http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/06/14/feature-02
| صحت

عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے سندھ میں ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے مزید کارروائی کا مطالبہ

از اشفاق یوسفزئی

صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں رتو ڈیرو میں ایک سرکاری ہسپتال میں محکمۂ صحت کا ایک اہلکار 9 مئی کو ایچ آئی وی کی جانچ کے لیے ایک بچے کے خون کا نمونہ لیتے ہوئے۔ [رضوان تبسم/اے ایف پی]

اسلام آباد -- عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو تباہ کرنے والے وائرس (ایچ آئی وی) کی وباء کے علاج کے لیے مزید کارروائیاں کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

ضلع لاڑکانہ میں رتو ڈیرو شہر سے تعلق رکھنے والے درجنوں بچوںکی 24 اپریل کو وائرس کے لیے جانچ مثبت آئی تھی۔

حکومتِ پاکستان کی جانب سے عالمی ادارۂ صحت کو وباء کی تفتیش کرنے کی درخواست کے بعد، سات تکنیکی ماہرین کی ایک ٹیم، ڈاکٹر ماہیپالا پالیتھا کی سربراہی میں، 29 مئی کو رتو ڈیرو پہنچی تھی اور وباء کو "درجہ 2 کی ہنگامی حالت" قرار دیا تھا جو عالمی ادارۂ صحت کے درمیانے درجے کے بین الاقوامی ردِعمل کی متقاضی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی ایک ٹیم 30 مئی کو کراچی میں گورنر سندھ عمران اسماعیل (بائیں سے چوتھے) سے ملاقات کرتے ہوئے۔ [عالمی ادارۂ صحت]

سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں 30 مئی کو ایک بینر پر دکھایا گیا ہے کہ ایچ آئی وی کے خلاف حفاظتی اقدامات کیسے کرنے ہیں۔ [عالمی ادارۂ صحت]

3 جون کو جاری ہونے والی اپنی ابتدائی رپورٹ میں، عالمی ادارۂ صحت نے کہا کہ 26،713 افراد کی ایچ آئی وی کے لیے چھان بین کی گئی تھی۔ ایک حتمی رپورٹ 14 جون کو جاری ہونا متوقع ہے۔

جانچے گئے افراد میں سے کوئی 751، بشمول 604 بچے، کا نتیجہ مثبت آیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق، جن افراد میں جانچ کا نتیجہ مثبت آیا ہے ان میں سے صرف 324 افراد نے ایڈز سے بچاؤ کا علاج کروایا ہے۔ باقی ماندہ بچوں کے لیے علاج درکار ہے۔

ٹیم کے ایک سینیئر رکن، ڈاکٹر اولیور مورگن نے کہا، "بچوں میں یہ وباء اپنی نوعیت کا ایک بڑا واقعہ ہے اور اسے عمومی طور پر دنیا کی جانب سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہم صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت کے ساتھ قربت میں کام کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم نے محکمۂ صحت کے حکام سے کہا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں ایچ آئی وی کی چھان بین کا ایک باقاعدہ نظام متعارف کروائیں اور علاقوں میں خطرے کی زد میں آئے گروہوں کو نشانہ بنانے والے ایچ آئی وی/ایڈز کے بارے میں آگاہی اور صحت کی تعلیم دیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ صحت کی ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے 1.5 ملین ڈالر (228 ملین روپے) کی رقم درکار ہے جبکہ صرف 200،000 ڈالر (30 ملین روپے) دستیاب کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں وباء کے ممکنہ سبب کے طور پر غیر محفوظ، دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجوں؛ ماں سے بچے میں منتقلی؛ ہسپتالوں کے فضلے کی غیر مناسب تلفی اور دوبارہ استعمال؛ غیر محفوظ سوئیاں استعمال کرتے ہوئے جسم پر نقش و نگار بنانا؛ غیر محفوظ بلیڈ استعمال کرتے ہوئے مردوں کا ختنہ کرنا؛ اور متاثرہ سوئیاں استعمال کرتے ہوئے ناک اور کان چھدوانا قرار دیا گیا ہے۔

اس میں مزید ادویات، تشخیصی کٹوں، صحت کے اہلکاروں کے لیے تربیت اور معاونت اور صحت کے مراکز پر مضبوط تر انسدادی اور قابو پانے کے اقدامات کی ضرورت کا اجاگر کیا گیا ہے۔

حکومتی کارروائی

یو این ایڈز کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 150،000 بالغ اور بچے ایچ آئی وی کے ساتھ جی رہے ہیں۔

عوامی صحت پاکستان میں ایک حساس معاملہ ہے، جس نے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے پولیو کے قطرے پلانے والوں کو قتل کرنے اور ان کی صحت کی بین الاقوامی کوششوں کو تباہ کرنے کی کوششوں کے خلاف جنگ لڑی ہے۔

ایچ آئی وی کی ایک ماہر اور ڈبلیو ایچ او ٹیم کا حصہ، ڈاکٹر جومانا ہرمنز نے کہا کہ یہ خصوصاً تشویشناک ہے کہ دو ماہ سے بھی کم عرصے میں اتنی زیادہ انفیکشنز ریکارڈ کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا، "ہم بیماری کی لہر کو جلد از جلد روکنے کے لیے بہت سی تنظیموں کے اشتراک کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔"

گورنر سندھ عمران اسماعیل، جنہوں نے 30 مئی کو ڈبلیو ایچ او کی ٹیم کے ساتھ ملاقات کی تھی، نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت بیماری کے خلاف لڑنے میں مخلص ہے اور ٹیم کو تمام ضروری معاونت فراہم کرے گی اور اس کی سفارشات کا اطلاق کرے گی۔

سندھ کی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ حکام نے ڈبلیو ایچ او کے اشتراک سے ایچ آئی وی کے علاج کے لیے چار ہسپتال اور کئی چھان بین کے کیمپ قائم کیے ہیں۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے وباء کے لیے عطائی ڈاکٹروں کی جانب سے کلینکوں پر سرنجوں کے دوبارہ استعمال کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔

پی ایم اے کے سیکریٹری ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا، "ہمیں جعلی ڈاکٹروں کے خلاف چوکس ہونا ہو گا اور یقینی بنانا ہو گا کہ جراثیم کشی کردہ سرنجیں استعمال ہوں۔"

انہوں نے کہا کہ آلودہ آلات اور سرنجوں کے استعمال کو روکنے کے لیے بلڈ بینک، دانتوں کے علاج کے کلینک اور لیبارٹریوں کی پڑتال کی جانی چاہیئے۔

سجاد نے کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ مریضوں کی بالکل درست تعداد کا تعین کرنے کے لیے حساس لوگوں کی چھان بین کرنے پر توجہ دے۔

انہوں نے کہا، "اگر ہم اس معاملے پر توجہ دینے میں ناکام رہے، تو یہ بڑھ کر عوامی صحت کا سب سے بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔"

حساس غریب

کراچی کے مقامی معالج، محمد اکرم، جو علاقے میں ڈبلیو ایچ او کی ٹیم کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں نے کہا کہ ان متاثرہ لوگوں میں سے زیادہ تر غریب باشندے تھے جنہیں فوری آرام کے لیے کلینکوں پر ٹیکے لگوانے کی عادت ہے۔

انہوں نے کہا، "ہر مریض ٹیکہ لگوانا چاہتا ہے، اور غیر قانونی عطائی ڈاکٹر کئی مریضوں کے لیے وہی سرنج استعمال کرتے تھے جس سے عفونت پھیلی۔"

اکرم نے یاد دلایا کہ سینکڑوں ہیپاٹائٹس کے مرض میں بھی مبتلا ہیں۔ "مگر اس وقت، ہم ایچ آئی وی کے عوام الناس تک پھیلنے کو روکنے میں بہت زیادہ مصروف ہیں۔"

رتو ڈیرو کے ایک کسان، نصیر احمد نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ اس کا ایک تین سالہ بیٹا مارچ میں غیر تشخیص شدہ بیماری سے انتقال کر گیا تھا۔

انہوں نے کہا، "28 اپریل کو، میری دو بیٹیوں میں ایچ آئی وی مثبت نکلا۔ دونوں ماضی میں نجی کلینکوں سے ٹیکے لگواتی رہی ہیں۔"

احمد نے کہا کہ بہت سے لوگ ایسے کلینکوں پر جاتے ہیں جہاں علاج کا خرچ محض 2 ڈالر (300 روپیہ) ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha