| سلامتی

فرقہ وارانہ، سیاسی فسادات کی طغیانی کے پیشِ نظر کراچی کے حکام نے سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا

از ضیاء الرحمان


ایم کیو ایم-پی کے قائدین نے 12 فروری کو ایک کارکن کی تدفین میں شرکت کی جسے نیو کراچی کے علاقے میں جماعت کے دفتر پر ایک حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ [ضیاء الرحمان]

ایم کیو ایم-پی کے قائدین نے 12 فروری کو ایک کارکن کی تدفین میں شرکت کی جسے نیو کراچی کے علاقے میں جماعت کے دفتر پر ایک حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ [ضیاء الرحمان]

کراچی -- کراچی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ان گروہوں کے خلاف ایک وسیع کریک ڈاؤن کا آغاز کر رہے ہیں جو حالیہ مہینوں میں فرقہ وارانہ اور سیاسی فسادات میں ملوث رہے ہیں۔

جبکہ کراچی میں پولیس کی کارروائیاں مختلف پرتشدد گروہوں کے نیٹ ورکس کو توڑنے میں کامیاب ہو چکی ہیں، سیکیورٹی حکام کو حملوں کی حالیہ تجدید پر تفکرات ہیں جن میں کئی پاکستانی ہلاک ہوئے ہیں - بشمول سابقہ قانون ساز۔

سیکیورٹی حکام، بشمول پولیس چیفس آف سندھ، کراچی اور سندھ کے محکمۂ انسدادِ دہشت گردی، نے 13 فروری کو کراچی میں سندھ رینجرز کے ہیڈکوارٹرز میں ملاقات کی یہ تبادلۂ خیال کرنے کے لیے کہ پرتشدد واقعات کو بہتر طور پر کیسے روکا جا سکتا ہے۔

سندھ رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل محمد سعید نے اجلاس کی صدارت کی۔

رینجرز کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ حکام نے "ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی مؤثر روک تھام کے لیے احتیاطی اقدامات کرتے ہوئے غیر معمولی سیکیورٹی کو یقینی بنانے" کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

شہر میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے کراچی پولیس نے بھی 24 فروری کو ایک اجلاس منعقد کیا۔ کراچی پولیس چیف، ڈاکٹر امیر احمد شیخ، نے پولیس افسران سے کہا کہ وہ ٹارگٹ کلنگز اور سڑکوں پر ہونے والے جرائم کی روک تھام کے لیے شہر میں سیکیورٹی کو سخت کریں۔

حملوں میں اضافہ

کراچی میں حال ہی میں سیاسی فسادات کے واقعات، خصوصاً مختلف مہاجر نسل کے گروہوں پر حملوں، میں اضافہ ہوا ہے۔

حالیہ ترین واقعہ میں 11 فروری کو، موٹرسائیکلوں پر سوار چھ مسلح افراد نے نیو کراچی کے علاقے میں متحدہ قومی موومنٹ-پاکستان (ایم کیو ایم-پی) کے مقامی دفتر پر فائر کھول کیا، جس میں دو کارکن ہلاک ہو گئے۔

یہ واقعہ دسمبر میں پیش آنے والے واقعہ کے بعد رونما ہوا تھا، بشمول ایک واقعہ جو 25 دسمبر کو ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے علاقے میں پیش آیا جس میں ایم کیو ایم-پی سے تعلق رکھنے والے سابقہ رکن قومی اسمبلیعلی رضا عابدیجاں بحق ہو گئے تھے۔

23 دسمبر کو بھی نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے رضویہ سوسائٹی کے علاقے میں پاک سرزمین پارٹی کے مقامی دفتر پر حملہ کیا تھا جس میں جماعت کے دو کارکن ہلاک ہو گئے تھے۔

دریں اثناء، 6 دسمبر کو گلشنِ جوہر کے علاقے میں ایم کیو ایم-پی کے ایک اجتماع پر ہینڈ گرنیڈ حملے میں کم از کم چھ افراد زخمی ہوئے تھے۔

فرقہ وارانہ حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

22 جنوری کو، موٹرسائیکل پر سوار ایک مسلح شخص نے مقامی حکومت کے ایک افسر اور شیعہ علماء کونسل کے رہنماء، محمد علی شاہ کو،شاہراہِ قائد اعظم کے قریب ہلاک کر دیا تھا۔

اس سے پہلے 3 جنوری کو، نامعلوم حملہ آوروں نے ایک دکاندار فدا حسین، جس کا بیٹا ایک شیعہ طلباء تنظیم، امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا عہدیدار تھا، کو زمان ٹاؤن، اورنگی میں ہلاک کر دیا تھا۔

کراچی کے مقامی ایک اعلیٰ پولیس افسر، راجہ عمر خطاب نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ کراچی میں فرقہ وارانہ ہلاکتوں میں اضافہ 2018 کے وسط میںنسبتاً پرسکون عرصے کے بعدہونا شروع ہوا تھا جو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اس آپریشن کا نتیجہ تھا جو مختلف فسادی گروہوں کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے ستمبر 2013 میں شروع ہوا تھا۔

سنہ 2013-2007 میں کراچی میں سیکیورٹی کی ابتر صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "سنہ 2007 کے بعد سے، کراچی فرقہ وارانہ فسادات کا گڑھ رہا تھا جس میں عسکریت پسند دینی علماء، قائدین، ڈاکٹروں اور تاجروں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل کرتے تھے۔"

خطاب نے مزید کہا کہ شہر میں فرقہ وارانہ گروہپانچ سال طویل کریک ڈاؤن کی وجہ سےکمزور ہو چکے ہیں۔

گرفتاریاں جاری

25 فروری کو کراچی میں ایک نیوز کانفرنس میں سندھ رینجرز کے ایک اعلیٰ افسر، کرنل فیصل اعوان نے کہا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے ایم کیو ایم-لندن کے دھڑے سے تعلق رکھنے والے آٹھ دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے، جو کہ ماضی میں حریف سیاسی کارکنان کی ٹارگٹ کلنگز میں ملوث رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیم فوج گروپ نے ٹارگٹ کلنگز کے طوفان کے بعد حملہ آوروں کا سراغ لگانے میں مدد کے لیے ایکمخبر شاخبنائی تھی۔

اعوان نے کہا کہ ایک مشتبہ حملہ آور جس کا نام سلیم، عرف بیلجیئم ہے، مفرور ہے۔ اسے حریف گروہوں کے ارکان کو قتل کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا سلیم کو سنہ 2011 میں رینجرز نے پولیس پر حملے کرنے میں ملوث ہونے کی بناء پر گرفتار کیا تھا، لیکن وہ عدالتی سماعت کے دوران فرار ہو گیا تھا اور غالباً بیرونِ ملک بھاگ گیا ہے۔

پولیس نے ایک اور مشتبہ دہشت گرد ساجد، عرف بونا، کو 11 فروری کو سنہ 1995 کے بعد سے 41 افراد کے قتل میں مبینہ شمولیت پر گرفتار کیا تھا۔

کراچی کے مقامی ایک اعلیٰ پولیس افسر، افضل محصار نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "وہ مختلف سیاسی جماعتوں، بشمول ایم کیو ایم-حقیقی، سنی تحریک اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان کے قتلوں میں ملوث ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

2
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha