| صحت

قبائلی علاقوں کے باشندے شدت سے نئے ٹراما سنٹرز کے کھلنے کے منتظر ہیں

اشفاق یوسفزئی


22 دسمبر کو خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت ہاشم انعام اللہ خان میرانشاہ، شمالی وزیرستان کے قبائلی ضلع کے ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں نرسری وارڈ کا دورہ کر رہے ہیں۔ [کے پی محکمہٴ صحت]

22 دسمبر کو خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت ہاشم انعام اللہ خان میرانشاہ، شمالی وزیرستان کے قبائلی ضلع کے ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں نرسری وارڈ کا دورہ کر رہے ہیں۔ [کے پی محکمہٴ صحت]

پشاور – شمالی اور جنوبی وزیرستان کے باشندوں نے ان قبائلی اضلاع میں عوام کی خدمت کرنے کے لیے حکومتِ خیبرپختونخوا (کے پی) کے ٹراما سنٹرز کھولنے کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا ہے۔

ان مراکز کا مقصد طویل عرصہ سے دہشتگردی سے پریشان حال صوبہ کی مقامی آبادی کے ذہنی تناؤ اور جسمانی معذوریوں کو کم کرنا ہے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے ماہرِ نفسیات میاں افتخار حسین نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "دونوں قبائلی اضلاع گزشتہ 15 برس سے دہشتگردی کی بدترین صورت کے گڑھ رہے ہیں، جس کے نتیجہ میں نصف آبادی – بطورِ خاص خواتین – دماغی بیماریوں سے متاثر ہیں۔"


خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت ہاشم انعام اللہ خان 30 دسمبر کو جنوبی وزیرستان کے قبائلی ضلع کا دورہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے وانا میں ایجنسی ہیٍڈکوارٹر ہسپتال میں تنصیبات کا معائنہ کیا۔  [کے پی محکمہٴ صحت]

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت ہاشم انعام اللہ خان 30 دسمبر کو جنوبی وزیرستان کے قبائلی ضلع کا دورہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے وانا میں ایجنسی ہیٍڈکوارٹر ہسپتال میں تنصیبات کا معائنہ کیا۔ [کے پی محکمہٴ صحت]

انہوں نے کہا کہ متعدد پاکستانی تشدد کی طویل لہر میں قریبی رشتہ داروں کو کھو دینے کی وجہ سے بعد از صدمہ کھنچاؤ کی بیماری (پی ٹی ایس ڈی) کا شکار ہیں۔ "جسمانی زخموں سے متعلقہ صورتِ حال بھی کچھ اچھی نہیں۔"

حسین نے کہا کہ صدمہ سے متاثرہ قبائلی اضلاع کے باشندوں کی اکثریت، جو کہ ماہرینِ نفسیات کے پاس جانے کے لیے سفری اخراجات نہیں رکھتے، بغیر علاج کے ہی اپنے آبائی علاقوں میں رہتے ہیں، یہ ایک ایسی صورتِ حال ہے جو ان کے کھنچاؤ کو بڑھا دیتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا، "مریضوں کو ان کے اپنے علاقوں میں تسہیل دینے کے لیے مراکز کا قیام ایک درست فیصلہ ہے۔"

ٹراما سنٹر جلد آ رہے ہیں

کے پی کے وزیرِ صحت ہاشم انعام اللہ خان نے 22 اور 30 دسمبر کو بالترتیب شمالی اور جنوبی وزیرستان کے دوروں کے دوران ٹراما سنٹرز کے قیام کا اعلان کیا۔

دوروں کے دوران خان نے ماؤں اور بچوں کے لیے صحت کی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے مالیات فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا۔

انہوں نے کہا، "ہمیں احساس ہے کہ عوام دہشتگردی سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اب، جبکہ تشدد پیدا کرنے والے ختم ہو چکے ہیں، ہمیں دونوں اضلاع میں عوامی صحت سے نمٹنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔"

انہوں نے فوج کی جانب سے جون 2014 میں شروع کیے جانے والے آپریشن ضربِ عضب کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی، "2014 کے وسط میں عسکری مہم سے قبل وہ عسکریت پسندوں سے بھرے رہے۔"

خان نے کہا کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگیں ابھی بھی زخم دیتی ہیں۔ مجوزہ ٹراما سنٹرز شدید جسمانی زخموں سے نمٹنے کے لیے آلات اور معذوریوں کی انسداد کے حامل ہوں گے۔

انہوں نے 2 جنوری کو پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "یہ مراکز گاڑیوں کے حادثات اور آتشیں اسلحہ سے ہونے والے جسمانی زخموں کے حامل مریضوں کا بھی علاج کریں گے، کیوں کہ یہ اکثر مہلک صدمات کا باعث بنتے ہیں۔"

خان نے مزید کہا کہ یہ مراکز جل جانے اور حملہ سے متاثرہ زخموں سے بھی نمٹیں گے۔

متعدد حکام نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ کے پی ان مراکز کے قیام کی لاگت کا تخمینہ لگا رہی ہے اور جلد ہی اس منصوبہ کے لیے مالیات مختص کرے گی۔

صحت کی خدمات میں بہتری

مقامی ہسپتالوں کے ڈاکٹر اور حکام ٹراما سنٹرز کے قیام کے فیصلہ کی پذیرائی کر رہے ہیں۔

میرانشاہ، شمالی وزیرستان کے ایجنسی ہیڈکوارٹر ہسپتال میں ایک جنرل سرجن، ڈاکٹر محمّد سہیل نے کہا کہ اس خطہ کو بروقت ماہرانہ طبی نگہداشت فراہم کرنے اور معذوریوں سے بچانے کے لیے ایک ٹراما سنٹر درکار ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم ٹراما کی افزودہ خدمات کے ذریعے موت یا مستقل معذوری کے امکانات کو کم کر سکتے ہیں۔ یہ [مراکز] ہمیں شدید بیمار یا زخمیوں کا معالجہ کرنے کی استعداد دیں گے۔"

میرانشاہ ہسپتال کے میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹر محمّد یونس کے مطابق، اس ہسپتال میں صحت کی تقریباً 25 فیصد تنصیبات غیر فعال ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام خدمات کو فعال بنایا جائے گا۔ جلد ہی نئے تشخیصی آلات آئیں گے اور ماہر ڈاکٹر تعینات کیے جائیں گے۔"

انہوں نے کہا، "ٹراما سنٹر ملنے کے بعد ہم معذوریوں کے ساتھ ساتھ دماغی بیماریوں سے بھی نمٹ سکیں گے۔"

وانا، جنوبی وزیرستان میں ایجنسی ہیڈکوارٹر ہسپتال کے ڈاکٹر بھی حکومتِ کے پی کے فیصلہ سے خوش ہیں۔

وانا ہسپتال کے ایک ڈاکٹر وارث خان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم نے حکومت سے جسمانی طور پر معذور مریضوں کی بحالی کے لیے بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کی درخواست کی ہے، کیوں کہ ان میں سے زیادہ تر جسمانی ورزش اور وہیل چیئر یا بیساکھیوں کی فراہمی کے ذریعے [دوبارہ حرکت] کے قابل بن سکتے ہیں۔"

صحت کی تنصیبات کی تجدید

پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ایک ماہرِ نفسیات جواد علی نے کہا کہ عسکریت پسندی کی زد میں علاقوں کے باشندوں کو اپنے مسائل کے لیے خصوصی خدمات صحت درکار ہیں۔

علی نے کہا کہ مریضوں کو ان کے قریب تر مقامات پر علاج فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "نفسیاتی بیماریوں سے متعلقہ صورتِ حال تشویش ناک ہے۔" انہوں نے مزید کہا، "مقامی [سطح] پر خدمات کی فراہمی آبادی کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ معمولی نفسیاتی مسائل کے متاثرین، کے ساتھ ساتھ دھماکوں کی آواز سنتے اور دہشتگردانہ اقدامات دیکھتے بڑے ہونے والے بچوں کا علاج مقامی ٹراما سنٹرز میں مشاورت اور ادویہ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

2018 میں سابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات کے کے پی کے ساتھ انضمام کے بعد حکومتِ کے پی نے نگہداشت صحت میں منصوبہ بندی کے ساتھ بہتری کی ایک لہر کا اعلان کیا۔

کے پی کے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر ارشد خان نے کہا کہ حکومت نے صحت کی تنصیبات کی تجدید کرنے اور دونوں قبائلی اضلاع میں تھیلیسیمیا مراکز اور گردوں کے ڈائلسیز کے مراکز کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے 2 جنوری کو پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دیگر اضلاع میں بھی صحت کی خدمات کی تجدید کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا، "خواتین کو خصوصی توجہ دی جائے گی کیوں کہ مردوں کے غلبہ والے ماحول کے پیشِ نظر، وہ دیگر شہروں کا سفر نہیں کر سکتی ہیں، اور کیوں کہ وہ اپنے علاقوں کے مراکز سے مستفید ہوں گی۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

1
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha