|

سفارتکاری

ولی عہد کے دورۂ اسلام آباد نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو مضبوط کیا ہے

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سرمایہ کاری کے منصوبوں میں 20 بلین ڈالر کا وعدہ کیا ہے اور سعودی جیلوں سے 2،000 سے زائد پاکستانیوں کی فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔

از ضیاء الرحمان


18 فروری کو پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان (دائیں) کی درخواست پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان السعود (بائیں) نے اپنے ملک کی جیلوں میں قید 2،107 پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا۔ [دفترِ وزیرِ اعظم  پاکستان/ٹوئٹر]

18 فروری کو پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان (دائیں) کی درخواست پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان السعود (بائیں) نے اپنے ملک کی جیلوں میں قید 2،107 پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا۔ [دفترِ وزیرِ اعظم پاکستان/ٹوئٹر]

اسلام آباد -- سرمایہ کاری منصوبے اور سعودی عرب (کے ایس اے) میں قید ہزاروں پاکستانی قیدیوں کی رہائیسعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دو روزہ دورۂ اسلام آبادکے نتائج میں سے کچھ نتائج ہیں۔

ولی عہد، جو وسیع طور پر ایم بی ایس کے نام سے معروف ہیں، ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کرتے ہوئے اتوار-سوموار (18-17 فروری) کو تین ایشیائی ملکوں کے دورے کے پہلے پڑاؤ میں پاکستان پہنچے۔

انہوں نے وزیرِ اعظم عمران خان، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔

اتوار کے روز اپنی آمد کے بعد، ولی عہد نے اسلام آباد کے ساتھ 20 بلین ڈالر کے سرمایہ کاری معاہدوں -- سات الگ معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں-- پر دستخط کیے۔

اسلام آباد کو ادائیگیوں کے توازن میں سنگین بحرانوں کا سامنا ہے اور پُرامید ہے کہ یہ معاہدےاس کی مشکلات کا شکار معیشت کو سہارا دیں گے۔

سوموار کے روز، صدر عارف علوی نے ولی عہد کو ہندوستانی وزیرِ اعظم نریندرا مودی کے ساتھ ملاقات کے لیے نئی دہلی روانہ ہونے سے قبل ملک کے سب سے بڑا شہری اعزاز نشانِ پاکستان سے نوازا۔

سعودی عرب نے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تناؤ کو "کم کرنے"میں مدد دینے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

سعودی عرب کے وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا، "ہمارا مقصد دونوں ممالک، ہمسایہ ممالک، کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کرنا، اور یہ دیکھنا ہے کہ کیا ان اختلافات کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کا کوئی راستہ موجود ہے۔"

یہ وعدہ کرنے کے بعد، ولی عہد نے سوموار کو بعد دوپہر ہندوستان پرواز کرنے کے قبل پاکستانی قیادت سے ملاقاتوں کے ایک سلسلے کا انعقاد کیا۔ توقع ہے کہ وہ اپنا دورہ جمعرات-جمعہ (22-21 فروری) کو چین کے دورے پر اختتام پذیر کریں گے۔

'معاشی طور پر مستحکم' پاکستان کے لیے تعاون

اسلام آباد میں ہونے والے سرمایہ کاری کے معاہدے توانائی، پیٹروکیمیکلز، کان کنی، زراعت اور خوراک کی تیاری کے شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

فریقین نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے مطابق سعودی عرب پاکستان کو بحیرۂ عرب پر اہم گوادر بندرگاہ میں ایک 10 بلن ڈالر کی آئل ریفائنری قائم کرنے کے لیے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات فراہم کرے گا۔

عمران خان اور ایم بی ایس نے سپریم کوآرڈینیشن کونسل کی افتتاحی نشست کی مشترکہ سربراہی بھی کی، جس کی تجویز ایم بی ایس کی جانب سے عمران خان کے گزشتہ اکتوبر میں دورۂ سعودی عرب کے دوران دی گئی تھی۔

اتوار کی رات ایک بیان میں ایوانِ وزیرِ اعظم نے ایک بیان میں کہا کہ کونسل "دو طرفہ تعاون کے اہم شعبوں میں تیز رفتار فیصلوں، اور ان کے اطلاق کی بغور نگرانی کے لیے" بنائی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ کونسل کے تحت، "مخصوص منصوبوں میں تعاون کے عملی ڈھانچے کی تیاری اور متعلقہ وزراء کو سفارشات جمع کروانے" کے لیے ایک سٹیئرنگ کمیٹی اور مشترکہ عملی گروپ تشکیل دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان-سعودی عرب تجارتی کانفرنس میں، پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ، الجبیر نے کہا، "ہمارا ماننا ہے کہ یہاں بہت زیادہ امکانات ہیں، اور ہم پاکستان کی ترقی کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔"

الجبیر نے کہا کہ یہ خیرات نہیں، سرمایہ کاری ہے۔ "ہم پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔"

ایک مددگار

پاکستانی حکام اور تجزیہ کاروں نے پاکستان میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا ہے۔

عمران خان، جنہوں نے گزشتہ گرمیوں میں اقتدار میں آنے کے بعد دو بار سعودی عرب کا دورہ کا ہے، نے طویل مدتی اتحادی کا مدد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا، "پاکستان اور سعودی عبر اب اپنے تعلقات کو ایسی سطح پر لے جا رہے ہیں جس پر [وہ] اس سے پہلے کبھی نہیں گئے تھے۔"

