| دہشتگردی

پاکستانی علمائے دین نے 2019 کو دہشت گردی کے خاتمے کا سال قرار دے دیا

از اشفاق یوسفزئی


پاکستان علماء کونسل (پی یو سی) کے چیئرمین مولانا حافظ محمد طاہر محمود اشرفی 6 جنوری کو اسلام آباد میں پیغامِ پاکستان اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے۔ [پی یو سی]

پاکستان علماء کونسل (پی یو سی) کے چیئرمین مولانا حافظ محمد طاہر محمود اشرفی 6 جنوری کو اسلام آباد میں پیغامِ پاکستان اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے۔ [پی یو سی]

پشاور -- پاکستان علماء کونسل (پی یو سی) چوتھی بین الاقوامی پیغامِ اسلام کانفرنس کے انعقاد کی تیاریاں کر رہی ہے، ایک فورم جس کا مقصد 2019 کو دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ فساد کے خاتمے کا سال قرار دینا ہے۔

پی یو سی کے چیئرمین مولانا حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے 13 جنوری کو پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ملک میں فساد کی تمام شکلوں کے خاتمے کے لیے ایک طویل جدوجہد کو طاقت دینے کے لیے ہم 3 مارچ کو ایک کانفرنس منعقد کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے اختتام پر شرکاء ایک اعلامیہ جاری کریں گے جس میں دنیا کو ایک واضح پیغام دیا جائے گا کہ علمائے دین دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں اور خطے میں دیرپا امن کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا عزم کریں گے۔

اشرفی نے کہا، "تمام مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے 5،000 سے زائد علمائے دین دہشت گردی کے خاتمے کی علامت کے طور پر اور مستقبل کے لائحۂ عمل کو کھوجنے کے لیے اسلام آباد میں کنونشن سنٹر پر جمع ہوں گے۔"

علماء خودکش بمباریوں پر نیز غیر مجاز فتووں کے اجراء اور امن کے تحفظ کے لیے دفاعی قوتوں کے کردار پر عالمانہ لیکچر دیں گے۔

انہوں نے کہا، "ہم [دہشت گردوں کی] جانب سے فتووں کے لیے اسلام کے استعمال پر انتہائی پریشان ہیں، لیکن کوئی بھی مذہب دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا۔ نوجوانوں کو مذہب کی غلط تشریحات کے ذریعے گمراہ کیا جاتا ہے، بشمول انہیں دفاعی قوتوں اور عوام الناس کے خلاف خودکش حملے کرنے کے لیے تیار کرنا۔"

اشرفی نے کہا کہ بین الاقوامی کانفرنس کی تیاری کرنے کے لیے، پی یو سی جنوری اور فروری میں پیغامِ پاکستاناجتماعات کے سلسلے کا انعقاد کرے گی۔

ایسے ہی ایک اجلاس میں 6 جنوری کو، علمائے دین نے "قرار دادِ اسلام آباد" جاری کی، جس میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی تمام شکلوں کی مذمت کی گئی اور 2019 کو "پاکستان سے دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ فساد کے خاتمے" کا سال قرار دیا گیا۔

جنوری 2018 میں،1،800 سے زائد علمائے دین نے پیغامِ پاکستان فتویٰ جاری کیا تھا، جس میں شرعی قانون کے نام پر خودکش حملوں، مسلح بغاوت اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی مذمت کی گئی تھی۔

'دہشت گردی کے خلاف ڈٹ جاؤ'

پی یو سی کے رکن مولانا عبدالوحید نے کہا کہ پاکستانی عسکریت پسندی سے بیزار ہیں اور اکتا گئے ہیں اور ہمیشہ کے لیے دہشت گردوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "مردود فرار ہو گئے ہیں کیونکہ وہ فوج سے خوفزدہ ہیں، لیکن ہمیں عوام کو ان کی ذمہ داری سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ ان لوگوں کے خلاف حرکت میں آئیں جو اپنے مفادات کے لیے مذہب کو بدنام کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم عوام کو ترغیب دیتے ہیں کہ وہ اپنے مستقبل کو بچانے کے لیے دہشت گردی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔"

انہوں نے کہا، "ہر مذہب امن کی حمایت کرتا ہے اور فساد کی تمام شکلوں کی مذمت کرتا ہے۔ ہم جس کانفرنس کا انعقاد کر رہے ہیں اس کا مقصد مسلمان دنیا کو درپیش غالب مشکلات سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ طریقۂ کار وضع کرنا ہے۔"

مولانا عبدالوحید نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ علماء کی اولین ذمہ داری مذہبی تعصب پسندوں کے جھوٹوں کا مقابلہ کرنا اور قرآنِ پاک کی تعلیمات کو استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی سے عوام کی آگاہی کو بڑھانا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی، "ہمیں اسلام کا نام غلط استعمال کرنے والوں کے پراپیگنڈے کو ناکام بنانے کے لیے جدید ترین ذرائع ابلاغ استعمال کرنے چاہیئیں۔"

