| سلامتی

ایران نے اغوا شدہ ایرانی فوجیوں کی رہائی کے لیے دباؤ بڑھا دیا

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی


اکتوبر کے آغاز میں چھپنے والی تصویر میں جیش ال عادل کے ارکان کو ایرانی فوجیوں کو اغوا کرنے سے کچھ دن پہلے دکھایا گیا ہے۔ ]فائل[

اکتوبر کے آغاز میں چھپنے والی تصویر میں جیش ال عادل کے ارکان کو ایرانی فوجیوں کو اغوا کرنے سے کچھ دن پہلے دکھایا گیا ہے۔ ]فائل[

تہران -- ایران گزشتہ ہفتے اغوا کیے جانے والے ایرانی سیکورٹی فورسز کے 12 ارکان کے سلسلے میں پاکستان پر دباؤ بڑھا رہا ہے اور ایرانی حکام نے اس واقعہ کا ذمہ دار پاکستان کی طرف سے سرحد پر کمزور کنٹرول اور اس کے سرحدی صوبوں میں غیر قانونیت کو قرار دیا ہے۔

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کے سربراہ برگیڈیر جنرل محمد پاکپور نے پیر (22 اکتوبر) کو پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستانی راہنماؤں پر زور ڈالا کہ وہ اس بحران کو حل کریں۔

پاکپور نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ "عسکریت پسندوں کے پاس (اس وقت) پاکستان کے اندر گڑھ ہیں، وہ وہاں رہتے ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کو'ذمہ دار' ٹھراتے ہیں۔


ایرانی فورسز ستمبر میں ایک مشق کے دوران قطار بنائے ہوئے ہیں۔ ایران کی ایلیٹ فورسز کے بہت سے ارکان کو دہشت گردوں کے خستہ حال گروہ، جیش ال عادل کی طرف سے اغوا کر لیا گیا ہے۔

ایرانی فورسز ستمبر میں ایک مشق کے دوران قطار بنائے ہوئے ہیں۔ ایران کی ایلیٹ فورسز کے بہت سے ارکان کو دہشت گردوں کے خستہ حال گروہ، جیش ال عادل کی طرف سے اغوا کر لیا گیا ہے۔

ایران کی اسلامی مشاورتی اسمبلی نیوز ایجنسی (آئی سی اے این اے) کے مطابق، ایران کے وزیرِ خارجہ جاوید ظریف نے پیر کو انہی جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت اس واقعہ کی ذمہ دار ہے کیونکہ ایرانی فوجی پاکستان کے اندر موجود ہیں۔

دوسرے ایرانی حکام اس سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں اور انہوں نے پاکستان پر بدنیتی کا الزام لگایا ہے۔

تسنیم نیوز کے مطابق، ایران کی مجلس کے لیے میرجاوہ، جو کہ سیستان-بلوچستان کا ایک علاقہ ہے، سے تعلق رکھنے والے رکن علی کُرد نے کہا کہ "پاکستانی حکومت اور سیکورٹی کے حکام کے درمیان مشترکہ سرحد پر مزید نگرانی کے بارے میں بہت سے مذاکرات ہوئے ہیں اور انہوں نے ابھی تک صرف وعدے ہی کیے ہیں اور انہیں پورا نہیں کیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں، عدم تحفظ موجود ہے اور کسی بھی قسم کے مسلح عسکریت پسند اور انقلاب مخالف گروہ، اٹھ کھڑے ہو سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستانی حکام تعاون نہیں کرتے ہیں اور وہ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی زیادہ کام نہیں کر رہے ہیں"۔

مشاہدین نے یہ بھی بتایا ہے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے اغوا کی خبر کو زیادہ تر نظر انداز کر دیا ہے جس سے اس بات کے احساس میں اضافہ ہوا ہے کہ پاکستان معاملے کو گھسیٹ رہا ہے۔

جیش ال عادل نے ذمہ داری قبول کی ہے

دہشت گرد گروہ جیش ال عادل نے پیر کو اس اغوا کی ذمہ داری قبول کی جو 16 اکتوبر کو ہوئے تھے۔

12 ایرانی شہری، جن میں آئی آر جی سی کے کم از کم دو اہلکار بھی شامل تھے، کو لولاکدن، جو کہ سیستان-بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان سے 150 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقعہ گاوں ہے، سے اغوا کیا گیا۔

جیش ال عادل جسے 2012 میں بنایا گیا تھا، سُنی انتہاپسند گروہ جند اللہ کی ایک جانشین تنظیم ہے، جس نے حالیہ سالوں میں ایرانی سیکورٹی فورسز پر حملوں کا ایک سلسلہ انجام دیا ہے جن میں سے زیادہ تر سیستان- بلوچستان کے صوبہ میں ہوئے ہیں۔

گروہ نے دو تصاویر شائع کیں جن میں آئی آر جی سی کی ایلیٹ فورس کے سات ارکان اور پولیس کے پانچ کمانڈوز کوجنگی ساز و سامان کے ساتھ گھٹنے ٹیکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تصاویر میں خودکار ہتھیاروں اور نشانہ باز بندوقوں، راکٹ لانچرز، میشن گنوں، دستہ بموں اور گولہ بارود کو بھی دکھایا گیا ہے جو بظاہر ایرانی فورسز سے قبضے میں کیا گیا ہے۔

