| سفارتکاری

تاجک سفیر پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کے خواہشمند

از ظاہر شاہ شیرازی


پاکستان میں تاجکستان کے سفیر عصمت اللہ نصرالدین اور یونیورسٹی آف پشاور کے علاقائی مطالعاتی مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شبیر خان 14 جون کو یونیورسٹی میں ایک سیمینار میں شریک ہیں۔ [ظاہر شاہ شیرازی]

پاکستان میں تاجکستان کے سفیر عصمت اللہ نصرالدین اور یونیورسٹی آف پشاور کے علاقائی مطالعاتی مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شبیر خان 14 جون کو یونیورسٹی میں ایک سیمینار میں شریک ہیں۔ [ظاہر شاہ شیرازی]

پشاور -- پاکستان میں تاجکستان کے سفیر عصمت اللہ نصرالدین کا کہنا ہے کہ وسط ایشیائی ممالک پاکستان کی علاقائی امن اور معاشی ترقی میں حصہ ڈالنے کی صلاحیت کی بہت زیادہ قدر کرتے ہیں۔

14 جون کو نصرالدین نے کہا کہ تاجکستان افغانستان میں امن کی بحالی کے لیے اسلام آباد کی کوششوں کی بھرپور تائید کرتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ طویل مدتی حل صرف سیاسی عمل کے ذریعے نکل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلامی دنیا کے اندر ایک طاقتور ریاست ہے اور وسط ایشیائی جمہوریتیں، خصوصاً تاجکستان اس حقیقت سے آگاہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 1990 کے عشرے میں افغانستان پر مفادات کے ٹکراؤ نے نے علاقائی ریاستوں کے تعلقات کو نقصان پہنچایا، مگر اب وہ افغان مسئلے پر علاقائی سوچ کے بارے میں ایک ہی صفحے پر ہیں۔

نصرالدین نے کہا، "علاقائی سوچ کے ساتھ افغانستان میں ایک سیاسی تصفیہ ہی اس بحران کا واحد حل ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "علاقائی امن، خصوصاً افغانستان کی پیچیدہ صورتحال کو حل کرنے، کے لیے پاکستان کی قربانیاں بے نظیر ہیں۔"

تعلقات میں ایک نیا دور

نصرالدین نے کہا کہ دونوں ممالک کے ابلاغی روابط نیز معاشی اورتوانائی کی ضروریاتکے پیشِ نظر، پاکستان-تاجک روابط ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔

وسط ایشیاء جنوبی ایشیاء بجلی کی ترسیل اور تجارت کے منصوبے (سی اے ایس اے-1000) کے تحت پاکستان کو بجلی فراہم کی جائے گی، جو کہ سنہ 2020 تک مکمل طور پر فعال ہونا متوقع ہے۔

1.2 بلین ڈالر کا زیرِ تعمیر منصوبہ تاجکستان اور کرغیزستان سے اضافی پن بجلی پاکستان اور افغانستان کو برآمد کرنے کے قابل بنائے گا۔ منصوبے کا سنگِ بنیاد 12 مئی 2016 میں رکھا گیا تھا۔

انہوں نے کہا، "گرمیوں میں تاجکستان سے 1،300 میگا واٹ اضافی بجلی پاکستان کی ضروریات کو پورا کر سکتی ہے، اور وہی بجلی سردیوں میں ہماری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے واپس تاجکستان کو منتقل کی جا سکتی ہے،" اس پر انہوں نے گزشتہ دسمبر میں پاکستان کے 1،000 میگا واٹ بجلیخریداری کے اصل معاہدے میں معکوس بہاؤ کی شق کے تحتتاجکستان کو برآمد کرنے کے فیصلے کا حوالہ دیا۔

دریں اثناء، نصرالدین نے کہا کہ تاجکستان پاکستانی بندرگاہیں استعمال کر رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا سالانہ حجم 62 ملین ڈالر سے بڑھ کر 100 ملین ڈالر ہو جائے گا۔

سفیر نے کہا کہ تاجکستان قازقستان، پاکستان، چین اور کرغیزستان کے درمیان چو طرفہ ٹریفک در عبوری معاہدہ(کیو ٹی ٹی اے) میں شامل ہونے کے لیے بیتاب ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیو ٹی ٹی اے رابطہ جنوب مشرقی ایشیاء کو وسطی ایشیاء کے ذریعے یورپ کے ساتھ ملانے میں سہولت پیدا کرے گا۔

تعلیمی روابط

14 جون کو یونیورسٹی آف پشاور میں بات کرتے ہوئے نصرالدین نے دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلیمی روابط کی ضرورت پر زور دیا۔

"پاک-تاجک تعلقات: تعلیمی اداروں کے روابط کو بہتر بنانا" پر ان کے لیکچر کے بعد، تاجک اور پاکستانی حکام نے تاجکستان کے صدر کے تحت تزویراتی تحقیقی مرکز اور یونیورسٹی آف پشاور کے علاقائی مطالعاتی مرکز کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کے مسودے پر دستخط کیے۔

علاقائی مطالعاتی مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شبیر خان نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کو وسطی ایشیاء کی ثقافتی توسیع تصور کیا جاتا تھا، اور اب پاکستان کا مستقبل خصوصاً چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تعمیر میں پیش رفت ہونے سے، وسطی ایشیاء میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان وسطی ایشیاء کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔

خان نے کہا، "پاکستان اور وسطی ایشیاء کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی، تزویراتی اور اقتصادی تعلقات کی حوصلہ افزاء علامات ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

2
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha