|

مذہب

پشاور میں نوجوانوں کا نیٹ ورک مذہبی ہم آہنگی کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے

ایک بلا منافع کام کرنے والی تنظیم، خویندو کور، بین المذاہب تعلقات اور سماجی ہم آہنگی کو آگے بڑھاتے ہوئے مذہبی عدم رواداری پر قابو پانے کے لیے اپنے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کے ساتھ مصروفِ عمل ہے۔

از دانش یوسفزئی


خویندو کور کے ایک تربیت کار، اشتیاق احمد 18 نومبر کو پشاور میں ایک تفاعلی تربیت گاہ کے دوران ڈسٹرکٹ سوشل ہارمنی نیٹ ورک کے ارکان کو مذہبی ہم آہنگی اور امن پر لیکچر دیتے ہوئے۔ [دانش یوسفزئی]

خویندو کور کے ایک تربیت کار، اشتیاق احمد 18 نومبر کو پشاور میں ایک تفاعلی تربیت گاہ کے دوران ڈسٹرکٹ سوشل ہارمنی نیٹ ورک کے ارکان کو مذہبی ہم آہنگی اور امن پر لیکچر دیتے ہوئے۔ [دانش یوسفزئی]

پشاور -- پاکستان طویل عرصے سے مذہبی اختلافات سے متاثر ہے، ایسے میں بلا منافع کام کرنے والی ایک بہبودی تنظیم، خویندو کور (کے کے) پشتون معاشرے کی بہتری کے لیے مصروفِ عمل ہے، اور پشاور میں مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کو فروغ دینے کے لیے تربیت گاہوں کا انعقاد کر رہی ہے۔

کے کے، یا "بہن کا گھر" بھائی چارے اور دوستانے کا ایک ماحول تیار کرنے کے لیے مسلمانوں، ہندوؤں، عیسائیوں اور سکھوں سمیت مختلف مذاہب کے نوجوان پیروکاروں کو اکٹھا کرنے کے لیے تربیت گاہوں اور مجالس مذاکرہ کا اہتمام کرتی ہے۔

مسیحی برداری سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی باشندے، شمعون مسیح نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم نے جانا کہ اختلاف کیا ہوتا ہے اور اسے کیسے حل کرتے ہیں۔ ماہرین نے ہمیں سکھایا کہ ہم اچھے طرزِعمل اور ابلاغ کے ذریعےمذہبی اختلافات سے کیسے اجتناب کر سکتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم نے مسلمانوں کے ساتھ مضبوط روابط قائم کیے ہیں؛ ہم ایک دوسرے کی مسرت اور خوشی کے لمحات میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ بھائی چارہ اور مذہبی رواداری ہے۔ ہم نے یہاں یہی کچھ سیکھا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ انجیل ہر کسی کو ہمسائیوں کا اچھی طرح خیال رکھنے اور پیار پھیلانے کا سبق دیتی ہے۔

امن کو فروغ دینا

دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ، کے کے نے مختلف مذہبی پس منظروں کے حامل نوجوانوں کا ایک حلقہ قائم کیا ہے جو اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنے اور معاشرے میں مذہبی ہم آہنگی اور امن کو فروغ دینے کے لیے مصروفِ عمل ہیں۔

ایک کے کے پراجیکٹ رابطہ کار، سبحان علی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "حکومت خیبر پختونخوا (کے پی)، علمائے دین اور اقلیتی ارکان کی معاونت سے، ہم نے اقلیتوں کو بااختیار بنانے اور معاشرتی امن کو ترقی دینے کے لیے ڈسٹرکٹ سوشل ہارمنی نیٹ ورک (ڈی ایس ایچ این) قائم کیا ہے۔"

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا، "نیٹ ورک کا مقصد مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی ایک بہتر اور پُرامن مستقبل کے لیے مل کر کام کرنے کے لیے تعلیم و تربیت کرنا ہے۔"

اب تک، ڈی ایس ایچ این صرف کے پی کے صوبائی دارالحکومت، پشاور میں فعال ہے، اور پاکستان کے دیگر حصوں میں وسیع ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔

علی نے کہا، "کے کے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو تعلیم فراہم کرتی ہے اور ایک پُرامن اور صحت مند اجتماعیت بنانے میں ان کی مدد کرتی ہے۔"

انہوں نے یاد دلایا کہ ہندو، عیسائی اور سکھ برداریوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان نیٹ ورک کے فعال شرکاء ہیں۔

علی نے کہا کہ ڈی ایس ایچ این اقلیتوں کے امور اور مسائل کی شناخت کرتا ہے اور انہیں متعلقہ حکام تک پہنچاتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ نیٹ ورک فوری کارروائی کے لیے حکام کو ممکنہ حل بھی تجویز کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امن، سماجی اتصال اور مذہبی رواداری کے کے تربیت گاہوں کے مرکزی موضوعات ہوتے ہیں۔

خوشی پھیلانا

پشاور سے تعلق رکھنے والی ایک سکھ اور ڈی ایس ایچ این کی رکن، منمیت کور نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ وہ اس کردار کی قدر کرتی ہیں جو خواتین کسی بھی معاشرے میں امن اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے ادا کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا، "ایک تعلیم یافتہ ماں ایک مہذب نسل کو پروان چڑھاتی ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے میں پیار، امن اور بین المذاہن ہم آہنگی پھیلانا چاہتے ہیں، پھر ہمیں لازماً اپنی خواتین کو تربیت دینی چاہیئے کیونکہ وہ ہمارے بچوں کے لیے پہلا سکول ہوتی ہیں۔"

انہوں نے کے کے کی تربیت گاہوں کو سراہا، اور کہا کہ وہ ان کے مذہبی عقائد سے ہم آہنگ ہیں، جو دیگر عقائد سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ بھائیچارے اور اچھے تعلقات کی تعلیم دیتا ہے۔

کور نے کہا، "مثبت بنیں، اور اپنی خوشی کو دوسروں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کریں۔ میرے خیال میں یہ خوشی کو پھیلانے اور اختلافات سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج