے ساتھ وابستگی کا ہوتا ہے۔

خان نے کہا کہ صرف ایسے مقدمات جہاں ثبوت اور شہادتیں ہر کسی کے لیے قابلِ رسائی ہوں، صفحات کو پلٹ سکتے ہیں۔

ہٹلر کی جانب سے تحریر کردہ خودنوشتی منشور کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیورمبرگ کی وجہ سے، "اگر کوئی "مین کیمپ" کے اصولوں کی تائید کرتا ہے تو اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جا سکتا۔"

انہوں نے کہا، "درحقیقت، اگر کوئی بھی سوچتا کہ فاشزم کے اصول ایک متبادل سیاسی فلسفہ تھے تو عوامی ضمیر میں خطرے کی گھنٹیاں بج جاتیں۔"

خان کے مطابق، نیورمبرگ "نے فاشزم کے زہر کو جرمن عوام سے علیحدہ کر دیا"۔

داعش کے بعد، "عراق اور انسانیت اپنے [داعش کے] نیورمبرگ لمحے کا تقاضہ کرتے ہیں"، انہوں نے کہا۔

خان نے کہا کہ داعش کے خلاف ایک منصفانہ قانونی کارروائی "بھی داعش کے زہرکو سُنی برادری سے علیحدہ کرنے میں حصہ ڈال سکتی ہے"، جو عراق میں ایک اقلیتی گروہ ہے، جہاں دو تہائی آبادی شیعہ ہے۔

داعش کے خلاف قانونی کارروائی کا ایک "تعلیمی اثر ہو سکتا ہے، ناصرف خطے پر بلکہ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی جہاں کے علاقےداعش کے جھوٹوں اور پراپیگنڈہ کے لیے حساس ہیں۔"

خان نے کہا، 'اس نظریئے کو بے نقاب کیا جا سکتا ہے، تاکہ وہ لوگ جو دیکھ رہے ہیں ۔۔۔ انہیں چشم دید سچائی کا احساس ہو سکے کہ یہسب سے زیادہ غیر اسلامی ریاستتھی جو کہ ہم نے دیکھی ہے۔"

ہر جگہ داعش کے خلاف قانونی کارروائی کرنا

یونیٹاڈ یہ ثابت کرنے کے لیے مصروفِ عمل ہے آیا کہداعش کی جانب سے کی گئی کارروائیاں انسانیت کے خلاف جرائم تھے، جنگی جرائم تھے یا نسل کشی تھی، جو کہ بین الاقوامی قانون میں سنگین ترین جرائم ہیں۔

خان نے کہا، "آپ اگلے چند ماہ میں دیکھیں گے کہ ہم کچھ قانونی کارروائیوں میں اپنی رائے دے رہے ہیں جو کچھ ریاستوں میں پہلے ہی سے چل رہی ہیں۔"

کچھ مقدمات پہلے سے ہی زیرِ سماعت ہیں، جن میں قابلِ ذکر فرانس میں، داعش کی جانب سے دعویٰ کردہ حملے، اور میونخ، جرمنی میں، جہاں ایک جرمن خاتون پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نےداعش کی غلاموں کی منڈی سے "خریدی گئی" ایک نوجوان یزیدی لڑکیکو پیاسا مرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔

خان نے کہا کہ لیکن "عراق ہماری معلومات کے، ہمارے ثبوت کا بنیادی مجوزہ وصول کنندہ ہے۔"

عراق داعش میں شامل ہونے والے اپنے ہزاروں شہریوں کو اپنی سرزمین پر گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات چلا چکا ہے اور سینکڑوں کو سزائے موت دے چکا ہے، خواہ وہ تنظیم کے لیے لڑے تھے یا نہیں۔

خان نے کہا، "فورم اتنا اہم نہیں ہے"، جیسا کہ کچھ لوگوں کی جانب سے بین الاقوامی ٹریبیونل کے قیام کا امکان اٹھایا گیا ہے مگر یہ مستقبل قریب میں بنتا نظر نہیں آتا۔

جو چیز اہم ہے وہ یہ ہے کہ "متاثرین کو حق حاصل ہے کہ ان کی آواز سنی جائے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

5
5
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha