http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/07/03/feature-01
| سلامتی

تہران نے یورینیم کی افزودگی کو روکنے کے لیے عالمی مطالبے کو نظر انداز کر دیا

سلام ٹائمز اور اے ایف پی


ایران کے صدر حسان روحانی، افسران سے گھرے ہوئے، 18 اپریل کو تہران میں ایران کے سالانہ یوم فوج کے موقع پر فوجی پریڈ میں شریک ہیں۔ ایرانی حکومت، 2015 کے معاہدے میں مقرر کی گئی یورینیم کی افزودگی کی حد سے پار گزر جائے گی جس سے اس بات کا خوف پیدا ہو گیا ہے کہ وہ ایٹم بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ [اے ایف پی]

ایران کے صدر حسان روحانی، افسران سے گھرے ہوئے، 18 اپریل کو تہران میں ایران کے سالانہ یوم فوج کے موقع پر فوجی پریڈ میں شریک ہیں۔ ایرانی حکومت، 2015 کے معاہدے میں مقرر کی گئی یورینیم کی افزودگی کی حد سے پار گزر جائے گی جس سے اس بات کا خوف پیدا ہو گیا ہے کہ وہ ایٹم بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ [اے ایف پی]

تہران -- ایرانی حکومت دنیا بھر کی حکومتوں کی طرف سے اسے 2015 کے نیوکلیائی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مزید یورینیم کو افزودہ کرنے کے عمل کو روکنے کے مطالبوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔

ایران کے صدر حسان روحانی نے بدھ (3 جولائی) کو کابینہ کی ایک میٹنگ کے دوران کہا کہ "ہم یورینیم کی افزدگی کی سطح کو جتنا چاہیں اور جتنی ہمیں ضرورت ہے بڑھا سکتے ہیں۔"

ایرانی حکومت نے مزید آگے بڑھنے اور مزید نیوکلیائی وعدوں کو چھوڑ دینے کی دھمکی دی ہے اگر اس معاہدے میں ملوث کچھ ممالک اسے اپنے پر لگائی گئی پابندیوں کو جل دینے، خصوصی طور پر اسے اپنا تیل فروخت کرنے سے، میں اس کی مدد نہیں کرتے۔


ایران کی ایک دستاویزی فلم سے لی گئی تصویر میں ایران کے یورینیم کی افزدگی کے ایک کارخانے کو دکھایا گیا ہے۔ [فائل]

ایران کی ایک دستاویزی فلم سے لی گئی تصویر میں ایران کے یورینیم کی افزدگی کے ایک کارخانے کو دکھایا گیا ہے۔ [فائل]

مخالفت کی یکجا آواز

روس، چین، فرانس، جرمنی، برطانیہ اور امریکہ ان ممالک میں سے چند ایک ہیں جو ایران کو اس سرگرمی کو روکنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔

روس کے وزیرِ خارجہ سرگی لاوروف نے کہا کہ "ہم اپنے ایرانی ہم منصبوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تسلی رکھیں اور کسی بھی صورت میں، جذبات میں نہ بہہ جائیں اور آئی اے ای اے سیف گارڈ ایگریمنٹ اور اس معاہدے کے اضافی پروٹوکول کی اہم دفات پر عمل کریں"۔

لاوروف نے آئرلینڈ کے وزیرِ خارجہ سائمن کووینی کے ساتھ مذاکرات کے بعد کہا کہ "غیر افزودہ ایٹمی حکومت کو مضبوط بنانے میں اس معاہدے کی خصوصی اہمیت ہے"۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گنگ شوانگ نے منگل (2 جولائی) کو ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ "چین کو ایران کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات پر افسوس ہے"۔

گنگ نے کہا کہ "ہم تمام فریقین سے مطالبہ کریںگے کہ وہ اسے طویل المعیاد اور مجموعی نکتہ نظر سے دیکھیں، برداشت سے کام لیں اور جے سی پی او اے (نیوکلیائی معاہدے) کو قائم رکھیں تاکہ کشیدگی کی صورتِ حال میں مزید اضافہ نہ ہو"۔

یورپین یونین کی سفارتی سربراہ فریڈریکا موغیرنی اور تین ممالک کے وزرائے خارجہ -- فرانس کے ژان-ایو لو دریان، جرمنی کے ہیکو ماس اور برطانیہ کے جرمی ہنٹ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ "ہم ایران پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس قدم کو واپس لے لے اور ایمٹی معاہدے کو نقصان پہنچانے والے مزید اقدامات سے باز رہے"۔

اس میں کہا گیا کہ "ہمیں ایران کے اس فیصلے پر افسوس ہے جس سے ایٹمی غیر افزودگی کے ایک اہم آلہ کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں"۔

اپنے بیان میں فرانس کے صدر ایمینول مکرون نے کہا کہ انہیں تہران کی طرف سے 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں طے کی گئی حد سے آگے بڑھنے پر "اپنی تشویش کا اظہار کیا" اور ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حد کی خلاف ورزی کو واپس لے اور ایسے مزید اقدامات سے باز رہے جس سے اس کی نیوکلیائی ذمہ داریوں کو نقصان پہنچتا ہے"۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو متنبہ کیا کہ ایرانی حکومت "آگ کے ساتھ کھیل رہی ہے"۔

یہ خبر ایرانی فورسز کی طرف سے امریکی ڈرون کوبین الاقوامی پانیوں میں گرائے جانے اور خلیج ہرمز کے قریب بہت سے آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافے کے باوجود سامنے آئی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
12
نہیں
تبصرے 2
تبصرہ کی پالیسی
Captcha
| 07-29-2019

بڑھتے رہیں یونہی قدم حی علی خیر العمل لبیک خامنہ ای

جواب
| 07-28-2019

G me food department say ye guzarsh karta ho
Ke mehngai buhat ziada hai
Our mazdoor ka koi pursane hal nahe
Floor mils ka rate buhat kam hai
Lehaza ap ke wasatat say ye khabar pelan chahiya
Cm tak

جواب