http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/07/24/feature-02
| دہشتگردی

کوئٹہ میں طالبان کو نشانہ بنانے والے بم دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی

از عبدالغنی کاکڑ


مقامی باشندے جائے وقوعہ کو دیکھتے ہوئے جہاں 23 جولائی کو کوئٹہ میں داعش کی جانب سے ذمہ داری قبول کیا جانے والا بم دھماکہ ہوا تھا۔ [تصویر بشکریہ عبدالغنی کاکڑ]

مقامی باشندے جائے وقوعہ کو دیکھتے ہوئے جہاں 23 جولائی کو کوئٹہ میں داعش کی جانب سے ذمہ داری قبول کیا جانے والا بم دھماکہ ہوا تھا۔ [تصویر بشکریہ عبدالغنی کاکڑ]

کوئٹہ -- "دولتِ اسلامیہ" (داعش) نے منگل (23 جولائی) کے روز کوئٹہ میں ہونے والے اس بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے جس میں تین افراد جاں بحق اور 25 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

منگل کے روز ایک بیان میں داعش نے کہا کہ دھماکہ ایک خودکش حملہ تھا جس میں افغان طالبان کے اُن ارکان کو نشانہ بنایا گیا، جو مشرقی بائی پاس کے علاقے میں ایک دواخانے کے باہر موجود تھے۔

تاہم کوئٹہ پولیس کے سربراہ نے جواب میں کہا کہ یہ حملہ خود کش بم دھماکہ نہیں تھا۔


جون میں شائع ہونے والی اس فوٹو میں داعش کے ارکان کو پاک افغان سرحد کے قریب منصوبوں پر تبادلۂ خیال کرتے دکھایا گیا ہے۔ [فائل]

جون میں شائع ہونے والی اس فوٹو میں داعش کے ارکان کو پاک افغان سرحد کے قریب منصوبوں پر تبادلۂ خیال کرتے دکھایا گیا ہے۔ [فائل]

ایک انٹرویو مین کوئٹہ پولیس کے سربراہ عبدالرزاق چیمہ کا کہنا تھا، "یہ خودکش بم دھماکہ نہیں تھا: ایک ریموٹ کنٹرول بم ایک سائیکل میں نصب کیا گیا تھا اور وہ شیر شاہ سٹاپ کے قریب پھٹ گیا۔"

انہوں نے کہا، "[صوبائی] محکمۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تفتیشی ٹیم نے جائے وقوعہ سے تمام شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، اور یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ اس حملے کا پشت پناہ کون ہے۔"

زیادہ تر متاثرین افغان بتائے گئے ہیں

گمنام رہنے کی درخواست کرنے والے ایک ذریعے کے مطابق، حکام متاثرین کی شناخت کا تعین کرنے میں مصروف ہیں، اور ان کا ماننا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر افغان باشندے تھے۔

چیمہ نے کہا، "مشرقی بائی پاس حملے کے بعد، صوبائی دارالحکومت کی سیکیورٹی کو انتہائی چوکس کر دیا گیا ہے اور پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے ایک جامع حفاظتی منصوبے کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کر رہے ہیں۔"

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کوئٹہ کے مقامی ایک اعلیٰ انٹیلیجنس افسر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "داعش نے ماضی میں ہمارے خطے میں کئی بڑے دہشت گرد حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے، اوریہ تنظیم دیگر الحاق شدہ دہشت گرد گروہوں کے ذریعے اپنی جڑیں مضبوط کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا، "بلوچستان اور صوبے کے دیگر حصوں میں انسدادِ دہشت گردی کی جاری کارروائیوں میں، داعش کو بہت بڑا دھچکا لگا تھا اور اس عسکری تنظیم کے کئی علاقائی رہنماؤں کو مختلف کارروائیوں میں بے اثر کر دیا گیا تھا۔"

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں، داعش نے کئی افغان مہاجرین کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

انہوں نے کہا، "ہماری تحقیقات میں ثابت ہوا ہے کہ عسکریت پسندوں نے بنیادی طور پر ان افغان شہریوں کو نشانہ بنایا جو ملک میں باضابطہ طور پر رجسٹر نہیں تھے۔"

بدھ (24 جولائی) کو ایک بیان میں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان، جام کمال نے کہا کہ انہوں نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کو ہدایات دی ہیں کہ صوبے میں انسدادِ دہشت گردی اور مخبری کی بنیاد پر کارروائیوں کو بڑھایا جائے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha