http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/06/12/feature-02
| معیشت

معاشی استحکام کے لیے پاکستان کے نئے بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافہ، اخراجات میں کمی

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

ایک پاکستانی قانون ساز 11 جون کو اسلام آباد میں بجٹ سیشن کے دوران قومی اسمبلی سے باہر نکلتے وقت بجٹ دستاویز کے مسودے لے جاتے ہوئے۔ [فاروق نعیم/اے ایف پی]

اسلام آباد -- بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ911 بلین روپے (6 بلین ڈالر) بیل آؤٹکی ڈیل کرنے کے کچھ ہفتوں بعد، پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت نے منگل (11 جون) کو پارلیمان میں اپنا بجٹ پیش کرتے وقت مزید ٹیکس جمع کرنے اور اخراجات میں کمی کرنے کا عہد کیا ہے۔

حکومت نے سول اخراجات کو کم کرنے اور عسکری اخراجات کو اپنی جگہ برقرار رکھنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ اس نے ٹیکسوں کی مد میں 5.5 ٹریلین روپے (36 بلین ڈالر) جمع کرنے کا عہد کرتے ہوئے وسیع ہوتے مالیاتی خسارے کو روکنے کے لیے محاصل میں معقول حد تک اضافہ کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے محاصل، حماد اظہر نے منصوبے کی تفصیلات کا اعلان کرتے ہوئے کہا، "ہم نے سول بجٹ میں 5 فیصد کمی کی ہے، جبکہ عسکری بجٹ اپنی جگہ برقرار رہے گا۔"

وزیرِ اعظم عمران خان، جنہیں 10 جون جو قوم کے نام اپنے خصوصی خطاب کے سکرین شاٹ میں دکھایا گیا ہے، نے پاکستانیوں کو اپنے اثاثہ جات ظاہر کرنے کی ترغیب دی ہے۔ [پاکستان تحریکِ انصاف]

انہوں نے مزید کہا، "مالی سال 2020-2019 معاشی استحکام کا سال ہو گا۔ ہم کچھ سخت فیصلے کریں گے، اور غریب عوام کوان سخت فیصلوں کے اثرات سے بچانے کی کوشش کریں گے۔"

حماد اظہر نے یہ کہتے ہوئے کہ محاصل میں اضافہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے، نئے بجٹ میں کئی نئے ٹیکسوں اور موجودہ ٹیکسوں میں اضافے کو اجاگر کرنا جاری رکھا۔

اظہر نے کہا، "جب تک ہم اپنا ٹیکس کا نظام بہتر نہیں کرتے، پاکستان خوشحال نہیں ہو سکتا۔"

پاکستان کو کئی عشروں سے ٹیکس جمع کرنے میں دشواری کا سامنا ہے، جس میں اعداوشمار بتاتے ہیں کہ سنہ 2018 میں 200 ملین کی بڑی آبادی کے صرف تقریباً 1 فیصد نے ریٹرن جمع کروائیں۔

بجٹ پیش کرنے سے قبل، ٹیکس محاصل میں اضافہ کرنے کے مقصد سے تازہ ترین کوشش میں خان نے سوموار (10 جون) کو حالیہ ہفتوں میں دوسری بار ملکی ذرائع ابلاغ پر پاکستانیوں کو اپنے اثاثہ جات ظاہر کرنے کی ترغیب دی۔

بجٹ سیشن میں شور مچاتی حزبِ اختلاف غالب رہی، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ-نواز کے ارکان پوری کارروائی کے دوران نعرے مارتے رہے.

عمران خان کی حکومت کا پہلا بجٹ پیش کرنے سے محض ایک روز قبل حکومت نے کمزور معاشی اعداد و شمار کا تازہ ترین دور جاری کیا، جس میں موجودہ مالی سال کے لیے شرح نمو 3.3 فیصد پر گری دکھائی گئی ہے -- جو کہ 6.2 فیصد کے ہدف سے بہت نیچے ہے۔

روپے کی قدر میں بار بار کمی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کے بعدپاکستان میں بے چینی پھیل رہی ہے۔

خان کی حکومت کی جانب سے بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے اور ادائیگیوں میں توازن کے خسارے، بمع کم ٹیکس جمع ہونا اور بڑھتے ہوئے قرضے کو ختم کرنے کی ناکام کوششوں کے کئی ماہ بعد معاشی تکالیف جاری ہیں۔

آئی ایم ایف کے ساتھ بڑی مشکلوں سے کیے گئے معاہدے کو ابھی فنڈ کے بورڈ کی جانب سے حتمی طور پر منظور کیے جانے کی ضرورت ہے، اور وسیع طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ادارہ حتمی منظوری دینے سے قبل بجٹ کی تفصیلات دیکھنے کا منتظر تھا۔

نوجوانوں کی مدد کرنا، منی لانڈرنگ کا خاتمہ کرنا

تجزیہ کاروں کے مطابق، امن کا قیام اور معاشی خوشحالی ملازمتیں پیدا کرنے میں مدد کریں گے اور انجامِ کار ملک میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی کی حوصلہ شکنی کریں گے۔

حکومت نے معاشی تنزلی سے نمٹنے میں شہریوں کی مدد کرنے کے لیے کئی پروگراموں کا آغاز کیا ہے، بشمول 100 بلین روپے (674 ملین ڈالر) کاوزیرِ اعظم کا کامیاب نوجوان پروگرام جس کا مقصد پاکستانی نوجوانوں کو ملازمت کے مواقع، تعلیم اور پیشہ وارانہ مہارتیں فراہم کرنا ہے۔

اس پروگرام کے مقاصد میں سے ایک مقصد بیروزگار اور غریب نوجوانوں کو انتہاپسندوں جو حساس شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، کی جانب سے ممکنہ بھرتیسے دور رکھنا ہے۔

پشاور کے مقامی سینیئر صحافی رفعت اللہ اورکزئی نے کہا کہ وہ نئے بجٹ کے تناظر میں کرنسی کی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں۔

انہوں نے کہا، "پہلی بار، پاکستان کو احساس ہوا ہے کہ دہشت گردی کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے اسے سرحد کے آر پار کرنسی کی نقل و حرکت کو روکنا ہو گا، اور اس بجٹ میں، حکومت نے ملک میں انسدادِ منی لانڈرنگ نظام قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔"

اورکزئی نے کہا، "پاکستان کو پابندیوں کا بھی سامنا ہے، اور اگر اس نے اپنے افعال کے ساتھ عالمی برادری کو مطمئن نہ کیا، تو وہ اس کے لیے نقصان دہ ہو گا۔"

انہوں نے مزید کہا، "حکومت نے اپنی انسدادِ منی لانڈرنگ کوششوں کو مضبوط کرنے کے لیے پہلے ہی کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں الگ کولیکشن دفاتر قائم کر دیئے ہیں یہ بھی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں معاون ہو گا۔"

[عبدالناصر خان نے لاہور سے اس رپورٹ میں حصہ لیا]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
7
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha