http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/11/20/feature-01
| معیشت

تصاویر میں: سردریاب میں پتھر کا کاروبار پھل پھول رہا ہے

نظرالاسلام

8 نومبر کو کارکنان دریائے کابل سے ضلع چارسدہ، خیبر پختونخوا میں ایک قریبی سٹور میں پتھر منتقل کر رہے ہیں۔ [نظرالاسلام]

8 نومبر کو ضلع چارسدہ، خیبر پختونخوا میں کارکنان پتھروں کی چھانٹی کر رہے ہیں۔ [نظرالاسلام]

8 نومبر کو ضلع چارسدہ، خیبر پختونخوا میں پتھروں کے ایک کاروبار کا مالک متنوع پتھر منتخب کر رہا ہے۔ [نظرالاسلام]

8 نومبر کو ضلع چارسدہ، خیبر پختونخوا کے قریب دریائے کابل کے کنارے پتھر کی ایک ساخت دکھائی گئی ہے۔ [نظرالاسلام]

8 نومبر کو ضلع چارسدہ، خیبر پختونخوا میں پتھروں کے کاروبار کا مالک ایک ساخت پر پانی چھڑک رہا ہے۔ [نظرالاسلام]

8 نومبر کو ضلع چارسدہ، خیبر پختونخوا میں ایک مقامی باشندے کے مہمان سرائے پر ایک پتھر کا آرائشی ٹکڑا دکھایا گیا ہے۔ [نظرالاسلام]

8 نومبر کو ضلع چارسدہ، خیبر پختونخوا میں پتھروں سے بنا ایک پھول دکھایا گیا ہے۔

پشاور – ضلع چارسدہ، خیبر پختونخوا میں دریائے کابل کے کنارے واقع ایک چھوٹے قصبے سردریاب کے باشندوں نے دستکاری کے متعڈ پراجیکٹس میں استعمال کے لیے رنگارنگ پتھر نکالنے کا ایک نیا کاروبار تشکیل دیا ہے۔

سریاب میں پتھر کے کاروبار کے مالک تسبیح اللہ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "قبل ازاں ہمارے عوام ان رنگارنگ پتھروں کو صرف قبریں سجانے کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔"

انہوں نے کہا، "تاہم، اب ہم نے جدّت پیدا کر لی ہے۔ میرے کارکن میری دکان کے قریب دریائے کابل سے تقریباً 16 رنگوں کے پتھر نکال رہے ہیں۔"

8 نومبر کو ضلع چارسدہ، خیبر پختونخوا میں ایک کارکن دریائے کابل کے کنارے پتھر کھنگال رہا ہے۔ [نظر الاسلام]

تسبیح نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "ہمارا کاروبار پھیل رہا ہے، اور اب ہم یہ خوبصورت چمکدار پتھر چین، کویت اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو برآمد بھی کر رہے ہیں۔"

یہ نیا کاروبار خطے میں مزید ملازمتیں پیدا کر رہا ہے۔ تسبیح کے پاس 18 ملازمین ہیں۔

مقامی گاہک گھروں اور پھولوں کے باغات میں استعمال کے لیے ان پتھروں کے متلاشی ہوتے ہیں۔

تشریف اللہ، جو تسبیح کا رشتہ دار نہیں، نے کہا، "میں پھلواری بنانے کے لیے یہ پتھر لے رہا ہوں۔ یہ پھولوں کو ایک نیا انداز دیتے ہیں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وقت بدل گیا ہے اور مقامی باشندے پھلواریوں اور باڑوں کے لیے سیمنٹ اور پینٹ کا استعمال جاری نہیں رکھنا چاہتے۔ "یہ چھوٹے، خوبصورت، رنگارنگ پتھر ایک اچھا متبادل ہیں۔"

موسمِ سرما دریا سے پتھر نکالنے کے لیے ایک اچھا وقت فراہم کرتا ہے کیوں کہ پانی کی سطح نیچی ہوتی ہے۔

58 سالہ اقبال خان، جو کئی برسوں سے تسبیح کے ساتھ سٹور پر کام کر رہا ہے، نے کہا، "موسمِ گرما میں پانی کی سطح بلند ہوتی ہے اور پتھروں کی تلاش پر خطر ہوتی ہے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "یہ ایک منافع بخش کاروبار ہے،" انہوں نے مزید کہا، "ہم دریا سے درجن بھر سے زائد رنگوں کے پتھر نکالتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "ہرے، زرد، سیاہ اور سفید رنگوں کی نہایت مانگ ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha