| جرم و انصاف

خیبرپختونخوا میں زدپزیر بچوں کے تحفظ کے مقصد سے پہلی عدالت کی تشکیل

عدیل سعید اور شہزاد بٹ


16 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس پشاور میں بچوں کے تحفظ کے لیے کے پی کی پہلی عدالت کا افتتاح کرنے کے بعد پشاور کی عدالتِ عالیہ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ بچوں کے لیے بنائے گئے ایک کمرے کا معائنہ کر رہے ہیں۔ [شہزاد بٹ]

16 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس پشاور میں بچوں کے تحفظ کے لیے کے پی کی پہلی عدالت کا افتتاح کرنے کے بعد پشاور کی عدالتِ عالیہ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ بچوں کے لیے بنائے گئے ایک کمرے کا معائنہ کر رہے ہیں۔ [شہزاد بٹ]


16 مارچ کو پشاور میں بچوں کے تحفظ کی عدالت میں کھیلنے کے ایک کمرے میں بچے بیٹھے ہوئے ہیں۔ [شہزاد بٹ]

16 مارچ کو پشاور میں بچوں کے تحفظ کی عدالت میں کھیلنے کے ایک کمرے میں بچے بیٹھے ہوئے ہیں۔ [شہزاد بٹ]


16 مارچ کو پشاور میں بچوں کے تحفظ کی عدالت میں کھیلنے کے ایک کمرے میں بچے ایک بورڈ گیم کھیل رہے ہیں۔ [شہزاد بٹ]

16 مارچ کو پشاور میں بچوں کے تحفظ کی عدالت میں کھیلنے کے ایک کمرے میں بچے ایک بورڈ گیم کھیل رہے ہیں۔ [شہزاد بٹ]


16 مارچ کو پشاور میں بچوں کے تحفظ کی عدالت دکھائی گئی ہے۔ [شہزاد بٹ]

16 مارچ کو پشاور میں بچوں کے تحفظ کی عدالت دکھائی گئی ہے۔ [شہزاد بٹ]

پشاور – خیبر پختونخوا (کے پی) میں بچوں کو بد سلوکی، بدفعلی اور نظرانداز ہونے سے بچانے کے لیے بچوں کے تحفظ کے لیے پہلی عدالت سی پی سی تشکیل دی گئی۔

بچوں کے حقوق کے فعالیت پسندوں، وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے اس امّید کا اظہار کیا کہ سی پی سی بچوں کو کسی بھی ممکنہ ذہنی یا جسمانی بد سلوکی سے بچائے گی، جبکہ عدالتی کاروائی کے دوران انہیں بچوں کے لیے موافق اور پرسکون ماحول میہا کرے گی۔

پشاور کی عدالتِ عالیہ (پی ایچ سی) کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے 15 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس پشاور میں اس عدالت کا افتتاح کیا۔


16 مارچ کو بچوں کے تحفظ کے لیے کے پی کی پہلی عدالت دکھائی گئی ہے۔ [شہزاد بٹ]

16 مارچ کو بچوں کے تحفظ کے لیے کے پی کی پہلی عدالت دکھائی گئی ہے۔ [شہزاد بٹ]

پی ایچ سی کے ایک پروٹوکول افسر، محمّد زبیر نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "سی پی سی کی تشکیل کا یہ اقدام کے پی چائلڈ پروٹیکشن اینڈویلفیئر کمیشن ایکٹ 2010 کے تحت کیا گیا۔"

زبیر نے کہا کہ سی پی سی کا بنیادی مقصد بچوں کے تحفظ اور فلاح، بطورِ خاصمفلس اور نظرانداز بچوں کے مقدماتبرائے قانونی تحویل، ہے۔

متعدد کا ماننا ہے کہ بدسلوکی اور نظر انداز کیے جانے کا شکار بچے برے سلوک کے دیگر ممکنہ منفی نتائج کےساتھ ساتھ پرتشدد مجرمانہ گینگز اورعسکریت پسند گروہوں کے بھرتی کنندگان کی زیادہ زد میںہوتے ہیں۔

کم سنوں کے لیے سکون

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک عدالتی صحافی، اختر امین، نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "یہ ایک اچھا اقدام ہے اور اس سے کم سن قیدیوں کو ان کے مقدمات کی تیز تر پیروی کے ذریعے چین کا سانس ملے گا۔"

امین نے کہا کہ کم سن قیدیوں کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیوں کہ وہ اکثر بالغ عادی مجرموں کے ہمراہ عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ عدالتوں پر کام کے دباؤ کی وجہ سے کم سنوں کے مقدمات کو تاخیر کا بھی سامنا ہوتا ہے۔

یکم اپریل کو عدالت کے پہلے مقدمہ میں جج ودیا مشتاق ملک نے سزا سنانے کے لیے ایک 13 سالہ کی درخواست کی سماعت کی، جس کی شناخت قانونی پابندیوں کی وجہ سے ظاہر نہیں کی جا سکتی۔ اس کم سن نے مزید جرائم نہ کرنے کا وعدہ کیا۔

امین نے کہا کہ جیسا کہ اس کم سن نے پہلے ہی اپنی گرفتاری کے بعد ایک برس زیرِ حراست گزار لیا تھا، جج نے اسے چھ روز قید کی سزا سنائی۔

بچوں کے حقوق کے ایک فعالیت پسند عمران ٹکّار نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "سی پی سی کا قیام مساوات، بچوں کے تحفظ اور عطائے اختیار سے متعلق دیرپا ترقی کے مقاصد (ایس ڈی جیز) کے حصول کی جانب ایک قدم ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

0
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha