|

تعلیم

این جی او نوے ژوند سوات میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی میں مصروفِ عمل

نوے ژوند کی جانب سے مارچ میں کیے گئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ضلع سوات میں 4،000 کے قریب لوگ ہیں جو منشیات، بشمول ہیروئین اور میتھمفیٹامائن کے عادی ہیں۔

از محمد شکیل


اکتوبر میں منگورہ، سوات کے ایک پولیس تھانے میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے نوے ژوند کے زیرِ اہتمام ایک بحالی نشست کے بعد ایک عالمِ دین دعا کرواتے ہوئے۔ [نوے ژوند]

اکتوبر میں منگورہ، سوات کے ایک پولیس تھانے میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے نوے ژوند کے زیرِ اہتمام ایک بحالی نشست کے بعد ایک عالمِ دین دعا کرواتے ہوئے۔ [نوے ژوند]

سوات -- نوے ژوند (نئی زندگی)، ضلع سوات، خیبرپختونخوا میں ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے مصروفِ عمل ہے اور انہیں امید اور حوصلہ دلاتی ہے۔

مقامی باشندوں اور سول سوسائٹی تنظیموں نے منشیات کی لت میں اضافے کی وجہ منشیات کی دستیابی اور سوات جو کہ کبھی انتہاپسندوں کا گڑھ رہا ہے، میں سماجی مسائل کو قرار دیا ہے۔

مارچ میں نوے ژوند کی جانب سے کیے جانے والے ایک سروے میں انکشاف ہوا کہ سوات میں تقریباً 4،000 کی تعداد میں منشیات کے عادی افراد رہتے ہیں، جہاں ہیروئین اور میتھمفیٹامائن مینگورہ میں اور مضافاتی علاقوں میں فروخت ہوتی ہیں۔

نوے ژوند کے ڈائریکٹر، ریاض احمد ہیران نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "سوات میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد کا تخمینہ 3،500 سے 4،000 لگایا گیا تھا، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ وہ سب کے سب ہیروئین یا آئس [میتھمفیٹامائن] یا سونگھنے والی گوند استعمال کر رہے ہیں جو کہ تشویشناک ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "وہ لوگ جو حشیش [چرس]، افیم یا نشہ آور اشیاء کی دیگر اشکال استعمال کرتے تھے وہ ہماری منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں شامل نہیں ہیں۔"

چرس اور افیم ضلع کے بیشتر حصوں میں اکثر تفریحی منشیات کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں، لیکن گوند نشے کی ایک نئی شکل بن گئی ہے۔

انہوں نے کہا، "نشے کے تقریباً 600 عادی افراد، بشمول نابالغ اور دیگر نوجوان جو ہمارے پاس درج ہیں، منشیات کے استعمال کو ترک کرنے کے لیے باقاعدگی سے رہنمائی حاصل کر رہے ہیں۔"

معاشرے میں واپس آنا

ہیران نے کہا، "نوے ژوند کے بحالی کے طریقوں کا مقصد منشیات استعمال کرنے والوں کو بحالے کے بعد پُرعزم ہو کر معاشرے کا سامنا کرنے کی ترغیب دینا بھی ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہم نے باقاعدگی کے ساتھ کھیلوں کی کلاسوں کا انتظام کرنے کے ذریعے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کا ایک منفرد طریقہ متعارف کروایا ہے۔ ہم اساتذہ، ماہرینِ نفسیات، پولیس افسران اور علماء کو [گروہ سے] خطاب کرنے کے لیے مدعو کرتے اور انہیں بحالی کے بعد ایک قابلِ احترام روزگار کمانے کی کے ہنر مہیا کرتے۔"

ہیران کے مطابق، منشیات کے عادی افراد کی بحالی میں مدد کے لیے علماء کو شامل کرنا ایک نیا طریقہ ہے، جس سے کامیابی کی شرح میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا، "ہمارے معاشرے میں علماء کو اپنی حیثیتوں اور دینی منصب کی وجہ سے جو احترام حاصل ہے اسے منشیات کے عادی افراد کو منشیات کا استعمال ترک کرنے اور ایک پُر امن زندگی گزارنے پر قائل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ نوے ژوند بحالی مرکز پر اہلکاروں کی اکثریت رضاکاروں کی ہے جنہوں نے نوے ژوند کی مدد سے خود اپنی نشے کی عادت پر قابو پایا۔ مینگورہ کے ایک مکین، فرقان احمد جو خود شفایاب ہو چکے ہیں، کی وجہ سے نوے ژوند کے سابقہ نشئی اہلکاروں کی تعداد تقریباً 20 ہو گئی ہے۔

سابقہ نشئیوں کے بارے میں ہیران نے کہا، "ان کی شرکت نے ہماری کوششوں کے نتائج میں نمایاں اضافہ کیا ہے کیونکہ وہ ۔۔۔ ایک مثالی نمونہ ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ کوئی بھی شخص منشیات کے استعمال کی لعنت کو شکست دے سکتا ہے اور اپنی ارادوں کو وقار اور احترام کے ساتھ پورا کر سکتا [یا سکتی] ہے۔"

ہیران نے کہا، "ہم محکمۂ پولیس کو بھیسوات سے منشیات کی لعنت کو ختم کرنےکے لیے ان کی متواتر کوششوں پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں -- سوات وہ وادی ہے جس نے انتہاپسندی کے دور میں افراتفری کے دن دیکھے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ بحالی مرکز سب سے پہلے ضلع بونیز کے مضافات میں ایک پولیس تھانے کے ایک خالی کمرے میں قائم کیا گیا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت سے پولیس حکام نے منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے نیک کام میں ہاتھ بٹایا ہے۔

ہیران نے کہا کہ منشیات سے پاک معاشرے کے قیام کا خواب اس وقت تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک کہ مقامی افراد منشیات اور منشیات استعمال کرنے والوں کے خلاف محکمۂ پولیس کی مدد نہیں کرتے۔

عزم اور حوصلہ

شانگلہ سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم فضل خان جو بحالی مرکز پر رضاکارانہ خدمات انجام دیتے ہیں، نے کہا کہ سوات میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافے کی وجہکئی معاشرتی مسائل، عسکریت پسندی کے بعد کے دورکی بے یقینی اور بے روزگاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاشرتی مسائل اور بری صحبت منشیات کی عادت کی بنیاد تیار کرتی ہے۔

خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "میں نے ہیروئین کا استعمال شروع کیا اور بعد میں آئس کا جس سے میرے نام نہاد دوستوں نے مجھے متعارف کروایا تھا۔ جہالت نے مجھے منشیات کے گرداب میں دھکیل دیا اور مجھے دونوں دماغی اور جسمانی طور پر مفلوج کر دیا۔"

انہوں نے کہا، "میرے اہلِ خانہ مجھے مختلف بحالی مراکز پر لے کر گئے مگر بے سُود رہا،" انہوں نے مزید کہا، "یہ نوے ژوند تھی جس نے مجھے امید دی اور مجھے ۔۔۔ منشیات کو ترک کرنے اور معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹنے کا حوصلہ دیا۔"

خان نے کہا، مرکز کا نیا طریقہ، جو انسانی احساسات اور ادراک پر توجہ مرکوز کرتا ہے، نے ایسے بہت سے لوگوں کو، بشمول خود انہیں، بحال کیا ہے جو کبھی منشیات کو اپنی زندگیوں کا لاینحل حصہ سمجھتے تھے۔

مینگورہ کے مکین اور سابقہ نشے کے عادی، احمد نے کہا کہ آئس، تعلیم یافتہ لوگوں کی جانب سے منتخب کردہ نشہکی آمد کے بعد حکومت کی جانب سے بروقت کارروائی اور سول سوسائٹی کی جانب سے فعال معاونت خطرے کی زد میں ایک معاشرے میں منشیات کی عادت پر قابو پانے کے لیے ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا، "اگر ہم منشیات کی عادت [کے خلاف لڑنے] کے مقصد کے لیے ہاتھ ملانے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو یہ ایک تباہی ہو گی۔ اس نے ہمارے معاشرے کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور ہماری اگلی نسل کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

1 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
Comment bubble | 11-11-2018

بہت شکریہ \n

جواب

انتخاب

آپ وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے پہلے تین ماہ سے کتنے مطمئن ہیں؟

نتائج