http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/08/24/feature-01
| صحت

افغان- پاکستان سرحد پر ہم آہنگ کوششوں سے پولیو کے خاتمے کی امیدوں میں اضافہ

عدیل سید

ایک افغان طبی کارکن جلال آباد، ننگرہار صوبہ کے مضافات میں 12 مارچ کو قطرے پلانے کی مہم کے دوران ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلا رہا ہے۔ پولیو جو کسی وقت دنیا بھر میں پھیلا ہوا تھا، اب صرف تین ممالک - -افغانستان، پاکستان اور نائجیریا میں ہی موجود ہے۔ ]نوراللہ شیرزادہ/ اے ایف پی[

پشاور -- سرحد کی دونوں اطراف پر بیک وقت چلائی جانے والی ویکسنیشن کی مہمات کے ذریعے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان پولیو کے خاتمے کے لیے کی جانے والی ہم آہنگ کوششوں، نے اس معذور کر دینے والی بیماری کو عالمی پیمانے پر ختم کر دینے کی امیدوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) قبائلی ڈسٹرکٹس کے تکنیکی فوکل پرسن ڈاکٹر ندیم جان نے 2 اگست کو پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "دو ہمسایہ ممالک کی طبی ٹیمیوں نے ایک مشترکہ دشمن -- پولیو سے جنگ کرنے کے لیے متحدہ محاذ بنا لیا ہے"۔

پولیو جو کہ کسی زمانے میں ساری دنیا میں پھیلا ہوا تھا، اب صرف افغانستان، پاکستان اور نائجیریا میں مقامی طور پر پائی جانے والی بیماری ہے۔

گلوبل پولیو اریڈیکیشن انیشی ایٹو کے فریڈرک ور (نیلی واسکٹ، سفید قمیض، بائیں طرف بیٹھے ہوئے) 7 جولائی کو طورخم کی سرحدی چوکی پر، پاکستان اور افغانستان کی ٹرانزٹ ویکسنیشن ٹیموں کی مشترکہ میٹنگ کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ]ای او سی قبائلی ڈسٹرکٹس[

ٹرانزٹ ویکسنیشن ٹیم کے ارکان 7 جولائی کو، طورخم سرحدی چوکی کی پاکستانی طرف میں ایک بچے کو، اپنے خاندان کے ساتھ افغانستان جانے سے پہلے، پولیو کے قطرے پلا رہے ہیں۔ ]ای او سی قبائلی ڈسٹرکٹس[

انہوں نے کہا کہ "پاکستان اور افغانستان کے درمیان مشترکہ سرحد ہے اور انہیں عالمی ادارہِ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی طرف سے ایک بلاک تسلیم کیا گیا ہے۔ اس لیے، ہزاروں افراد کی طرف سے روزانہ سرحد پار کرنے کے امر کو مدِنظر رکھتے ہوئے، اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ہم آہنگ کوششوں کو شروع کرنے کی ضرورت ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "اس کوشش کی توجہ علاقے کے ہر ایک بچے تک رسائی حاصل کرنے پر مرکوز ہے"۔

کسی زمانے میں پاکستان میں پولیو کے وائرس کا گڑھ سمجھا جانے والا علاقہ، سابقہ وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقہ (فاٹا) اب پولیو سے پاک ہے اور گزشتہ سالوں سے کسی نئے واقعہ کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔

جان نے کہا کہ طبی عملے نے علاقے میں پولیو کا آخری واقعہ 27 جولائی 2016 میں ریکارڈ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ "یہاں تک کہ علاقے کے سیوریج سے لیے گئے ماحولیاتی نمونوں کے نتائج میں بھی پولیو وائرس نہیں پایا گیا ہے جو کہ قبائلی پٹی سے اس بیماری کے خاتمے کے سلسلے میں بہت اچھی علامت ہے"۔

ویکسنیشن کی مشترکہ مہمات

پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2,600 کلومیٹر طویل سرحد ہے جس پر عام افراد کی ہر روز نقل و حرکت ہوتی ہے جو وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے میں اضافہ کر دیتی ہے۔

ندیم نے کہا کہ "2015 کے وسط میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں قطرے پلانے کی مشترکہ مہمات کا آغاز ہوا اور اپریل 2018 میں حکام نے بیک وقت چلائی جانے والی قطرے پلانے کی مہمات کو پورے پاکستان اور افغانستان میں پھیلانے کا فیصلہ کیا"۔

اب، دونوں ممالک میں ماہانہ ویکسنیشن ایک ہی تاریخ اور وقت پر ہوتی ہے تاکہ قطرے پلانے والی ٹیمیں ممکنہ طور پر سرحد کی دونوں اطراف پر منتقل ہونے والے ہر خاندان تک پہنچ سکیں"۔

نیشنل سٹاپ ٹرانسمیشن آف پولیو (این- سٹاپ) پروگرام کے ڈاکٹر اکبر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "وائلڈ پولیو وائرس (آر4بی5 سی) جو کہ پشاور میں پایا گیا ہے وہی وائرس ہے جو ننگرہار صوبہ کے شہر جلال آباد میں پایا گیا ہے اور یہ سفر کر رہا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ جینیاتی ترتیب پاکستان اور افغانستان میں پائے جانے والے وائرس میں مماثلت اور آبادی کی نقل و حرکت سے اس وائرس کے منتقل ہونے کے خطرے کو دکھاتی ہے"۔

اکبر نے کہا کہ ان خدشات سے نپٹنے کے لیے، دونوں ممالک کی پولیو ٹیمیں اور بین الاقوامی ماہرین گزشتہ مارچ میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ملے جہاں انہوں نے اس وائرس کے پھیلاؤ اور پولیو کے قطرے پینے سے محروم رہنے والے بچوں کے ذریعے اس کے دوبارہ ہو جانے کو روکنے کے لیے ہم آہنگ کوششوں کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے طبی اہلکار باقاعدگی سے ویڈیو کے ذریعے ملاقات کرتے ہیں تاکہ ویکسنیشن کے منصوبوں کو بنایا جا سکے۔ ہر کیلنڈر سال میں دونوں ممالک میں تقریبا 11 متوازی ویکسنیشن مہمات ہوتی ہیں۔ رمضان میں روزوں کے باعث قطرے پلانے کی مہم نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والی ٹرانزٹ ویکسنیشن ٹیمیں طورخم، خارلاچی، غلام خان اور چمن کی سرحدی چوکیوں پر مستقل ٹرانزٹ پوائنٹس پر بھی ملتی ہیں تاکہ بچوں کو قطرے پلانے اور رجسٹریشن کے بارے میں اعداد و شمار کا تبادلہ کیا جا سکے۔

"پاکستانی کی طرف سے بچوں کو قطرے پلانے اور نگرانی کی کوششوں میں افغانستان کے ساتھ ہم آہنگی بہترین ہے مگر اس رفتار کو قائم رکھا جانا چاہیے"۔ یہ بات یونیورسٹی آف نیروبی کے ایک پروفیسر فریڈرک ور نے کہی جنہیں ڈبلیو ایچ او کے گلوبل پولیو اریڈیکیشن انیشی ایٹو کی طرف سے بنائے جانے والے ادارے، انڈی پینڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ نے پاکستان بھیجا ہے۔

7 جولائی کو ای او سی کے قبائلی ڈسٹرکٹس بیان کے مطابق، ور نے جولائی میں پشاور اور خیبر ڈسٹرکٹ کا دورہ کیا تاکہ سرحد پر قطرے پلانے کے کام کی نگرانی کی جا سکے اور اس کے ساتھ ہی پاکستان اور افغانستان کی پولیو ٹیموں کی مشترکہ میٹنگ کا مشاہدہ کیا جا سکے۔

ہر بچے کو قطرے پلانا

سرحدی چوکی پر، طبی عملہ سرحد کی پاکستانی طرف، ہر اس بچے کا ریکارڈ رکھتا ہے جسے پولیو کے قطرے پلائے گئے ہوتے ہیں اور اس مقصد کے لیے بچے کے انگوٹھے کا نشان لیا جاتا ہے۔ سرحد کی افغانی طرف، طبی عملہ ہر اس بچے کو جسے قطرے پلائے گئے ہوں کی شہادت کی انگلی کا نشان لیتا ہے۔ بعد میں، وہ اعداد و شمار کو سانجھا کرتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ انہوں نے سرحد پار کرنے والے ہر بچے کو قطرے پلا دیے ہیں۔

خیبر پختونخواہ (کے پی) میں پولیو کے خاتمے کے تکنیکی فوکل پرسن، ڈاکٹر امتیاز علی شاہ نے کہا کہ "پولیو کے خاتمے میں مشترکہ کوششوں کے انتہائی اچھے نتائج حاصل ہوئے ہیں"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "پاکستان میں 2018 میں پولیو کے صرف تین واقعات سامنے آئے اور وہ سب کے سب بلوچستان کی دوکی ڈسٹرکٹ میں تھے"۔

انہوں نے کہا کہ 2014 میں پاکستان میں پولیو کے 306 واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے۔ یہ تعداد کم ہو کر 2015 میں 35، 2016 میں 20 ، 2017 میں 8 اور 2018 میں ابھی تک 3 ہو گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹروں نے کے پی یا سابقہ فاٹا میں 2018 کے دوران ابھی تک پولیو کے کسی واقعہ کی اطلاع نہیں دی جو کہ ایک اور خوش آئند علامت ہے۔

شاہ نے کہا کہ "پاکستان پولیو کے خاتمے کے کنارے پر ہے جبکہ افغانستان بھی 2018 میں جون تک پولیو کے آٹھ واقعات کے ساتھ بہتری دکھا رہا ہے۔ اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کہ افغانستان میں سیکورٹی کی صورتِ حال کیا ہےاور قطرے پلانے والی ٹیموں کو بچوں تک رسائی حاصل کرنے میں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پولیو کے کل واقعات جو واحد ہندسے میں ہیں، ایک اچھی علامت ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ ایک ڈسٹرکٹ میں ایک چھوٹے سے علاقے میں پولیو کے واقعات کا سامنے آنا "اس بات کی عکاسی ہے کہ پاکستان میں پولیو کو محدود کر دیا گیا ہے اور وباء کو ملک سے ختم کرنے کے لیے ایک آخری دھکے کی ضرورت ہے"۔

انہوں نے کہا کہ تاہم، علاقے سے پولیو کے مکمل خاتمے کے بغیر، اس کے دوبارہ ابھر آنے کا خطرہ ہمیشہ منڈلاتا رہتا ہے۔ اس لیے دونوں ممالک سے اس بیماری کا خاتمہ کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha