http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/03/19/feature-02
| معیشت

امن کی واپسی کے ساتھ پشاور میں پھولوں کا کاروبار پُر بہار

سید ناصر عبّاس

10 مارچ کو پشاور میں کارکنان پھولوں کے گلدستے بنا رہے ہیں۔ [سید ناصر عبّاس]

پشاور – امن کی بحالی کے ساتھ پشاور کے باشندے پشاور کو "پھولوں کے شہر" میں بدلنے کی کوشش کر کے اس دور سے پلٹنے کا مظاہرہ کر رہے ہیں جب عسکریت پسندی کی وجہ سے یہ مقام "بموں کے شہر" کے نام سے معروف ہو گیا تھا۔

بازدخیل، سلیمان خیل، باڑا شیخاں، شہاب خیل سیفاں، شاشوخیل اور شیخ محمّدی دیہات کے پھولوں کے کاشتکار اب اپنے کھیتوں میں کام میں مشغول ہیں۔

وہ اپنا مال شہر میں پھولوں کی مرکزی منڈی کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا (کے پی) اور ملک بھر کے دیگر علاقوں میں فراہم کرتے ہیں۔

17 فروری کو پشاور کے قریب 13 سالہ فرقان اللہ پھول چن رہا ہے۔ [سید ناصر عبّاس]

17 فروری کو دو بھائی فرقان اللہ (دائیں) اور لقمان اللہ بازدخیل گاؤں میں پھول اکٹھے کر رہے ہیں۔ [سید ناصر عبّاس]

یہ کاشتکار شادیوں اور دیگر تقریبات کے لیے موزوں مختلف خوشبؤں اور رنگوں کے لیے گلنار، گیندا، چنبیلی اور سرخ گلاب کاشت کرتے ہیں۔

جن دیہات میں پھول کاشت کیے جاتے ہیں، پشاور سے ملحقہ قبائلی علاقہ جات، جو کبھی عسکریت پسندوں کا گڑھ تھے اور جہاں بم حملے، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری معمول کی بنیاد پر ہوتی تھی، کی حدود کے قریب واقع ہیں۔

’ہم خوش ہیں‘

علاقہ میں بحالیٴ امن کا مطلب ہے کہ کسان ایک مستحکم معاش کے حصول کے لیے لوٹ سکتے ہیں۔

بازدخیل گاؤں کے ایک 52 سالہ رہائشی حبیب الرّحمٰن نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "دہشتگردی، بم حملوں اور علاقہ میں امنِ عامہ کی خستہ حالی پھولوں کے کاروبار پر بری طرح اثرانداز ہوئے۔ اب ہم بخوشی پھول کاشت کرتے ہیں اور باقاعدگی سے [پشاور میں] رام داس منڈی میں بھیجتے ہیں۔"

30 برس سے پھول کاشت کرنے والے رحمان کا کہنا ہے کہ وہ "بلاخوف بآسانی یومیہ بنیادوں پر" 1,000 روپیہ (10 ڈالر) کما لیتا ہے۔

بازدخیل کے ایک اور کاشتکار ظاہر اللہ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "اب مقامی باشندے اپنے کاروباروں اور ملازمتوں میں مصروف ہیں۔ پورا سال ہمارے گاؤں میں پھولوں کے کھیت دیکھے جا سکتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "یہ گاؤں علاقہ کے دیگر دیہات کے مقابلہ میں بڑے پیمانے پر پھول کاشت کر رہا ہے۔"

انواع واقسام کے پھول اگانے والے ظاہر اللہ نے کہا، دہشتگردی "مقامی دیہات میں بے روزگاری کا باعث بنی، لیکن اب ہمارا پھولوں کا کاروبار اپنے عروج پر ہے۔"

ظاہر اللہ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "اس مرتبہ میں نے اڑھائی ایکڑ پر پھول کاشت کیے۔ ایک ایکڑ بآسانی 50,000 روپے (500 ڈالر) کما لیتا ہے۔"

انہوں نے کہا، "دہشتگردی کے دنوں میں بم حملوں کے خوف کی وجہ سے کوئی بھی مرکزی منڈی اور پشاور کی دیگر بڑی دکانوں کو پھول فراہم کرنے کو تیار نہ تھا۔ لیکن اب سب بخوشی منڈی جاتے ہیں۔"

وقتِ امن میں اصراف میں تیزی

رامداس کی مرکزی منڈی میں پھولوں کے ایک تھوک فروش صحبت خان نے کہا کہ پشاور کے نواح میں کاشت ہونے والے پھول نہ صرف کے پی کے مختلف علاقوں بلکہ رولپنڈی کی بنی چوک پھول منڈی اور لاہور کی شاہدرہ روڈ پھول منڈی کے ساتھ ساتھ حیدرآباد کو بھی بھیجے جاتے ہیں۔

خان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "مقامی پھولوں کا کم از کم 75 فیصد پنجاب کو بھیجا جاتا ہے اور 25 فیصد فروخت کیا جاتا ہے۔"

بازدخیل کے احسان اللہ نے کہا کہ خطے میں بحالیٴ امن کے بعد سے کاروبار تیزی سے ابھرا ہے۔ اس نے ہاتھ بٹانے کو اپنے اہلِ خانہ کو بھی شامل کر لیا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "میں اچھا کاروبار کر رہا ہوں۔ میرے بیٹے، 11 سالہ فرقان اللہ اور 7 سالہ لقمان اللہ بھی سکول کے بعد کھیتوں سے پھول اکٹھے کرنے میں میری مدد کرتے ہیں۔"

احسان اللہ نے کہا، "مارچ میں بہار اپنے پورے جوبن پر ہو گی، اور پورا گاؤں ایک نہایت خوبصورت اور رنگین منظر پیش کرے گا۔ نوجوان رنگا رنگ پھولوں کے کھیتوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے موٹر سائیکلوں پر یہاں آیا کرتے تھے، لیکن دہشتگردی کے دنوں میں کوئی ایسا کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔"

پشاور کے قریب پھولوں کے ایک کھیت کے مالک فیّاض خان کے لیے پھولوں کی کاشت نفع بخش ثابت ہو رہی ہے کیوں کہوقتِ امننے اصراف میں اضافہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا، "میں گندم اور سبزیوں کے بجائے پھولوں کی کاشت کو ترجیح دیتا ہوں۔ پھول اسی روز نقد رقم لوٹا دیتے ہیں۔ میں بآسانی یومیہ 1,500 روپے (15 ڈالر) کما لیتا ہوں۔"

انہوں نے کہا کہ "منڈی میں پھولوں کی مانگ ہے۔ امن کے وقت میں یہ ایک اچھا کاروبار ہے کیوں کہ پھول" باعثِ لطف ہیں۔ "وہ دن گئے جب بم دھماکوں اور دہشتگردی کی وجہ سے۔۔۔ پھولوں کے لیے کوئی منڈی نہ تھی۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha
| 03-20-2019

شاندار کہانی

جواب