سیکورٹی پر دوہرا معیار

جبکہ ایران اپنی زمین پر سرگرم دہشت گردوں کا الزام پاکستان پر ڈالتا ہے، تہران نوجوان پاکستانی شہریوں کو شام کی خانہ جنگی میں لڑنے کے لیے بھرتی کرنے کی ایک زبردست مہم کی حمایت کر رہا ہے۔

پاکستانی شیعہ، خصوصی طور پر جو زائرین کے طور پر ایران کا سفر کرتے ہیں، خطرے کا شکار ہیں۔

خبروں میں تجویز کیا گیا ہے کہ آئی آر جی سی کی زینبیون برگیڈ نے گزشتہ چھہ ماہ کے دوران، پاکستان سے تعلق رکھنے والے 1,600 شیعہ جنگجوؤں کو بھرتی کیا ہے۔

اس ہفتہ کے آغاز میں، سیستان-بلوچستان میں ارباین حج کے ایک منتظم رضا بختیاری نے 29 اکتوبر کو ہونے والے ارباین سے پہلے صوبہ میں داخل ہونے والے شیعہ زائرین میں اضافے کے بارے میں شیخی بگھاری۔

مہر نیوز نے بختیاری کے حوالے سے بدھ (17 اکتوبر) کو کہا کہ "صبح سے اب تک، تقریبا 6,000 پاکستانی زائرین یا ارباین حسینی، میرجاوہ سرحدی چوکی کے راستے سے 103 بسوں کے ذریعے، سیستان-بلوچستان صوبہ میں پہنچ چکے ہیں۔

ستمبر 2017 کی پاکستانی انٹیلیجنس کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان سے تعلق رکھنے والے تقریبا 4,000 شیعہ زائرین نومبر 2016 سے جون 2017 کے درمیان ایران میں داخل ہوئے اور پھر واپس نہیں لوٹے ہیں۔

راولپنڈی کے ایک سینئر سیکورٹی اہلکار جاوید ناصر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "آئی آر جی سی سے تعلق رکھنے والی زینبیون برگیڈ نہ صرف ایران کے لیے بھرتی میں ملوث ہے بلکہ وہ تہران سے متشدد ایرانی انقلاب کو پاکستان میں برآمد کرنے کی سازش میں بھی ملوث ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

87
35
نہیں
تبصرے 9
تبصرہ کی پالیسی Captcha
| 03-09-2019

اپنے گروہ کی سب سے بڑی دہشتگرد ریاست، ایران، مذہبی جنون کا محور ہے۔ وہ پاکستان، افغانستان، یمن، اور سعودی عرب میں دہشتگردی کے شدید اقدامات کی معاونت کر رہا ہے۔ صرف فرانس ہی ایران کی حمایت کر رہا ہے کیوں کہ فرانسیسی قیادت طویل عرصہ سے ایرانی بنیاد پرستوں اور ہٹ دھرموں کی کاروائیوں کی حمایت کر رہی ہے۔ امریکہ نے بجا طور پر ایران پر پابندیاں عائد کی ہیں اور صدر ٹرمپ کو ایران کی معیشت کو بڑھوتری دینے کے لیے اس سے ہاتھ ملانے والوں سمیت اسے مزید نچوڑنا چاہیئے، خواہ وہ فرانس ہو یا کوئی اور یورپی یا ایشیائی ملک، کیوں کہ ایران عالمی امن پر منڈلاتا ہوا ایک خدشہ ہے جس کی پش بندی ہونی چاہیئے۔

جواب
| 01-23-2019

میرے خیال میں ایران کو اپنے لوگ واپس لینے کے لیئے الزام تراشی کے بجائے مدد اور تعاون کا کہنا چاہیئے۔ مزید برآں ان کو سرحد کی اپنی جانب بھی صفائی کرنی چاہیئے۔

جواب
| 01-21-2019

ایران پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اعتماد کھو چکا ہے وہ وہی کرتا ہے جو ایران میں چھپے را کے ایجنٹ پاکستان کے خلاف کر رہے ہیں۔ ایران کبھی نہیں چاہتا کہ تیل کے ذخائر کا حامل کوئی اور ملک خطہ میں تیل پر اس کے اقتدار کو چوٹ پہنچائے، ایران کا مکمل جھکاؤ بھارت کی جانب ہے۔ سنّی مسلمانوں سے نفرت ایک اور عنصر ہے۔

جواب
| 11-11-2018

کیا ایسا ممن نہیں کہ ایران و پاکستان سمیت تمام مذاہب کے انسان امن کے ساتھ وقت گزاریں اور انسانیت کی بھلاٸی کے لٸے کام کریں اللہ کرے کہ جاہلیت کے اس دور میں امن کا بول بالا ہو ۔ شکریہ !

جواب
| 11-03-2018

یک طرفہ اور سعودی پشت پناہی والا مکالہ۔

جواب
| 01-31-2019

ہاں

جواب
| 10-28-2018

ھام امان سچاھتا ہاو

جواب
| 10-24-2018

ایرانی فوجی ایران کے اندر اغوا ہوئے، نہ کہ پاکستان میں۔ یہ ان کی سرزمین ہے جو غیر محفوظ اور لاقانونیت کا شکار ہے، نہ کہ ہماری۔ یہ ان کی نااہلیت ہے، نہ کہ ہماری۔

جواب
| 11-02-2018

سچ ہے

جواب