| صحت

خان نے سوات میں کمر تک اونچی برف کا مقابلہ کرتے ہوئے پولیو کے قطرے پلانے والے کارکنوں کی عزت افزائی کی

عدیل سید


پاکستان کے وزیراعظم عمران خان، 30 جنوری کو اسلام آباد میں پولیو کے قطرے پلانے والے عرفان اللہ کے ساتھ تصویر کھنچوا رہے ہیں۔ ایک ویڈیو جس میں عرفان اللہ کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے کمر تک اونچی برف میں سے گزرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، مشہور ہو گئی۔ ]عمران خان/ ٹوئٹر[

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان، 30 جنوری کو اسلام آباد میں پولیو کے قطرے پلانے والے عرفان اللہ کے ساتھ تصویر کھنچوا رہے ہیں۔ ایک ویڈیو جس میں عرفان اللہ کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے کمر تک اونچی برف میں سے گزرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، مشہور ہو گئی۔ ]عمران خان/ ٹوئٹر[

پشاور -- وزیراعظم عمران خان نے، ایک ویڈیو دیکھنے کے بعد، جس میں پولیو کے قطرے پلانے والے ایک کارکن کو، خیبر پختونخواہ (کے پی) کی سوات ڈسٹرکٹ میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے گہری برف میں سے گزرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، اس کی اور اس کی ٹیم کی عزت افزائی کی۔

خان نے عرفان اللہ، جو کہ ویڈیو میں نظر آنے والے 23 سالہ پولیو کے قطرے پلانے والے سوات کے رہائشی کارکن ہیں، اور ان کی قطرے پلانے والی ٹیم کو، 30 جنوی کو وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ پر مدعو کیا۔

خان نے اس دن ٹوئٹ کیا کہ "عرفان ان ہیروز میں سے ایک ہیں جو انتہائی سخت موسمی حالات میں بھی پولیو کے قطروں کے ساتھ بچوں تک پہنچتے ہیں"۔


پولیو کے قطرے پلانے والے کارکن، 30 سالہ عرفان خان کو سوات وادی میں بچوں کو قطرے پلانے کے لیے، کمر تک اونچی برف میں چلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر مشہور ہو گئی اور دوسروں کے علاوہ وزیراعظم عمران خان اور یونیسف نے اس کی تعریف کی۔ ]فائل[

پولیو کے قطرے پلانے والے کارکن، 30 سالہ عرفان خان کو سوات وادی میں بچوں کو قطرے پلانے کے لیے، کمر تک اونچی برف میں چلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر مشہور ہو گئی اور دوسروں کے علاوہ وزیراعظم عمران خان اور یونیسف نے اس کی تعریف کی۔ ]فائل[


یونیسف پاکستان نے 27 جنوری کو پولیو کے قطرے پلانے والے کارکن عرفان اللہ کی تصویر کے ساتھ ٹوئٹ کیا کہ "پاکستان کے پولیو کے قطرے پلانے والے کارکن طویل فاصلے طے کرتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہر بچے کو خواہ وہ پاکستان میں کہیں بھی رہتا ہو، پولیو سے بچایا  جا سکے۔ ]یونیسف پاکستان /ٹوئٹر[

یونیسف پاکستان نے 27 جنوری کو پولیو کے قطرے پلانے والے کارکن عرفان اللہ کی تصویر کے ساتھ ٹوئٹ کیا کہ "پاکستان کے پولیو کے قطرے پلانے والے کارکن طویل فاصلے طے کرتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہر بچے کو خواہ وہ پاکستان میں کہیں بھی رہتا ہو، پولیو سے بچایا جا سکے۔ ]یونیسف پاکستان /ٹوئٹر[

انہوں نے عرفان اللہ کے ساتھ اپنی تصویر پوسٹ کی اور کہا کہ ویڈیو نے "ہر شخص کو احترام اور فخر کا احساس دیا ہے۔ یہ وہ عزم ہے جو ہمیں پولیو سے پاک قوم کا مقصد حاصل کرنے کے قابل بنائے گا"۔

غیر ستائش شدہ ہیروز

پولیو کے قطرے پلانے والے کارکن، جنہیں سوشل میڈیا کے استعمال کنندگان نے "غیر ستائش شدہ ہیروز" قرار دیا، کا 31 جنوری کو نیشنل پولیو مینجمنٹ ٹیم کی اسلام آباد میں میٹنگ میں کھڑے ہو کر استقبال کیا گیا۔

عرفان اللہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میں نے جو کیا وہ میری ملازمت کا حصہ ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "یہ میرا فرض ہے کہ میں اپنے علاقے کے ہر ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلاؤں اور اس مقصد کے لیے، مجھے ہر طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی ٹیم کو جو توجہ اور پذیرائی ملی ہے، اس کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا"۔

عرفان اللہ نے کہا کہ "ہمارا مشن ملک کے ہر بچے کی اس معذور کر دینے والی بیماری سے حفاظت کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے، ہم اپنی کوششوں کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک کہ ہم اپنا مقصد حاصل نہیں کر لیتے"۔

انہوں نے کہا کہ نجی ردعمل اور عوام کی طرف سے تعریف نے ان میں عزم و ہمت کی ایک نئی روح پھونک دی ہے۔

انہوں نے دی ایکسپرس ٹریبیون کو بتایا کہ "میں اور میرے تمام ہم منصب بہت خوش ہیں کہ ہماری کوششوں کو دنیا نے سراہا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس سے پاکستان کی پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو فروغ ملے گا۔ ہماری خواہش ہے کہ ہم نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا سے پولیو کا خاتمہ ہوتا ہوا دیکھیں"۔

پاکستان کے پولیو کے کارکن "نہ رکنے والے" ہیں

پاکستان، افغانستان اور نائجیریا صرف ایسے تین ملک ہیں جہاں ابھی بھی پولیو کا وائرس مقامی طور پر موجود ہے۔

تاہم، طبی ٹیموں کے کارکنوں کی ہم آہنگ کوششوںنے اس بیماری کے خاتمے اور علاقے میں اس کے دوبارہ پھیلنے کے امکان کا خاتمہ کرنے میں، انتہائی قابلِ قدر کامیابی حاصل کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے چلڈرنز ایمرجنسی فنڈ (یونیسف) کے ایک ٹیم لیڈر ڈاکٹر محمد جوہر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "2014 میں، پاکستان میں پولیو کے واقعات کی تعداد 306 تھی جبکہ 2018 میں ملک میں 12 واقعات کی اطلاع ملی تھی"۔

جوہر کے مطابق، ان رپورٹ کیے جانے والے 12 واقعات میں سے، 6 سابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا)، 2 کے پی، ایک کراچی اور تین بلوچستان میں رپورٹ کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان اپنی سرزمین سے پولیو کا مکمل خاتمہ کرنے کے قریب ہے اور ہماری ٹیم کے کارکنوں کی طرف سے دیکھائے جانے والے عزم اور حوصلے کے باعث، ملک جلد ہی اس بیماری سے مکمل طور پر پاک ہو جائے گا"۔

پولیو کے خاتمے کے لیے وزیراعظم کے فوکل پرسن بابر بن عطا نے 30 جنوری کو ٹوئٹ کیا کہ "ہمارے پولیو کے کارکن روکے نہ جانے والے ہیں اور ان کی سخت محنت سے انشائاللہ پاکستان پولیو سے پاک ایک ملک بن جائے گا"۔

انہوں نے اسی ٹوئٹ میں قطرے پلانے والوں کے حوالے سے کہا کہ "کوئی بھی چیز ان کے اور پاکستان کے بچوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے میں حائل نہیں ہو سکتی"۔

عزم اور محنت

کے پی میں پولیو کے خاتمے کے تکنیکی فوکل پرسن ڈاکٹر امتیاز علی شاہ نے کہا کہ "ہماری ٹیم کے ارکان کی طرف سے کیے جانے والے محنتی کام کا اعتراف اور اس کی تعریف کا مقصد، پولیو کے خلاف ہماری جنگ میں صفِ اول کے کارکنوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے"۔

شاہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "پولیو کے خلاف جنگ میں صفِ اول کے کارکن مرکزی قوت ہیں اور وہ اس معذور کر دینے والی بیماری کے انسداد اور خاتمے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں

انہوں نے کہا کہ "ہمارے دلوں میں اپنی ٹیم کے کارکنوں کی محنت کا بہت احترام ہے اور اسی حوصلے کا اظہار پاکستان کے وزیراعظم نے کیا"۔

انہوں نے کہا کہ "خان کے قدم نے نہ صرف پولیو کے اس کارکن کی حوصلہ افزائی کی، جسے انہوں نے اعزاز بخشا بلکہ اس بیماری کے خاتمے کے لیے کوشش کرنے والی تمام ٹیموں کی حوصلہ افزائی کی ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

5
0
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی Captcha
| 06-04-2019

"کوئی چیز ایسی نہیں جو پاکستانی بچوں کو بیماری سے بچانے کے ان کے عزم کو روک سکے” کتنا سچ ہے

جواب