| صحت

پاکستان پولیو ویکسین کی مخالفت پر مبنی آن لائن مواد بلاک کرنے کا متلاشی

از اشفاق یوسفزئی


ویکسینیشن اہلکار 27 فروری کو قبائلی اضلاع میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتے ہوئے۔ [کے پی محکمۂ صحت]

ویکسینیشن اہلکار 27 فروری کو قبائلی اضلاع میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتے ہوئے۔ [کے پی محکمۂ صحت]

اسلام آباد -- پاکستان، دنیا کے آخری تین ممالک میں سے ایک جہاں پولیو ابھی تک ایک متعدی مرض ہے، انٹرنیٹ پر ویکسین مخالف ویڈیوز پر پابندی لگانے کی کوشش کر رہا ہے جنہوں نے قابلِ انسداد بیماری کے خاتمے کی کوششوں کو خطرے میں ڈالا ہوا ہے۔

پولیو کے خاتمے پر وزیرِ اعظم عمران خان کے ترجمان، بابر بن عطاء نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ یو ٹیوب، فیس بُک اور دیگر سائٹوں پر ویکسینز کی استعداد پر اٹھائے جانے والے بے بنیاد شکوک پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو ویکسین پلانے کی کوششوں پر مضر اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

بدر کی جانب سے 7 مارچ کو پی ٹی اے کو لکھے گئے ایک خط میں کی گئی درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "لہٰذا، ہم نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے کہا ہے کہ ویکسینیشن مہم کو بلا رکاوٹ چلانے کے لیے ایسے مواد کو ہٹانے میں مدد دے۔"


پولیو کے قطرے پلانے والا ایک اہلکار 27 فروری کو قبائلی اضلاع میں ایک بچے کو قطرے پلاتے ہوئے۔ [کے پی محکمۂ صحت]

پولیو کے قطرے پلانے والا ایک اہلکار 27 فروری کو قبائلی اضلاع میں ایک بچے کو قطرے پلاتے ہوئے۔ [کے پی محکمۂ صحت]

ایسا مواد اکثر ان دعووں پر مشتمل ہوتا ہے کہ اسلام ویکسینیشنز کی ممانعت کرتا ہے اور یہ کہ مغرب نے اسے مسلمانوں کو بانجھ بنانے کے لیے تیار کیا ہے۔

عطاء نے کہا، "فیس بُک نے ایسی ویڈیو کو محدود کرنے پر اتفاق کیا ہے، مگر ہم انہیں مکمل طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں،" انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے بھی سیل فون کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ والدین کو ویکسین کے پیغامات بھیجیں۔

انہوں نے کہا، "ہم پولیو کے خاتمے کےبالکل قریب پہنچ چکےہیں۔ ہم نے ملک بھر میں تقریباً 34 ملین بچوں کو قطرے پلائے ہیں، مگر انٹرنیٹ پر ویکسین مخالف پراپیگنڈے کی وجہ سے 300،000 بچوں کو قطرے نہیں پلائے جا سکے۔"

عطاء نے کہا کہ ویکسینز کے خلاف پراپیگنڈہ ویڈیوز پر قابو پانا مشکل رہا ہے کیونکہ ان کو تخلیق کرنے والے نامعلوم ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، "ان ویڈیوز کا مقصد ویکسینیشن میں رکاوٹ ڈالنا" اور بچوں کو پولیو سے متاثر ہونے دینا ہے۔

گمراہ کن معلومات

پشاور میں، تقریباً 50،000 لوگوں نے ویکسین سے انکار کیا ہے، کیونکہ کچھ لوگ ہنوز اس گمراہ کن معلومات پر یقین رکھتے ہیں جو انہیں انٹرنیٹ سے ملتی ہیں۔

پشاور میں متنی کے علاقے کے ایک مکین، جمیل شاہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم اسلامی تعلیمات کے خلاف نہیں جانا چاہتے جو ویکسینیشن کی ممانعت کرتی ہیں۔ میرے پاس کوئی ثبوت تو نہیں ہے، مگر میں نے انٹرنیٹ پر دیکھا ہے کہ ویکسینیشن بانجھ پن پیدا کرتی ہے۔"

پشاور کے قریب رنگ روڈ پر مقیم ایک سکول کے استاد، کاشف علی نے کہا کہ ویکسینیشن مسلمان مخالف ممالک کی جانب سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کی جانے والی ایک چال ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم کسی بھی قیمت پر ویکسینیشنز نہیں چاہتے۔"

اس کے برعکس، پاکستانی علماء ویکسینیشن کے حق میں فتاویٰ جاری کرتے رہے ہیں۔

پشاور میں کارخانو مارکیٹ میں ایک امام مسجد، مولانا محمد شفیع نے کہا، "ہم نے عوام کو بچوں کو قطرے پلانے پر مائل کرنے کے لیے کئی فتاویٰ جاری کیے ہیں۔ والدین کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بیماریوں سے بچائیں اور ان کے صحت مند مستقبل کو یقینی بنائیں۔"

شفیع نے کہا کہ علماء کا فرض ہے کہ وہ والدین کو بتائیں کہ ویکسینیشن ان کے بچوں کو پولیو اور دیگر قابلِ انسداد بیماریوں سے بچانے کے لیے بہترین انتخاب ہے۔

جنگ جاری رکھنا

پولیو کے خاتمے کے لیے قومی رابطۂ کار، رانا صفدر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ پولیو صحت کا ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے کیونکہ وائرسپاکستان، افغانستاناور نائجیریا سے کہیں بھی جا سکتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے ویکسین استعمال کرتے ہوئے سنہ 1990 میں پولیو کے سالانہ 35،000 واقعات کو کم کر کے سنہ 2019 میں صرف چار کر دیا ہے۔ یہ بچوں کو معذوریوں سے بچانے کے لیے ویکسینیشن کی متواتر مہم چلانا چاہتا ہے۔

صفدر نے کہا کہ جب تک ایک بھی وائرس موجود ہے، "یہ کسی بھی جگہ بچوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔"

انہوں نے تصدیق کی کہ پی ٹی اے فیس بُک اور ٹوئٹر کے منتظمین سے رابطہ کر رہی ہے۔

صفدر نے کہا، "تمام سوشل میڈیا کمپنیوں کو جعلی مواد کے معاملے میں بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بہت سی کمپنیاں ایسے گروپ اور صفحات کو ختم کرنے پر رضامند ہیں جو ویکسینیشنز کے متعلق گمراہ کن معلومات پوسٹ کرتے ہیں۔"

صفدر نے کہا کہ ویکسینیشن کی شرح پر بھی عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے سرگرم مخالفتکی وجہ سے اثر پڑا ہے، اور حکومت نے اس مظہر کا مقابلہ کرنے میں مدد کے لیے دینی علماء کی فہرستیں تیار کی ہیں۔

گزشتہ پانچ برسوں میں، طالبان عسکریت پسندوں نے کم از کم 60 پولیو اہلکاروں کو ہلاک کرنےکے علاوہ پولیو ویکسینیشن کے خلاف احکامات جاری کیے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

0
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha