| سفارتکاری

پاکستان ایرانی سیلاب زدگان کی مدد کر رہا ہے جبکہ تہران بیرونِ ملک دہشت گردی کی سرمایہ کاری کو جاری رکھے ہوئے

پاکستان فارورڈ


ایرانی شہری 9 اپریل کو خوزستان صوبہ کے علاقے سوزنگرد میں خوراک لینے کے لیے ہلالِ احمر کے ہیلی کاپٹر کے گرد اکٹھے ہیں۔ ]عطا کناری/ اے ایف پی[

ایرانی شہری 9 اپریل کو خوزستان صوبہ کے علاقے سوزنگرد میں خوراک لینے کے لیے ہلالِ احمر کے ہیلی کاپٹر کے گرد اکٹھے ہیں۔ ]عطا کناری/ اے ایف پی[

اسلام آباد -- پاکستان نے سیلاب زدہ ایران کی مدد کرنے کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد بھیجی ہے، جس نے ایرانی حکومت کے اس فیصلے کے منفی نتائج آشکار ہوئے ہیں کہ وہ اپنے ہی ملک کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرنے کی بجائے علاقے میں عسکریت پسندی کو امداد دینا جاری رکھے گا۔

پاکستان کے دفترِ حارجہ نے بدھ (10 اپریل) کو کہا کہ آفات کے انتظامات کی ملکی اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 23 ٹن سے زیادہ امداد ایران بھیجی ہے۔

بیان کے مطابق، یہ کھیپ جو کہ دو حصوں پر مشتمل ہے میں 500 ٹینٹ، 3,300 کمبل اور ہنگامی طبی امدد کی کٹس شامل ہیں۔


فضاء سے 9 اپریل کو لی گئی تصویر میں کرون دریا نظر آ رہا ہے جو ایران کے خوزستان صوبہ کے دارالحکومت اہواز میں اپنے پشتے توڑ کر باہر نکل آیا۔ ]عطا کناری/ اے ایف پی[

فضاء سے 9 اپریل کو لی گئی تصویر میں کرون دریا نظر آ رہا ہے جو ایران کے خوزستان صوبہ کے دارالحکومت اہواز میں اپنے پشتے توڑ کر باہر نکل آیا۔ ]عطا کناری/ اے ایف پی[


ایک ایرانی شہری حالیہ سیلاب میں سیلاب کے پانی کو اپنے علاقے میں داخل ہوتا ہوا دیکھ رہا ہے۔ ]سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی تصویر[

ایک ایرانی شہری حالیہ سیلاب میں سیلاب کے پانی کو اپنے علاقے میں داخل ہوتا ہوا دیکھ رہا ہے۔ ]سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی تصویر[

پہلی شپمنٹ بدھ کی صبح اہواز، ایران کو روانہ کر دی گئی۔

خان نے اتوار (7 اپریل) کو ایران کے شہریوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کیا اور کہا کہ ان کی حکومت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہر قسم کی امداد فراہم کرنے کو تیار ہے۔

ڈان نے خبر دی ہے کہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ایرانی ہم منصب جاوید ظریف کو پیغام دیا کہ پاکستان دو جہاز بھر کر امدادی سامان بھیجے گا۔

ایران کی ہنگامی حالات کی تیاری

سیلاب اور طوفانی بارشیں جنہوں نے حالیہ ہفتوں میں ایران کے بڑے حصے کو نشانہ بنایا، نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے اور کافی جانی نقصان ہوا ہے۔ ایران کے 31 میں سے 11 صوبوں میں سیلاب سے متعلقہ اموات کی اطلاع ملی ہے اور مارچ سے شروع ہونے والے طوفان کے نتیجہ میں تقریبا 62 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس سیلاب سے ایران کی حکومت کی کمزوریاں بھی آشکار ہو گئی ہیں اور جیسا کہ بہت سے مشاہدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور قدرتی آفات کی تیاری کی بجائے، اپنے بیرونی سیاسی ایجنڈا پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔

مصر میں علاقائی اور اسٹریجک اسٹڈیز کے الشارق سینٹر کے ایک محقق فتح السید نے کہا کہ ایرانی حکام نے "قومی خزانے کو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی ایس) کے بیرونِ ملک منصوبوں کو سرمایہ فراہم کرنے سے ایسا کیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت نے "ایسے ہنگامی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے درکار ضروری منصوبوں کو تیار کرنے کی بجائے" اپنے مسلح ملحقہ اداروں کو سرمایہ فراہم کرنے کا انتخاب کیا ہے"۔

پیر کو، امریکہ نے آئی آر جی سی کی طرف سے دنیا بھر میں کئی دہائیوں سے ضرر رساں کاموں کو جاری رکھے جانے کے بعد، اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔

آئی آر جی ایس کا گزشتہ کئی دیہائیوں سے تعلق مشرقِ وسطی اور اس سے آگے ہونے والے بہت سے دہشت گردانہ واقعات سے جوڑا گیا ہے، اس نے علاقے بھر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حمایت کی ہے اور ملک کے اندر اس نے بھرپور سیاسی اور معاشی اثر و رسوخ حاصل کیا ہے اور کچھ تخمینوں کے مطابق وہ ایران کی تقریبا آدھی معیشت کو کنٹرول کرتے ہیں۔

مصر کے ابنِ ال ولید اسٹڈیز اینڈ فیلڈ ریسرچ سینٹر کے نیو میڈیا ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر میزن ذکی نے کہا کہ "جب سے سیلاب کے نتائج کا پتہ چلا ہے، ایران میں عوام کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے"۔

انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایرانی شہری پہلے ہی معیشت کے تباہ ہو جانے اور بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی بے روزگاری کے نتائج بھگت رہے ہیں کہا کہ سوشل میڈیا ایسے تبصروں اور تصاویر سے بھر گیا جو عوام کے غصے کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔

ذکی نے کہا کہ تبصرے "بے گھر ہو جانے والے شہریوں کے لیے اصل امداد کی موجودگی، متاثرہ علاقوں میں حکومتی اداروں کی غیر موجودگی اور اتنے بڑے پیمانے پر تباہی کے باجود حکومتی اداروں کا ان کی مدد کرنے میں ناکام ہو جانا" ظاہر کرتے ہیں۔

الزام دوسروں پر لگانے کی کوشش

جیسے جیسے تباہی کی وسعت واضح ہوتی جا رہی ہے، وزیرِ خارجہ ظریف نے ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کی اور سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ میں امریکی پابندیوں کو امدادی ہیلی کاپٹروں کی غیر موجودگی کا ذمہ دار قرار دیا۔

مگر امریکہ کے سیکٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے اس الزام کو لینے سے انگار کیا اور واضح کیا کہ یہ پابندیاں تباہی کی حقیقی امداد میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہو سکتی ہیں۔

پومپیو نے ایک بیان میں کہا کہ "سیلاب نے ایک بار پھر شہری منصوبہ بندی اور آفات کی تیاری کے سلسلے میں ایرانی حکومت کی بد انتظامی کی سطح کو ظاہر کر دیا ہے"۔

پومپیو نے کہا کہ "حکومت بیرونی اداروں کو ذمہ دار قرار دیتی ہے جبکہ درحقیقت یہ ان کی بدانتظامی ہے جس کا نتیجہ اس تباہی کی صورت میں نکلا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "امریکہ ہلالِ احمر اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی تنظیموں کی مدد کرنے اور سرمایہ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے جو کہ پھر امداد کے لیے ایران کی ہلالِ احمر کو دیا جائے گا"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

49
58
نہیں
تبصرے 15
تبصرہ کی پالیسی Captcha
Comment bubble | 04-23-2019

oye page waloo baaz ao
jhooto pay allah key lanaat hoo

جواب
Comment bubble | 04-23-2019

اگر ایران نے ہر کسی کو شعیہ بنانے کی ناکام کوششوں کی بجائے اپنی عوام اور بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری کر لی ہوتی تو اس کے لوگ اس طرح سے مشکلات میں نہ ہوتے جیسے وہ اب ہیں۔ ایران ایک ناکام ریاست ہے اور اس کے عوام اور معیشت انتہائی قابلِ رحم حالت میں ہیں۔ ایک ایرانی تمن 300 سے زائد پاکستانی روپوں کے برابر ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اپنے خیر خواہ پاکستان سمیت اپنے ہمسایہ ممالک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ یہ ایک ایسا احسان فراموش اور ناشکرگزار ملک ہے کہ یہ اسرائیل کے بہترین دوست بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف سازشیں کرتا ہے، جو ایران کو بھارت اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ساتھ دہشتگرد ملک بناتا ہے۔

جواب
Comment bubble | 04-20-2019

شرم کرنی چاہیئے تمہیں. یہ مضمون لکھنے سے پہلے یہ سوچ لو کہ یہ آفت پاکستان پہ بھی آ سکتی ہے تو کیا یہی بات پاکستانی حکمرانوں کو اگر امریکہ یا بھارت کہہ دے تو تمہیں کیسا لگے گا؟قدرتی آفات آنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ کسی ملک کا انفراسٹرکچر کمزور تھا. جاپان جیسا ملک بھی چند سال قبل تباہ حال ہو گیا تھا انہی آفات کی وجہ سے حالانکہ جاپان دنیا کا جدید ترین ملک ہے.

جواب
Comment bubble | 04-17-2019

Jhoot k koi peer nahi hotay jtna mrzi jhoot bol lo IRAN per Allah ki rehmat thi, ha r hmesha rhegi...
Agr suchy ho to ilzam saboot k sath lagaya kro... Baki defence ka haq her mulk ko hai... Usk lie wo apni army ko he strong krega...!!!

جواب
Comment bubble | 04-16-2019

نہیں

جواب
Comment bubble | 04-16-2019

تمھاری مثال چور مچائے شور والی ہے ساری دنیا نے تو دہشتگردی کا سرٹفیکیٹ تو تمھے دیا ہوا ہے جس کی مثال کوئٹہ کا حالیہ بم دہماکہ ہے تمھارے پالتو کتے اب بھی دہشتگردی میں مصروف ہیں اور بدنام ایران کو کررہے ہو تم لوگوں کا کام پیسے لے کر لوگوں کو گمراہ کرنا ہے تم لوگ بخشو ہو اور ہمیشہ بخشو ہی رہوگے اللہ کی لعنت ہو تم پر

جواب
Reply comment | 04-20-2019

Bhaiii iran sirf indian dehsht grd kalbhoshn k mamly pe jwab de de

جواب
Comment bubble | 04-16-2019

Jhutoon pay Allah ki Lanat

جواب
Comment bubble | 04-15-2019

سب سے بڑا دہشت گرد امریکہ و اسرائیل ہیں جو خطے میں بد امنی پھیلا رہے ہیں آئی آر جی سی کیونکہ انقلاب اسلامی کی محافظ فوج ہے ان کا مقصد صرف ایران نہیں بلکہ پورے عالم اسلام میں اسلام کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنانا ہے اور یہ کافروں, یہودیوں کے گلے میں ہڈی بن گئی ہے انشاءاللہ امریکہ و اسرائیل کے سارے حربے ناکام ہو گ
مردہ باد مردہ باد
امریکہ و اسرائیل مردہ باد

جواب
Comment bubble | 04-15-2019

مکمل طور پر ایران مخالف، سعودی لابی کا اخبار

جواب
Comment bubble | 04-15-2019

Sharam Karo saudi funding pe Iran ko badnam kr rahy ho.agar iran dehshatgardi fela raha ha to sasudia arbia UAE yaman me dehshatgardi nai kr raha ha

جواب
Comment bubble | 04-14-2019

Tum iran say hamdardi kr rhe ho ya dushmani...

جواب
Comment bubble | 04-14-2019

iran dehshat gard mulk hai

جواب
Comment bubble | 04-13-2019

Iran Aik mazboot mulk hy yeh Allah ki traf sy imtehan hy wo apni ghaltiya Thek ker Ly gay Ager Iran deshat gardi ker Raha hay to ap K khayal ap K mazmoon sy ap ki soch ka pata chal giya hy

جواب
Comment bubble | 04-12-2019

Nhi ye mazmoon tasub pr mabni hy degar media ki trh ye shosha chorha ja raha k Iranian government badintazamm ki ximadaar hy jab K 2010 ka selaab Pakistan ko nhi bholna chahyiay

جواب