http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/07/19/feature-03
| سلامتی

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی طرف سے تیل کے ٹیکنر پر قبضے سے گلف کشیدگی میں اضافہ

سلام ٹائمز اور اے ایف پی

ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے 18 جولائی کو آبنائے ہرمز میں تیل کے ایک ٹینکر کو قبضے میں لیا ہے۔ 2012 کی اس تصویر میں تیل کے ایک ٹینکر کے سامنے ایران کی سپیڈ بوٹس کو دکھایا گیا ہے۔ [عطا کنارا/ اے ایف پی]

واشنگٹن، ڈی سی -- واشنگٹن کا کہنا ہے کہ گلف کے علاقے میں جمعہ (19 جولائی) کو کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب امریکی بحریہ نے اس ایرانی ڈرون کو مار گرایا جو آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی بحری جہاز کو دھمکا رہا تھا۔

خیال ہے کہ یہ بڑھتے ہوئے سنگین واقعات کے ایک سلسلے کے بعد، امریکہ کا ایران کے ساتھ پہلا فوجی مقابلہ تھا۔

پنٹاگان کے ترجمان جونتھن ہوفمین نے کہا کہ یو ایس ایس باکسر جو کہ پانی اور زمین پر چلنے والا جنگی جہاز ہے، نے جمعرات (18 جولائی) کو ایرانی ڈرون کے خلاف "دفاعی قدم اٹھایا" تاکہ "جہاز اور اس کے عملے کی حفاظت" کو یقینی بنایا جا سکے۔

ایرانی فوج کے اہلکار سترہ جولائی کو ایک ڈرون پر کام کر رہے ہیں۔ [دیفاپریس]

اس کے علاوہ جمعرات کو، ایران کی سپاہِ پاسدرانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی ایس) نے کہا کہ اس نے ایک "غیر ملکی ٹینکر" اور اس کے عملے کے 12 ارکان کو پکڑا ہے جو مبینہ طور پر تیل اسمگل کر رہا تھا۔

آئی آر جی ایس کے کہنا ہے کہ اس جہاز کو ایرانی جزیرے لارک کے جنوب میں پکڑا گیا مگر انہوں نے نام یا ماخذ کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں دیں۔

جمعرات کو، ایرنی ٹیلی ویژن نے ایسی فوٹیج جاری کی جس میں بظاہر ایسی گشتی کشتیوں کو ایک ٹینکر جس پر "ریا" اور "پاناما" لکھا تھا، کے گرد چکر لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جنہیں آئی آر جی ایس استعمال کرتی ہے۔

آئی آر جی ایس کو،دنیا بھر میں کئی دیہائیوں سے مُعاندانہ کام کرنے کے بعد، اپریل میں ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا۔

ایرانی حکومت پر حملوں کے ایک سلسلے کا الزام لگانے کے بعد، یو ایس سینٹرل کمانڈ کے سربراہ چیف جنرل کنیتھ مکینزی نے جمعرات کو، گلف کے اسٹریجک پانیوں میں "جارحانہ طور پر" کام کرنے کا عہد کیا تاکہ بحری حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

"ہم اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر انتہائی جارحانہ طور پر کام کریں گے۔۔۔تاکہ ایک ایسے نتیجہ پر پہنچا جا سکے جو۔۔۔علاقے سے۔۔۔ تیل اور دیگر املاک کو آزادانہ طور پر گزرنے کو یقینی بنائے"۔

ایران کا نیوکلیائی افزدگی کا منصوبہ

دریں اثنا، امریکہ کی وزارتِ خزانہ نے جمعرات کو ایران، بلجیم اور چین سے تعلق رکھنے والے کمپنیوں کے ایک گروپ کو، تہران کے نیوکلیائی افزدگی کے پروگرام کے لیے فراہمی کے نیٹ ورک کے طور پر کام کرنے پر، اپنی پابندیوں کی بلیک لسٹ میں شامل کیا۔

ایرانی حکومت نے گزشتہ ہفتے 2015 کے بین الاقوامی نیوکلیائی معاہدے میں طے کی جانے والی یورینیم کی افزودگی کی حد کو پار کرنے کو تسلیم کیا تھا۔

وزارتِ خزانہ نے کہا کہ یہ کمپنیاں ایران کی سینٹریفیوگ ٹیکنالوجی کوآپریشن کے لیے خریداری کے نیٹ ورک کے طور پر کام کرتی تھیں، جو اٹامک انرجی آرگنائزیشن آف ایران کے لیے افزودہ سینٹریفیوگ بناتی ہے۔

اس نیٹ ورک کی سربراہی ایرانی ادارہ بختار راد صفہان اور اس کے غیر ملکی ساتھی کرتے ہیں۔ اس میں چین کا ادارہ ہینان جیوآن ایلومینیم انڈسٹری کوآپریشن بھی شامل ہے، جس پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔

وزارتِ خزانہ نے کہا کہ جن دوسرے اداروں پر پابندیاں لگائی گئی ہیں وہ چین اور بیلجیم میں موجود فرنٹ کمپنیاں ہیں۔

سیکریٹری خزانہ سٹیون منچن نے ایک بیان میں کہا کہ "ایران عالمی سٹیج پر خیراندیش ارادوں کا دعوی نہیں کر سکتا جبکہ وہ سینٹریفیوگز کے لیے مصنوعات خرید اور ذخیرہ کر رہا ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
4
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha
| 07-27-2019

اچھا کام

جواب