|

جرم و انصاف

پاکستانی عدالت نے فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو سیاست سے باہر رہنے کا حکم دے دیا

عدالتِ عالیہ نے مسلح افواج کی سیاسی سرگرمی کی آئینی ممانعت کا حوالہ دیا۔

اے ایف پی


گزشتہ برس توہینِ مذہب کے الزامات سے ایک مسیحی خاتون کی بریّت پر پُرتشدد احتجاج کے بعد 4 فروری کو لاہور میں ایک سماعت کے دوران پاکستانی پولیس اہلکار انسدادِ دہشتگردی عدالت کے باہر تحریکِ لبّیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے رہنما خادم حسین رضوی کے آنے پر ان کی جماعت کے فعالیت پسندوں کو حراست میں لے رہے ہیں۔ [عارف علی / اے ایف پی]

گزشتہ برس توہینِ مذہب کے الزامات سے ایک مسیحی خاتون کی بریّت پر پُرتشدد احتجاج کے بعد 4 فروری کو لاہور میں ایک سماعت کے دوران پاکستانی پولیس اہلکار انسدادِ دہشتگردی عدالت کے باہر تحریکِ لبّیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے رہنما خادم حسین رضوی کے آنے پر ان کی جماعت کے فعالیت پسندوں کو حراست میں لے رہے ہیں۔ [عارف علی / اے ایف پی]

اسلام آباد – پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے بدھ (7 فروری) کو فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ملامت کرتے ہوئے انہیں آزادیٴ گفتار کو برقرار رکھنے اور سیاست سے باہر رہنے کا کہا۔

یہ غیر معمولی طور پر سخت تنقید ایک عدالتی حکم میں کی گئی جس میں نومبر 2017 میںکئی ہفتوں تک اسلام آباد کو مفلوج رکھنے والے احتجاجمیں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کردار پر تنقید کی گئی۔

عدالتِ عظمیٰ کی ویب سائیٹ پر لگائے گئے اس عدالتی فیصلہ میں کہا گیا، "اگر مسلح افواج کا کوئی بھی عملہ کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی میں ملوث ہوتا ہے یا میڈیا کو استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ مسلح افواج کی سالمیت اور پیشہ وری کی بیخ کنی کا موجب ہے۔"

اس میں مزید کہا گیا کہ آئینِ پاکستان مسلح افواج کے ارکان کی "کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی میں ملوث ہونے" سے "سختی سے ممانعت" کرتا ہے؛ مزید برآں حکومت اور برّی، فضائی اور بحری فوج کے سربراہان کو اپنے حلف کی خلاف ورزی کرنے والے یا والی کے خلاف کاروائی کرنے کا حکم صادر کیا گیا۔

2017 میں فسادات

2017 کے احتجاج کی قیادت اس وقت خال خال شہرت رکھنے والے اسلام پسند گروہتحریکِ لبّیک پاکستان (ٹی ایل پی)نے کی، جو تب ہی ختم ہو سکا جب پر تشدد فسادات فوج کی وساطت سے ہونے والے ایک معاہدے کا باعث بنے جس میں وزیرِ قانون کو مستعفیٰ ہونا پڑا۔

ججوں نے آزائ گفتار پر پابندی پر تنقید کرتے ہوئے، انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ایک سخت تنبیہ کا اشارہ کیا۔

عدالت نے کہا، "تمام انٹیلی جنس ایجنسیاں ۔۔۔ اور (فوج کا میڈیا ونگ) اپنی متعلقہ صوابدید سے تجاوز نہ کریں۔ وہ آزایٴ گفتار و اظہار میں تخفیف نہیں کر سکتے۔"

"وہ افراد جو اس غلط فہمی میں ایسے ہتھکنڈوں کا سہارا لیتے ہیں کہ وہ کسی بلند تر مقصد کے لیے خدمات سرانجام دے رہے ہیں، محض خود فریبی میں مبتلا ہیں۔"

درایں اثناء، سیکیورٹی فورسز نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے پاکستان میں حقوقِ نسواں کی ایک فعالیت پسند اور دیگر سے متعلق یہ کہے جانے کے بعد انہیں چھوڑ دیا کہ انہیں "ناحق" زیرِ حراست رکھا گیا۔

منگل کو اسلام آباد میں ایک احتجاج کے دوران تحریکِ تحفظِ پشتون (پی ٹی ایم) کے 17 دیگر ارکان کے ہمراہ گلالئی اسماعیل کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 53

10 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
Comment bubble | 02-18-2019

لیکن اگر حکومت کسی بحران سے نمٹنے سے قاصر ہو اور فوج اور اس کے ذیلی اداروں سے مدد کی درخواست کرے؛ کیا یہ غلط ہے جج صاحب؟ بالکل یہی صورتِ حال فیض آباد دھرنے میں تھی، جس میں وفاقی وزارتِ داخلہ صورتِ حال کو قابو میں نہ لا سکی اور فوج سے معاونت کی درخواست کی، جو کہ ان دیگر مداخلتوں سے الگ تھی جو فوج کی جانب سے بالخصوص جنرل کیانی کے جانے کے بعد سیاست میں تھیں؛ آئین کی اس شق پر کاروائی کہاں ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ریاستی اداروں کی بدنامی نہیں کرے گا، بالخصوص عدلیہ اور فوج، جب ڈان لیکس اور ڈان انٹرویو جیسی غلاظت واقع ہوئی کیوں کچھ نہ کیا گیا؛ لہٰذا جج صاحب میری آپ کو مؤدبانہ تجویز ہے کہ جب تک آپ برابری کے ساتھ انصاف کرنے کی صلاحیت کے حامل نہ ہو جائیں، تب تک تجاوز کر کے کسی مخصوص ادارے کو ہدف نہیں بنانا چاہیئے بالخصوص انہیں جو ہمیں عوام کو اور شہریوں اور آپ جیسے عوام کے خادموں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

جواب
Comment bubble | 02-15-2019

یہ جج ہے یا raw کا ایجنٹ. اس کمینے کو کوئی کہے کہ سیلاب زلزلہ اور تمام آفات میں فوج بلاتا ہے لاء اینڈ انفورسمنٹ ایجنسیز اسوقت کہاں تھیں جب کراچی میں حالات خراب تھے اور فیض آباد میں پہلے کدھر تھے ادارے. ایک تو اسوقت کی گورنمنٹ نے امداد مانگی اب بک بک کرتے ہیں شرم نہیں آتی اپنی فوج کو بدنام کرتے ہیں

جواب
Reply comment | 02-15-2019

ظالمو جواب دو. ظلم کا حساب دو ...قانون کا احترام سب پر فرض ہے.. کوئ بالاتر نہیں... یر شخص ہر ادارے کا یہ فرض بنتا ہے.. کہ وہ اپنے متعین کردہ حدود سے تجاوز نہ کرے..

جواب
Reply comment | 02-15-2019

بہت عمدہ

جواب
Comment bubble | 02-15-2019

اگر فوج کو آپ اندر آنے نہیں دینگیں تو اندر والے کونسے دودھ کے دھلے ہوئے ہیں ۔ عوام کا اب کسی بھی بھروسہ نہیں رہا ۔جج صاب جن لوگوں نے ملکر ملک یہ حال کر دیا ہے پھلے تو یہ پتہ لگاو ۔لعنت ہو ایسے جج پر ۔انصاف کا ترازو برابر نہیں کر سکتے کم سے کم چوروں کو۔ضمیر فروشوں کو ملک دشمنوں کو ایسے چھوٹ بھی نا دو ۔

جواب
Reply comment | 02-16-2019

Mery bhai s mulk ma na fouj currption sa paak ha na koi ie aidara. S milk ka asal masla he yahhe ha k yahja par qanoun name ke koi cjezz neh ha

جواب
Comment bubble | 02-14-2019

قابل تعریف قدم اٹایا ھے کورٹ نے۔

جواب
Comment bubble | 02-12-2019

ایس سی کی جانب سے شاندار اعلان، جو افواج سمیت سب کے لیے اچھا ہے۔ نفاذ کا منتظر رہوں گا۔

جواب
Comment bubble | 02-10-2019

یہ معلومات درکار ہے

جواب
Comment bubble | 02-10-2019

Ghair janibdar or bold faisala hi Courts ka.

جواب

انتخاب

آپ جاری افغان امن مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو کس طرح دیکھتے/دیکھتی ہیں؟

نتائج