http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/10/25/feature-01
| حقوقِ نسواں

خاتون کار مکینک عظمیٰ نواز پاکستان میں تبدیلی لا رہی ہیں

اے ایف پی

عظمیٰ نواز نے پاکستان کی پہلی خاتون کار مکینکس میں سے ایک کے طور پر جب سے اوزار اٹھائے، انہوں نے دو عمومی ردِّ عمل کا سامنا کیا: حیرت اور اچھنبا۔ [شازیہ بھٹّی / اے ایف پی ٹی وی / اے ایف پی]

ملتان -- عظمیٰ نواز نے پاکستان کی پہلی خاتون کار مکینکس میں سے ایک کے طور پر جب سے اوزار اٹھائے، انہوں نے دو عمومی ردِّ عمل کا سامنا کیا: حیرت اور اچنبھا۔

اور پھر کچھ احترام۔

اس 24 سالہ لڑکی نے مکینیکل انجنیئرنگ میں سند حاصل کرنے اور ضلع ملتان، صوبہ پنجاب میں گاڑیاں درست کرنے کے ایک گیریج میں ملازمت حاصل کرنے کے لیےجنس سے متعلق محصورکن دقیانوسی تصورات پر حاوی ہونےاور مالیاتی رکاوٹیں عبور کرنے میں برسوں صرف کیے۔

یکم ستمبر کو ایک 24 سالہ مکینک، عظمیٰ نواز صوبہ پنجاب، ضلع ملتان میں ایک کار درست کر رہی ہیں۔ [ایس۔ ایس۔ مرزا/اے ایف پی]

نواز نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، "میں نے اسے تمام تر تفاوت اور اپنے گھر کے قلیل مالی وسائل کے خلاف ایک چیلنج کے طور پر لیا."

"لوگ مجھے اس قسم کا کام کرتے ہوئے دیکھ کر حقیقت میں حیران ہوتے ہیں۔"

سند کے حصول کے دوران مالی وسائل کے فقدان پر دنیاپور کے چھوٹے غربت زدہ قصبے سے اٹھنے والی نواز نے وظائف پر انحصار کیا اور اکثر فاقہ کشی کرتی۔

جو امتیاز اس نے حاصل کیا وہ غیر معمولی ہے۔ پاکستان، بالخصوص دیہی علاقوں میں خواتین نےطویل عرصہ سے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے، اور اکثر ان پر کم عمری میں شادی کر کے اپنے پیشہ ورانہ مستقبل کے بجائے خاندان کے لیے خود کو وقف کر دینے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ان کی قربانیوں نے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ملتان میں ٹویوٹا کی ایک ڈیلرشپ پر مستقل ملازمت حاصل کرنے کے لیے ان کی راہ ہموار کر دی۔

ہتھیار ڈالنے سے انکار

انہوں نے کہا، "کوئی سختی میری خواہش اور میرے شوق کو توڑ نہیں سکتی،"

ملازمت میں ایک ہی برس کے بعد نواز کو جنرل ریپیئرز میں ترقی دے دی گئی۔ وہ ڈیلر شپ کے گیریج میں ایک منجھے ہوئے پیشہ ور کی طرح سہولت سے چلتی پھرتی ہوئی، اٹھائی ہوئی گاڑیوں کے پہیے اتارتی، انجن کا معائنہ کرتی اور متنوع اوزار استعمال کرتی ہیں—ایک ایسا نظارہ جو اوّلاً چند گاہکوں کو جنجھوڑ دیتا ہے۔

ایک گاہک ارشاد احمد نے کہا، "میں ایک نوجوان لڑکی کو بھاری فاضل ٹائر اٹھاتے اور درست کرنے کے بعد واپس رکھتے دیکھ کر اچنبھے میں تھا۔"

لیکن نواز کے عزم اور مہارتوں نے ان کے ساتھ کام کرنے والوں کو متاثر کیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ وہ خود کو سنبھالنے سے بہت بڑھ کر کام کر سکتی ہیں۔

نواز کے ساتھ کام کرنے والوں میں سے ایک ایم۔ عطااللہ نے کہا، "ہم اسے جو بھی کام دیتے ہیں وہ اسے ایک آدمی کی طرح محنت اور جذبے کے ساتھ انجام دیتی ہیں۔"

اس نے اپنے اہلِ خانہ سمیت ان لوگوں میں سے بھی چند کو قائل کر لیا ہے جو کام کرنے کے ایک ایسے ماحول میں کامیاب ہونے کی ان کی صلاحیت پر شبہ کرتے تھے جس میں مرد غالب ہیں۔

ان کے والد محمّد نواز نے کہا، "ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو ورکشاپس میں کام کرنے کی کوئی ضرورت نہیں؛ یہ اچھا نہیں لگتا، لیکن یہ اس کا جذبہ ہے۔"

"اب وہ مشینری ٹھیک کر سکتی ہے اور درست طور پر کام کر سکتی ہے۔ میں بھی بہت خوش ہوں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha