|

صحت

دو طرفہ تعاون افغان ڈاکٹروں کو پاکستان سے مدد حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے

موجودہ کوششیں، پاکستان ٹکنیکل اسسٹینس پروگرام کے تحت، 2007 میں شروع ہونے والے 500 ملین ڈالر کی لاگت کے امدادی اور ترقیاتی منصوبوں کے ایک سلسلے کا حصہ ہیں۔

اشفاق یوسف زئی


ایک افغان خاتون، پشاور میں 13 جنوری کو نصراللہ خان بابا میموریل ہسپتال کے لشمنیاسس مرکز میں علاج کا انتظار کر رہی ہے۔ ]کے پی ہیلتھ  ڈپارٹمنٹ[

ایک افغان خاتون، پشاور میں 13 جنوری کو نصراللہ خان بابا میموریل ہسپتال کے لشمنیاسس مرکز میں علاج کا انتظار کر رہی ہے۔ ]کے پی ہیلتھ ڈپارٹمنٹ[

پشاور -- افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے دو طرفہ تعاون نے پاکستان کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ افغانی ڈاکٹروں کو خصوصی تربیت فراہم کر سکے اور انہیں افغانستان میں جا کر اپنے مریضوں کی بہتر طور پر خدمت کرنے کے قابل بنا سکے۔

جلال آباد سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر حشمت پینداخیل نے کہا کہ دہشت گردی کے باعث افغانستان میں بہت سی طبی سہولیات مشکل سے کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "مگر پاکستان سے ملنے والی مدد کے باعث صحت عامہ کا نظام بہتر ہو رہا ہے"۔

پینداخیل ان دس ڈاکٹروں کے ایک گروپ کا حصہ ہیں جو گردوں سے متعلقہ بیماریوں کے متعلق، حیات آباد میڈیکل کامپلکس (ایچ ایم سی) پشاور میں، دو ماہ کے ایک تربیتی کورس میں حصہ لے رہا ہے۔ اس کا آغاز 10 جنوری کو ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ "ہم جناح ہسپتال میں کام کریں گے جو کہ پاکستان کی حکومت نے 18 ملین ڈالر سے تعمیر کیا تھا تاکہ گردے کی بیماریوں کے شکار افراد کو طبی علاج مہیا کیا جا سکے۔ کابل میں 400 بستروں کا ہسپتال متوقع طور پر دسمبر میں کام کرنا شروع کر دے گا"۔

انہوں نے کہا کہ افغان ڈاکٹروں کے پانچ گروہ دو مہینے کے کورس کے دوران، گردوں کے مریضوں کی تشخیص اور علاج کے لیے تربیت حاصل کریں گے۔

ایچ ایم سی میں ایک پاکستانی استاد ڈاکٹر نواز خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "کچھ ڈاکٹروں کو نشتر کڈنی ہسپتال جو کہ جلال آباد میں ہے، میں تعینات کیا جائے گا جسے پاکستان نے تعمیر کیا ہے۔ یہ سہولت اگست میں شروع ہونے کی توقع ہے"۔

خان نے کہا کہ وہ اور دوسرے پاکستانی ڈاکٹروں نے گزشتہ دسمبر میں، کابل اور جلال آباد کا دورہ کیا تاکہ ڈاکٹروں اور تکنیکی عملے کو سکھایا جا سکے کہ ڈایا لائسز کیے کیا جاتا ہے اور مریضوں کو کیسے سنبھالا جاتا ہے۔

علاج کو بہتر بنانا

پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں تپِ دق (ٹی بی) کے علاج کے ماہر ڈاکٹر جاوید خان نے کہا کہ وہ اور دوسرے پاکستانی ڈاکٹر افغانستان کا مسلسل دورہ کرتے رہتے ہیں تاکہ وہاں کے طبی عملے کو ٹی بی کی تشخیص اور علاج میں استعمال کی جانے والی جدید ترین ٹیکنالوجی کے بارے میں بتایا جا سکے۔

انہوں نے پاکستان فاروڈ کو بتایا کہ "ہم نے افغانستان میں نئی ادویات اور تشخیصی سہولیات متعارف کروائی ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹروں نے ابھی تک تقریبا 70 افغان ڈاکٹروں اور نرسوں کو تپِ دق کے علاج کے لیے تربیت دی ہے اور وہ اب افغانستان کے مختلف ہسپتالوں میں کام کر رہے ہیں۔

ایچ ایم سی کے ایک ڈاکٹر، ڈاکٹر باز محمد جو کہ خیبرپختونخواہ (کے پی) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ پروگرام کے ساتھ منسلک ہیں نے کہا کہ افغان مریضوں کو اعلی معیار کے طبی علاج کو حاصل کرنے میں مسائل کا سامنا ہے اور وہ بیماریوں کا آسان ہدف ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہمارا ایک معاہدہ ہے جس کے تحت ہم نے 200 ڈاکٹروں، نیم طبی عملے اور نرسوں کو گزشتہ پانچ سالوں کے دوران، تربیت فراہم کی ہے تاکہ افغانستان کے مختلف حصوں میں زچہ و بچہ اور صحت عامہ کی عمومی سہولیات کو مضبوط بنایا جا سکے"۔

انہوں نے کہا کہ "جنہیں ہم نے تربیت فراہم کی ہے وہ اب خود افغانستان میں تربیت دے رہے ہیں"۔

صحت عامہ کی سہولیات کو جدید بنانا

پاکستان کے صحت عامہ کی سہولیات کے وفاقی وزیر عام محمود کیانی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ پاکستان افغانستان میں صحت عامہ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے کئی سالوں سے مدد کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوشش پاکستان کے ٹکنیکل اسسٹنس پروگرام کے تلے امداد اور ترقیاتی منصوبوں کے ایک سلسلے کا حصہ ہے جس پر 500 ملین ڈالر لاگت آئے گی اور جس کا آغاز 2007 میں ہوا تھا۔

کیانی نے کہا کہ اس منصوبے کے حصہ کے طور پر، 18 افغان ڈاکٹر کراچی میں، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یوروالجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن میں مئی کے آغاز سے چھہ ماہ کے ایک تربیتی پروگرام میں شرکت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ، پشاور، اسلام آباد، کوئٹہ، لاہور اور کراچی میں افغان مریضوں کی خدمت کرنے کے علاوہ پاکستانی ڈاکٹر افغان شہریوں کا ان کے مقامی ہسپتالوں میں بھی علاج کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ"ہم نے کراچی، کابل اور ہرات میں 20 بستروں کے برن سینٹر قائم کیے ہیں جو افغان شہریوں کو مفت علاج فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مراکز جرمنی کے تعاون سے قائم کیے گئے ہیں۔

سرحد پار کوششیں

کے پی کے وزیرِ صحت ہاشم انعام اللہ خان کے مطابق، پاکستان اور افغانستان میں صحت عامہ میں تعاون کی بہترین مثال پولیو کے خاتمے کے لیے کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دنیا کے ان آخری ممالک میں سے ہیں جہاں ابھی پولیو کی وباء موجود ہے کیونکہ دہشت گردی نے سرحد کی دونوں اطراف میں پولیو کے واقعات میں اضافے کو جنم دیا ہے۔ نائیجریا ایسا واحد ملک ہے جہاں پولیو موجود ہے۔

اس مرض کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنے کے لیےدونوں جنوبی ایشیائی ممالک نےسرحد پار کرنے کی جگہوں پر ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلانے کی مشترکہ کوششوں کا آغاز کیا ہے۔

پاکستان، افغان مہاجرین کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے، اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے ساتھ مل کر بھی کام کر رہا ہے۔

خان نے کہا کہ "ہمارے ڈاکٹر ایسے سرحدی علاقوں کے قریب مفت طبی کیمپ منعقد کر رہے ہیں جہاں افغان شہریوں کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ یو این ایچ سی آر کے ساتھ تعاون سے، کے پی نے ایسے علاقوں میں صحت عامہ کی سہولیات کو بہتر بنایا ہے جہاں افغان مہاجرین قیام پذیر ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ پشاور کے ہسپتال بھی افغان شہریوں کو سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پشاور میں زیرِ علاج مریضوں میں سے 10 فیصد افغان شہری ہیں جبکہ دیگر علاج کے لیے کوئٹہ جاتے ہیں۔

پاکستان کی "کشادہ دل" پیشکش

افغانستان کے صحت عامہ کے وزیر فیروز الدین فیروز نے ملک کے صحت عامہ کے نظام کو جدید بنانے میں مدد کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "گزشتہ 10 سالوں میں پاکستان نے طبی عملے کے تقریبا 5,000 کارکنوں کو تربیت فراہم کی ہے جس میں مرد و خواتین دونوں ہی شامل ہیں اور یہ افغانستان کے صحت عامہ کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے ہمارے معاہدے کا حصہ ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آبادی کو صحت عامہ کی بہتر سہولیات تک رسائی حاصل ہو اور بیماریوں کے بوجھ کو کم کیا جا سکے"۔

انہوں نے کہا کہ "گزشتہ بیس سال کی دہشت گردی کے باعث افغانستان کی آدھی سے زیادہ طبی سہولیات تباہ ہو گئی ہیں کس سے مریضوں کو علاج کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے"۔

فیروز نے کہا کہ "پاکستان عورتوں اور بچوں کو علاج کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے، نہایت سخاوت سے ہماری مدد کرتا رہا ہےجبکہ ایسے مریض جو ایچ آئی وی ایڈز کے ممکنہ مریض ہوتے ہیں انہیں تشخیص اور مفت ادویات کے لیے پشاور بھیجا جاتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستانی حکومت نے وہاں پر علاج کے لیے جانے والے مریضوں کے لیے ویزا کے عمل کو بھی آسان بنا دیا ہے۔ مریضوں کو سرحد پر ویزا مل جاتا ہے جس کے باعث وہ پاکستان کے ہسپتالوں تک فوری رسائی حاصل کر سکتے ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

1 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
Comment bubble | 02-03-2019

قابلِ ستائش تعاون۔ اسے انسانیت سے متعلقہ وجوہات کی بنا پر جاری رہنا چاہیئے۔

جواب

انتخاب

آپ جاری افغان امن مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو کس طرح دیکھتے/دیکھتی ہیں؟

نتائج