نوشہرہ، خیبرپختوانخوا میں دارالعلوم حقانیہ کے امیر، مولانا حامد الحق نے کہا کہ بین الاقوامی کانفرنس کا مقصد دنیا کے سامنے اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرنا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "اسلام کے متعلق مغالطے ہیں جن کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تمام دینی فرقوں میں ہم آہنگی پیدا ہو اور دنیا میں امن و استحکام کا راستہ کھولا جائے۔"

انہوں نے کہا، "دہشت گردی کے لامتناہی سلسلے کی وجہ سے پاکستان نے بہت بڑے نقصانات اٹھائے ہیں اور اب مزید فساد کا متحمل نہیں ہو سکتا۔"

علماء، حکومت مل کر کام کر رہے ہیں

لاہور کے مقامی عالمِ دین مولانا قاضی مطیع اللہ سعیدی نے کہا، پی یو سی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام حکومتی کوششوں کی حمایت کرتی ہے، بشمول انسدادِ دہشت گردی کے لیےنیشنل ایکشن پلانکا اطلاق۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم حکومت کو بھی ترغیب دے رہے ہیں کہ وہ ہمیشہ کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے پیغامِ پاکستان کانفرنس کی سفارشات کو آئین میں شامل کرے۔"

قاضی نے کہا، "فرقہ واریت کو روکنے کے لیے، ہم نے مذہب کے نام پر دوسروں کو قتل کرنے کو پہلے ہی خلافِ اسلام قرار دے دیا ہے،" انہوں نے کہا کہ دفاعی اداروں اور دوسرے فرقوں کے ارکان کے خلاف بے بنیاد فتووں کا اجراء قابلِ الزام ہے۔

انہوں نے کہا، "ہم ان لوگوں کی سخت مذمت کرتے ہیں جو دفاعی اداروں کو بدنام کرنے کی سازش کرتے ہیں کیونکہ ہماری افواج بدمعاشوں سے بہادری کے ساتھ لڑ رہی ہیں اور انہوں نے امن کے لیے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسی مطبوعات پر مکمل پابندی عائد کرنی چاہیئے جو نفرت انگیز یا فرقہ وارانہ پیغامات پھیلاتی ہیں، بشمول کتب، پمفلٹ اور سی ڈیز، نیز ویب سائٹیں اور دیگر الیکٹرانک میڈیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو شرعی قوانین کی تعلیمات کے مطابق پاکستان میں رہنے والے تمام غیر مسلموں کی حفاظت کرنی چاہیئے۔

شہریوں کی ذہنیت کو تبدیل کرنا

پاکستانی امن کے لیے علماء کے مطالبات کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

پشاور کے مقامی سینیئر دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "دہشت گردی کو مستقل طور پر شکست دینے کے لیے ہمیں اپنے علمائے دین کی پیروی کرنی چاہیئے۔"

انہوں نے کہا، "عسکریت پسند دہشت گردی کرنے کے لیے مذہب کا نام استعمال کرتے رہے ہیں، جو کہ درست نہیں ہے۔ علمائے دین کو درکار ہے کہ وہ اس غلط تاثر کو زائل کریں کہ اسلام دیگر انسانوں کو قتل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔"

شاہ نے کہا کہ علمائے دین نے امن کی کوششوں کو مضبوط کیا ہے اور اب دہشت گرد خودکش بم دھماکوں کے لیے مزید رنگروٹ تلاش کرنے سے قاصر ہیں۔ "ہمارے علماء نے خوکش حملوں کو حرام قرار دیا ہے، جو گزشتہ چند برسوں میں حملوں میں تیزی سے کمی پر منتج ہوا ہے۔"

مردان، خیبرپختونخوا میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے ایک پولیٹیکل سائنسدان، عبدالرحمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے علمائے دین کی حمایت حاصل کرنے کا اثر ہو گا کیونکہ عام پاکستانی انہیں سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "تمام ممالک سے علمائے دین کو جمع کرنا اور دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ پیغام دینا ایک اچھا اقدام ہے۔ ابھی بھی ایسے لوگ بھی ہیں جن کا ماننا ہے کہ دہشت گرد اسلام کی خدمت کرتے ہیں، اور ہمیں علماء کے ذریعے ان کی ذہنیتوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔"

انہوں نے کہا، "دہشت گردی کے خاتمے کی علامت کے طور پر کانفرنس کا انعقاد ایک مثبت اقدام ہے اور یہ دہشت گردی میں کمی کرے گا۔" انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی قوتوں اور عوام الناس کی جانب سے دی گئی قربانیوں کی وجہ سے گزشتہ برسوں کی نسبت پچھلا سال پُرامن رہا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

18
3
نہیں
تبصرے 2
تبصرہ کی پالیسی Captcha
| 01-22-2019

تمام علماء نے شاندار کام کیا ہے اور مسلمانوں کا خوش کن عکس پیش کرنے کے لیے اسلام کی تہِ دل سے خدمت کی ہے۔ آپ بھی اس پیغام کو ارسال کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ اللہ آپ کی پوری ٹیم پر رحمت کرے!!

جواب
| 01-19-2019

اس مکالہ کا مقصد ایک نئی دہشتگردی اور ہلچل مچانا ہے۔ علماء کی جانب سے ایک نئے منصوبے کے مطابق، یہ خطہ ان شدت پسندوں کے قبضہ میں آجائے گا۔

جواب