| سلامتی

ایران کی زینبیون برگیڈ کی پاکستانی تارکینِ وطن اور زائرین پر نظریں

عبدالغنی کاکڑ


ایران کے محافظینِ انقلاب کی طرف سے شام میں لڑتے ہوئے ہلاک ہونے والے ایک پاکستانی کے جنازے کے دوران 13 جون کو جلوس کے شرکاء زینبیون برگیڈ کے پرچم اٹھائے ہوئے ہیں۔ [ایرانی وزارتِ دفاع]

ایران کے محافظینِ انقلاب کی طرف سے شام میں لڑتے ہوئے ہلاک ہونے والے ایک پاکستانی کے جنازے کے دوران 13 جون کو جلوس کے شرکاء زینبیون برگیڈ کے پرچم اٹھائے ہوئے ہیں۔ [ایرانی وزارتِ دفاع]

کوئٹہ – ایران کی لشکرِ محافظینِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کی حمایت کے لیے لڑنے والی، پاکستانیوں پر مشتمل ملشیا، زینبیون برگیڈ میں بھرتیوں کے لیے پاکستانی تارکینِ وطن اور زائرین کو ہدف بنائے ہوئے ہے۔

جنوری میں امریکی محکمہٴ خزانہ نے "اس حکومت کی جانب سے دنیا بھر میں دہشتگردی اور بدامنی برآمد کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے غیر قانونی نیٹ ورکس کو بند کرنے" کی کاوشوں کے جزُ کے طور پرزینبیون برگیڈ کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود زینبیون برگیڈ اپنے جغرافیائی-سیاسی اور تضویری مفادات کے لیے پاکستانی شعیہ افراد کی بھرتیوں میں اضافہ کر رہا ہے۔


سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ایک جڑی ہوئی تصویر میں ایک زینبیون جنگجو دکھایا گیا ہے جو یروشلم میں مسجدِ الاقصیٰ کی جانب دیکھ رہا ہے۔ [فائل]

سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ایک جڑی ہوئی تصویر میں ایک زینبیون جنگجو دکھایا گیا ہے جو یروشلم میں مسجدِ الاقصیٰ کی جانب دیکھ رہا ہے۔ [فائل]

ماضی میں نفاذِ قانون کی ایک ایجنسی میں انسدادِ دہشتگردی کے ایک عہدہ پر کام کرنے والے کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ایک دفاعی عہدیدار خالد نبیل نے کہا، "ہماری اطلاعات کے مطابق، ایرانی زینبیون برگیڈ کے ایران کے علاقہ زائدان میں مضبوط قدم ہیں، جو پاک-ایران سرحد کے قریب ہے، اور یہ بنیادی طور پر زیارات یا کام کے ویزا پر ایران میں داخل ہونے والے پاکستانی شعیہ نوجوانوں کو ہدف بناتی ہے۔"

انہوں نے کہا، "ابتدائی طور پر [آئی آر جی سی] کے خفیہ کارندے پاکستان اور افغانستان سے ایران میں داخل ہونے والے بے روزگار شعیوں کو ملازمت کی پیشکش کرتے ہیں۔"

نبیل نے کہا، "ہر سال پاکستان سے40,000 سے زائد شعیہ زائرینمقدس مقامات کی زیارت کے لیے ایران کا دورہ کرتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "پاکستان نے اپنی سزمین پر غیر ملکی اثرورسوخ کی انسداد کے لیے نہایت نتیجہ خیز حکمتِ عملی مرتب کی ہے، اور اب زائرین روانگی اور واپسی پر ایک جامع سیکیورٹی مکانزم سے بھی گزرتے ہیں۔"

نبیل نے کہا، "بلاشبہ ایران ہماری سرزمین پر اپنے نائبین کو استعمال کر رہا ہے، لیکن جیسا کہ ماحول بدل رہا ہے، ایرانی حکومت بھی پاکستانی شعیہ اقلیت پر اپنا رسوخ پیدا کر رہی ہے۔"

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیدار نے اپنی شناخت صیغہٴ راز میں رکھے جانے کی شرط پر بتایا، "ہماری تحقیقات میں تصدیق ہوئی ہے کہ عسکریت پسند گروہ زینبیون برگیڈ نے اب پاکستان میں جنگجوؤں کی بھرتیوں کی حکمتِ عملی تبدیل کر دی ہے۔"

انہوں نے کہا، "قبل ازاں بھرتیاںپاکستان میں ہوتی تھیں، لیکن کریک ڈاؤن اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کے بعد، اب یہ عمل ایران میں ہو رہا ہے۔"

اس عہدیدار کے مطابق، پاکستان میں سیکیورٹی ایجنسیاں زینبیون برگیڈ اور شعیہ جنگجوؤں کی بھرتیوں میں ملوث دیگر گروہوں کی انسداد کے لیے کام کر رہی ہیں۔

ایک ’نائبین کا کھیل‘

اس عہدیدار نے کہا، "ایران ہمسایہ پاکستان اور افغانستان میں نائبین کا ایک بڑا کھیل کھیل رہا ہے، اور وہ خطے میں اپنے ایجنڈا کے لیے کام کرنے والے شعیہ گروہوں کے ذریعے اپنے رسوخ میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہمارے پاس اطلاعات ہیں کہ ایران، اپنے جاری بحران کے بعد اپنی امریکی معاشی پابندیوں کے دوران اپنی دوطرفہ تجارت اور اپنے معاشی مفادات کو منفعت پہنچانے والے دیگر تعلقات کو ہموار کرنے کے لیے ہماری سرزمین پر اپنے نائبین کو استعمال کر رہا ہے۔"

اس عہدیدار نے کہا، "گزشتہ چند برسوں میں ایرانی فوج کے ساتھ منسلک متعدد کلیدی ملزمان کوپاکستان کے مختلف حصوں سے گرفتار کیا گیااور وہ ابھی تک مزید تحقیقات کے لیے زیرِ حراست ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم کسی گروہ یا ملک کو کسی بھی عسکری مفاد کے لیے اپنی سزمین استعمال کرنے کی اجازت کبھی نہیں دیں گے۔"

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر دفاعی تجزیہ کار میجر (ریٹائرڈ) عمر فاروق نے کہا، "بے روزگار شعیہ نوجوان زینبیون برگیڈ کا مرکزی ہدف ہیں۔"

فاروق نے کہا، "پاکستان میں ایرانی رسوخہمیشہ ہمارے سیکیورٹی نظام کے لیے ایک کلیدی خدشہ رہا ہے۔۔۔ اس معاملہ کو ایرانی حکومت کے پاس سفارتی سطح پر لے جانا ضرورتِ وقت ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہمیں کسی ملک کو اپنی سیاسی صورتِ حال سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دینی چاہیئے۔۔۔ ایران پاکستان میں [شعیہ] مذہبی برادری کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔"

انہوں نے کہا، "[آئی آر جی سی] بنیادی طور پر اپنے عسکری اہداف کے حصول کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے؛ لہٰذا، ہم ایران کے جوہری لین دین پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور دیگر ممالک کی جانب سے ایران کے خلاف کیے گئے اقدامات کے خلاف اپنی شعیہ اقلیتی برادری کا بڑھتا ہوا غم وغصّہ دیکھ رہے ہیں۔"

فاروق نے کہا کہ ایران پاکستانی سنّی مسلمانوں پر بھی اپنے رسوخ میں اضافہ کر رہا ہے، انہوں نے مزید کہا، "پاکستان میں حریف سعودی عرب کے بیانیہ اور ہدف کی انسداد ایران کا مرکزی نقطہٴ ارتکاز ہے۔"

فاروق کے مطابق، تہران کی ہدایات پر شام اور دیگر ممالک میں جنگ میں پاکستانی شہریوں کے ملوث ہونےکی وجہ سے بین الاقوامی برادری پاکستان پر دہشتگردی کی برآمد کا الزام لگاتی ہے۔

سرحد پر قابو

لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک سیکیورٹی تجزیہ کار شانتل گرگانری کے مطابق، پاکستان کی ایران کے ساتھ سوراخ دار سرحد پر ایک جامع سیکیورٹی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، اور اس کی اہمیت کو نظرانداز کرنے سے مستقبل میں پاکستان کے لیے مزید سیکیورٹی چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "میری رائے میں پاک-ایران سرحد پر غیر قانونی نقل و حرکت پر قابو پائے بغیر زینبیون برگیڈ کی جانب سے ان جنگجوؤں کی پاکستان سے ایرن منتقلی کو روکنا کہیں مشکل تر ہے۔"

گرگانری نے کہا، "ہم پہلے ہی حالتِ جنگ میں ہیں، اور دہشتگردی کی حالیہ لہر ظاہر کرتی ہے کہ امن مخالف عناصر ملک میں ان کی مہم کو تقویت دے رہے ہیں۔ ملک میں انسدادِ دہشتگردی کے لیے کام کرنے والی نفاذِ قانون کی ایجنسیوں کو ہماری سرحدوں پر ہر حرکت پر بھی ایک چوکس نگاہ رکھنی چاہیئے۔"

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ایک سینیئر عہدیدار شفیق الرّحمٰن شنواری نے کہا، "ایران اور افغانستان کے ساتھ ہماریسرحدوں پرغیر قانونی حرکات پر قابو پاناہماری کلیدی غرض ہے، اور ہم انسانی سمگلنگ کے خلاف ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد پر ہم نے ایک مناسب سیکیورٹی تعینات کر رکھی ہے، اور ہم ایران سے اس کی اپنی جانب سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کی توقع رکھتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "ایف آئی اے کا انسدادِ انسانی سمگلنگ سیل غیر قانونی تارکینِ وطن کی ایران اور دیگر یورپی ممالک کو منتقلی میں ملوث گروہوں کی انسداد پر فعال انداز میں کام کر رہا ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہماری ٹیمیں انسانی سمگلنگ کرنے والے ان گروہوں کے خلاف سخت کاروائیاں کر رہی ہیں جن کے امن مخالف عناصر کے ساتھ روابط ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستانی حکام نے غیر قانونی تارکینِ وطن اور ممکنہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی ایک بڑی تعداد کو گرفتار کیا ہے جو یا تو پاکستان واپس آنے یا ایران جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

71
30
نہیں
تبصرے 4
تبصرہ کی پالیسی Captcha
| 06-26-2019

من گھڑت اور گمراہ کن۔۔

جواب
| 06-25-2019

بالکل یہ سچ ہے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ہے شام اور عراق میں پڑاچنار کے رہنے والے وحشی اس میں مر گیا ہے سوشل میڈیا پر بھی اس کی تصویریں موجود ہے دیکھو سوشل میڈیا پر یہ وہاں جاکر مظلوم مسلمانوں پر ظلم کر رہا ہے بشر الاسد خنزیر کی حمایت پر اور پھر کہتے ہیں کہ ہم زایر ت کی حفاظت کے لیے جا کے وہ لڑتے ہیں کیا مسلمان زریرات کو مسمار کرتی ہے وہ بھی ہمارے صحابہ ہے

جواب
| 06-24-2019

بکواس تحریر اس میں تعصب کے سوا کچھ نہیں

جواب
| 06-24-2019

بنیادی طور پے یہ مضمون کسی سعودی یا امریکی ایجنیٹ کے بیمار اور شیعہ اور ایران دشمنی کی عکاسی کرتا ہے، اس میں غلط اعداد و شمار بیان کیے گئے ہیں جیسے پاکستان سے ایران جانے والے زائرین کی تعداد 40000 نہیں بلکہ ایک کروڑ سے زائد ہے۔ باقی جہاں تک مقدس مکامات کی حفاظت کے لیے پاکستانی جوانوں کا شام جانا ہے وہ ایران یا شام کا ایجنڈہ نہیں بلکہ انکی مذہبی ذمہ داری تھی اور ہر مسلمان پے مقدس مکامات چاہیے وہ سعودی عرب میں ہوں یا فلسطین ایران شام اور عراق میں ہوں ان کی حفاظت واجب ہے۔ یہ ایک شر انگیز مضمون ہے جس میں شیعہ کو پاکستان مخالف سمجھا گیا حالنکہ پاکستان کے شعیہ کے لیے پاکستان کی محبت اور وفاداری ان کے ایمان کا حصہ ہے۔

جواب