http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/05/02/feature-02
| دہشتگردی

اقوامِ متحدہ نے مسعود اظہر کو دہشت گردوں کی عالمی فہرست میں شامل کر دیا جب چین دباؤ کے سامنے جھکا

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی


اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل، جس کی یہاں 26 اپریل کی تصویر دکھائی گئی ہے، نے چین کی طرف سے بین الاقوامی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈال دینے کے بعد، جے ای ایم کے راہنما کو اپنی دہشت گردوں کی عالمی فہرست میں ڈال دیا۔ ]اقوامِ متحدہ کی تصویر/ لوئی فیلیپی[

اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل، جس کی یہاں 26 اپریل کی تصویر دکھائی گئی ہے، نے چین کی طرف سے بین الاقوامی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈال دینے کے بعد، جے ای ایم کے راہنما کو اپنی دہشت گردوں کی عالمی فہرست میں ڈال دیا۔ ]اقوامِ متحدہ کی تصویر/ لوئی فیلیپی[

اسلام آباد -- چین کی طرف سے اس قدم کے خلاف اپنے اعتراضات کو اٹھا لیے جانے کے بعد، اقوامِ متحدہ (یو این) کی سیکورٹی کونسل کمیٹی نے بدھ (یکم مئی) کو مسعود اظہر جو کہ پاکستان میں بنیاد رکھنے والے اسلامیت پسند گروہ جیشِ محمد (جے ای ایم) کے راہنما ہیں،کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا۔

"دولتِ اسلامیہ" (داعش) اور القاعدہ پر پابندیوں کی ایک کمیٹی نے بدھ کو ایک پریس ریلیز میں القاعدہ سے تعلقات پر اظہر کے اس تعین کا اعلان کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اظہر، جو جے ای ایم کے بانی تصور کیے جاتے ہیں، کو اثاثوں کو منجمند کیے جانے، سفر پر عالمی پابندی اور ہتھیاروں پر بندش کا سامنا ہے۔ جے ای ایم اقوامِ متحدہ کی دہشت گردی کی فہرست پر 2001 سے موجود ہے۔


جیشِ محمد (جے ای ایم) کے سربراہ مسعود اظہر، 4 فروری 2000 کو ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرنے کے لیے کراچی پریس کلب پہنچ رہے ہیں۔ چین کی طرف سے اس قدم کے خلاف اپنے اعتراضات کو اٹھا لیے جانے کے بعد، اقوامِ متحدہ نے یکم مئی کو مسعود اظہر جو کہ پاکستان میں بنیاد رکھنے والے اسلامیت پسند گروہ کے راہنما ہیں، کو عالمی دہشت گردوں کی ایک فہرست میں شامل کر دیا۔ ]عامر قریشی/ اے ایف پی[

جیشِ محمد (جے ای ایم) کے سربراہ مسعود اظہر، 4 فروری 2000 کو ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرنے کے لیے کراچی پریس کلب پہنچ رہے ہیں۔ چین کی طرف سے اس قدم کے خلاف اپنے اعتراضات کو اٹھا لیے جانے کے بعد، اقوامِ متحدہ نے یکم مئی کو مسعود اظہر جو کہ پاکستان میں بنیاد رکھنے والے اسلامیت پسند گروہ کے راہنما ہیں، کو عالمی دہشت گردوں کی ایک فہرست میں شامل کر دیا۔ ]عامر قریشی/ اے ایف پی[

جے ای ایم نے کشمیر میں 14 فروری کو ہونے والے خودکش دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں 40 ہندوستانی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

اس کے بعد پاکستان اور انڈیا میں کشیدگی انتہائی بڑھ گئی تھی، اور اس کو نتیجہ ادلے بدلے کے فضائی حملوں کی صورت میں نکلا تھا جس سے ایٹمی ہتھیاروں سے مسلح دو ممالک کے درمیان مکمل لڑائی شروع ہو جانے کے خوف میں اضافہ ہوا تھا۔

اسلام آباد نے اس حملے میں کسی قسم کی شمولیت سے انکار کیا ہے۔

پاکستانی، چینی راہنماؤں میں مذاکرات

چین نے اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی کمیٹی کی طرف سے اظہر کو بلیک لسٹ کرنے کی تین کوششوں کو بلاک کر دیا تھا اور برطانیہ، فرانس اور امریکہ کی طرف سے مارچ میں کی جانے والی چوتھی کوشش پر تکنیکی ہولڈ لگا دیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے سفارت کاروں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کمیٹی کے پاس ایک بار پھر درخواست جمع کروائی گئی اور چین نے اظہر کو بلیک لسٹ کرنے کے قدم کی مخالفت نہیں کی۔ کسی بھی فرد یا گروہ کو اقوامِ متحدہ کی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کے کسی بھی فیصلے کے لیے کمیٹی کی باہمی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔

پابندیوں کی کمیٹی کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، اظہر کو جے ای ایم کی طرف سے کی جانے والی سرگرمیوں کے لیے "مالیات، منصوبہ بندی، سہولت کاری، تیاری اور مجرمانہ کاموں میں شرکت کرنے" پر دہشت گردی سے جوڑا گیا ہے۔

اظہر کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ چین کے صدر زی جنپنگ کی طرف سے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ گزشتہ ہفتے بیجنگ میں ایک کانفرنس کے موقع پر ہونے والی بات چیت کے بعد ہوا ہے۔

فرانس، جس نے مارچ میں اظہر پر اپنی طرف سے پابندیاں نافذ کی تھیں، نے بھی اس فیصلے کے خوش آمدید کہا اور زور دیا کہ اس نے کئی سالوں سے جے ای ایم کے راہنما کو اس فہرست میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔

مارچ کے آخیر میں اقوامِ متحدہ نے اظہر کو بلیک لسٹ کرنے کے لیے سیکورٹی کونسل کی ایک قرار داد کا مسودہ پیش کیا تھا، جس سے چین پر اس سلسلے میں دباؤ بڑھ گیا تھا کہ وہ ان پابندیوں پر اپنی مخالفت ختم کر دے۔

جے ای ایم پاکستان، علاقے کے لیے خطرہ

سیکورٹی کے تجزیہ نگاروں نے اس قدم کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ اس سے علاقائی ممالک کو بین الملکی عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے خطرے کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک محقق حبیب رحمان، جو پاکستانی انتہاپسندی پر توجہ مرکوز کرتے ہیں نے کہا کہ "جے ای ایم کو ایک دہشت گرد گروہ قرار دیے جانے کے قدم کو بلاک کیے جانے پر چین پر انتہائی شدید عالمی تنقید کی جا رہی تھی"۔

رحمان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ اس فیصلے سے پاکستان، انڈیا اور افغانستان کو بین المکی عسکریت پسندی کے خطرے کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ "ان ممالک کو اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے اور اظہر کو بلیک لسٹ کیے جانے کے لیے بین الاقوامی حمایت، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت اہم ہے"۔

پاکستان کے سیکورٹی کے اہلکاروں نے کہا کہ جے ای ایم بذاتِ خود پاکستان کے لیے سیکورٹی کا خطرہ ہے۔

ایک پاکستانی سیکورٹی اہلکار نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسوب کمانڈروں اور ارکان کی بڑی تعداد، جیسے کہ عصمت اللہ معاویہ جو اس دہشت گرد گروہ کی پنجاب کی شاخ کے سربراہ ہیں اور عدنان رشید جو کہ جیل توڑنے کے واقعات میں ملوث اہم عسکریت پسند ہیں، جے ای ایم کے ارکان رہے ہیں"۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے کہا کہ "پاکستان فوری طور پر پابندیاں نافذ کرے گا" جے ای ایم کے راہنما پر "جیسا کہ اقوامِ متحدہ کے کیسوں کی صورت میں ہمیشہ کیا گیا ہے"۔

]کراچی سے ضیاء الرحمان نے اس رپورٹ کی تیاری میں حصہ لیا۔[

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
39
نہیں
تبصرے 2
تبصرہ کی پالیسی
Captcha
| 05-11-2019

اگر اقوام متحدہ کو کشمیر کے اندر جیش محمد کی کارروائیاں پسند نہیں ہے تو کیا جو انڈین فوج کر رہی ہے وہ کروایا پر متحدہ کو پسند ہے اور اقوام متحدہ نے اس سلسلے میں کشمیر کی قرارداد کا کیا حشر کیا ابھی تک

جواب
| 05-04-2019

اقوام متحدہ کو کشمیر مین انڈین فوج کی دشھت گردی نظر نھی ارھی۔۔امریکہ اور نیٹو کی دھشت گردی نظر نھی ارھی۔۔مسعود اظھر اگر اپنے مسلمانو کے لیے لڑ رھا ھے۔۔تو کیسی دھشت گری ھوگہی۔۔۔تف ھے ایسے اقوام متحدہ پر۔۔۔۔۔۔۔

جواب