کراچی کے ایک ممتاز عالمِ دین، مفتی محمد نعیم نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "حالیہ، فراخدلانہ سعودی سرمایہ کاری جو پاکستان کی مشکلات میں گھری معیشت کو بحال کرے گی، دونوں ممالک کے درمیان اخلاص اور طویل دوستی کی مظہر ہے۔"

پاکستان کی معیشت کو کور کرنے والے کراچی کے ایک صحافی، وکیل الرحمان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "سعودی سرمایہ کاری کے معاہدے ایسے اہم وقت پر ہوئے ہیں جبپاکستان ایک غیر یقینی معیشتادائیگیوں کے توازن کے بڑھتے ہوئے بحران اور رو بہ زوال داخلی بڑھوتری میں مشکلات کا شکار تھا۔"

پچھلے سال، سعودی عرب نے پاکستان کو ایک سال کے لیے غیر ملکی زرِ مبادلہ میں 3 بلین ڈالر کی مدد دینے، اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو ختم کرنے میں مدد کے لیے تیل کی درآمد پر 3 بلین ڈالر کی متاخر ادائیگیوں پر اتفاق کیا تھا۔ ابھی تک پاکستان کو 3 بلین ڈالر نقد وصول ہوئے ہیں۔"

کراچی کے مقامی ٹیکنالوجی ڈویلپر، جبار ابوبھیا نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "سعودی عرب کے ساتھ مضبوط تعلقات کے ساتھ، نوجوان پاکستانی جو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبے میں انتہائی ترقی یافتہ ہیں ناصرف پاکستان بلکہ اپنے تجربات اور مہارتوں کے تبادلے سے سعودی عرب کی بھی مدد کر سکتے ہیں۔"

پاکستانی قیدیوں کی رہائی

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایم بی ایس کی جانب سے سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں، بشمول ہزاروں پاکستانی قیدیوں کی حالتِ زار کو دیکھنے پر اتفاق، دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کی ایک اور علامت ہے۔

ایوانِ وزیرِ اعظم میں منعقد ہونے والی ایک تقریب کے دوران، عمران خان نے درخواست کی تھی کہ ولی عہد سعودی عرب میں مقیم 2.5 ملین پاکستانیوں کی حالت کا جائزہ لیں اور حج کے لیے جانے والے پاکستانیوں کو سعودی امیگریشن کے ضوابط سے پاکستان میں ہی گزرنے کی اجازت دیں۔

اگر یہ اجازت مل جاتی ہے، تو اس سے پاکستانی حجاج کا سعودی عرب میں جہاز اترنے کے بعد وقت بچے گا اور دقت کم ہو جائے گی۔

عام پاکستانی مسافروں کی مدد کرنے کے ایک اقدام میں، سعودی عرب نے ان کے لیے ویزہ فیس کم کر دی ہے جس کا اطلاق 15 فروری سے ہو گا۔

اسلام آباد میں سعودی سفارت خانے کے مطابق، اس نے سنگل انٹری ویزہ فیس 2،000 سعودی ریال (533 ڈالر) سے کم کر کے 338 سعودی ریال (90 ڈالر) کر دی ہے، جبکہ ملٹیپل انٹری ویزہ فیس کو 3،000 سعودی ریال (800 ڈالر) سے کم کر کے 675 سعودی ریال (180 ڈالر) کر دیا ہے۔

خان نے سعودی عرب میں قید 3،000 سے زائد پاکستانی قیدیوں کی رہائی کی بھی درخواست کی۔

ایم بی ایس نے کہا کہ سعودی عرب اسلام آباد کے لیے "جو بھی کر سکتا ہے" وہ کرے گا۔ چند ہی گھنٹوں بعد، فیصلہ کر لیا گیا۔

قریشی نے 18 فروری کو ٹوئیٹ کیا، "عزت مآب ولی عہد ایم بی ایس نے سعودی عرب میں قید 2،107 پاکستانیوں کو رہا کرنے کی فیاضانہ منظوری دے دی ہے جو کہ فوری طور پر مؤثر ہے۔دیگر کے مقدمات کا جائزہ لیا جائے گا۔ پاکستانی عوام وزیرِ اعظم عمران خان کی درخواست پر فوری ردِعمل دینے پر عزت مآب کے شکرگزار ہیں۔"

گزشتہ مارچ، ہیومن رائٹس واچ اور جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی جانب سے "سعودی فوجداری نظامِ انصاف میں پاکستانیوں کے ساتھ سلوک" پر ایک مشترکہ رپورٹ میں "سعودی فوجداری نظامِ انصاف اور سعودی عدالتوں کی جانب سے قانون تقاضوں کی وسیع خلاف ورزیاں" پائی گئی تھیں۔

ضلع باجوڑ، خیبرپختونخوا کے مکین، بشیر خان مہمند، جن کے بھائی گزشتہ تین برس سے سعودی جیل میں قید ہیں، نے ایم بی ایس اور عمران خان کا پاکستانی قیدیوں کو رہائی دلانے میں کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ایم بی ایس کا دورۂ پاکستان قیدی پاکستانیوں کے خاندانوں کے لیے نیک شگون ثابت ہوا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

پاکستان کی ہندوستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں سے آپ کتنے مطمئن ہیں؟

نتائج