| سلامتی

پاکستان نے شمالی وزیرستان، بلوچستان میں بزدالہ حملوں کی مذمت کی ہے

عبدل ناصر خان


پاکستانی رشتہ دار اور ایبٹ آباد کے رہائشی 28 جولائی کو ایک سپاہی کا تابوت اٹھائے ہوئے ہیں جسے اس کے ساتھیوں کے ساتھ، ایک دن پہلے افغان سرحد کے قریب ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ]عاطف حسین/ اے ایف پی[

پاکستانی رشتہ دار اور ایبٹ آباد کے رہائشی 28 جولائی کو ایک سپاہی کا تابوت اٹھائے ہوئے ہیں جسے اس کے ساتھیوں کے ساتھ، ایک دن پہلے افغان سرحد کے قریب ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ]عاطف حسین/ اے ایف پی[

لاہور -- پاکستان نے ہفتہ (27 جولائی) کو اپنی مسلح افواج پر ہونے والے دو الگ الگ حملوں کی مذمت کی ہے اور دہشت گردی سے جنگ کے اپنے عہد کو دہرایا ہے۔

قبائلی ضلع شمالی وزیرستان اور بلوچستان میں ہونے والے حملوں میں فوج کے عملے کے دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں کہا کہ "سرحد پار سے آنے والے دہشت گردوں" نے افغانستان کے قریب، شمالی وزیرستان کے علاقے گرباز میں گشت کرنے والے پاکستانی فوج کے فوجیوں پر چھپ کر حملہ کیا، جس سے چھہ فوجی ہلاک ہو گئے۔


دس سیکورٹی اہلکار، جن کی تصویر یہاں دکھائی گئی ہے، ہفتہ کو ہونے والے حملے میں ہلاک ہو گئے۔ ]آئی ایس پی آر[

دس سیکورٹی اہلکار، جن کی تصویر یہاں دکھائی گئی ہے، ہفتہ کو ہونے والے حملے میں ہلاک ہو گئے۔ ]آئی ایس پی آر[

آئی ایس پی آر نے ایک الگ بیان میں کہا کہ بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف ایک الگ آپریشن میں دیگر چار فوجی ہلاک ہو گئے۔

تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ترجمان محمد خرسانی نے شمالی وزیرستان کے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خاندان کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کیا اور ٹوئٹ کیا کہ "میں اپنی مسلح افواج کے عملے کو سلام پیش کرتا ہوں جو دہشت گردی سے جنگ اور ملک کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنی جانیں قربان کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں"۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے راہنما جہانگیر ترین نے بھی ان حملوں کی مذمت کی۔

انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ "یہ امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی ایک منصوبہ شدہ کوشش ہے مگر دشمن کو پتہ ہونا چاہیے کہ ایسے بزدلانہ حملے ہمیں اپنے مقاصد حاصل کرنے سے نہیں روک سکتے"۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی کے تجزیہ نگار برگیڈیر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے کہا کہ "پاکستانی افواج نے شمالی وزیرستان کو صاف کرنے کے لیے بہت سے آپریشن کیے ہیں اور انہیں ہمیشہ عسکریت پسندوں نے نشانہ بنایا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ سیکورٹی افواج علاقے میں اپنا راستہ بنا رہی ہیں اور جلد کنٹرول سنبھال لیں گی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

7
4
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha