|

ماحول

تصاویر میں: قبائلی علاقہ جات میں پانی کی قلت سے نمٹنا

ضلع مہمند کے چند علاقوں میں 450 فٹ گہرے کنویں کھودنا لازمی ہے، جو کہ مقامی قبائلیوں کے لیے ایک مشکل کام ہے۔ کے پی حکومت مدد کر رہی ہے۔

از عالمگیر خان

  • 
ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں جولائی میں ایک لڑکی گہرے کنویں میں سے پانی نکالتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

    ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں جولائی میں ایک لڑکی گہرے کنویں میں سے پانی نکالتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

  • 
ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں جولائی میں ایک کنویں کے اندر پانی کا برتن دیکھا جا سکتا ہے۔ [عالمگیر خان]

    ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں جولائی میں ایک کنویں کے اندر پانی کا برتن دیکھا جا سکتا ہے۔ [عالمگیر خان]

  • 
ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں جولائی میں بچے پانی کے خالی برتن بھرنے کے لیے لے جاتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

    ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں جولائی میں بچے پانی کے خالی برتن بھرنے کے لیے لے جاتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

  • 
ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں جولائی میں بچے ایک ٹیوب ویل کے قریب اپنے برتن پینے کے پانی سے بھرنے کے انتظار میں ہیں۔ [عالمگیر خان]

    ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں جولائی میں بچے ایک ٹیوب ویل کے قریب اپنے برتن پینے کے پانی سے بھرنے کے انتظار میں ہیں۔ [عالمگیر خان]

  • 
ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں جولائی میں لڑکیاں پانی کے برتن لے جاتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

    ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں جولائی میں لڑکیاں پانی کے برتن لے جاتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

  • 
ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں جولائی میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں گدھا گاڑیوں پر پانی لے جاتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

    ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں جولائی میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں گدھا گاڑیوں پر پانی لے جاتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

  • 
ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں جولائی میں ایک لڑکا گدھا گاڑی پر پانی لے جاتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

    ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں جولائی میں ایک لڑکا گدھا گاڑی پر پانی لے جاتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

بیزائی۔ ضلع مہمند -- تحصیل بیزائی ضلع مہمند کے ان علاقوں میں سے ایک ہے جہاں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

کنویں 450 فٹ کی گہرائی تک کھودنا لازمی ہے، جو کہ مقامی قبائلیوں کے لیے ایک مشکل کام ہے۔

تحصیل بیزائی کے ایک مکین، صنوبر خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہ علاقہ گزشتہ 70 برسوں سے پسماندہ ہے۔"

خان نے کہا، "مقامی باشندے اپنا پانی اکیلے حکومتیٹیوب ویلسے حاصل کرتے ہیں، یا پھر ٹینکر کا آرڈر دیتے ہیں، جو کہ زیادہ تر غریب [مکینوں] کے لیے قابلِ استطاعت نہیں ہے۔"

ضلع مہمند کے پبلک ہیلتھ اینڈ انجینیئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے سب ڈویژنل افسر، جمشید حیسن بنگش نے پانی کی قلت کی تصدیق کی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پورے قبائلی ضلع کو پانی کی قلت کا سامنا ہے، لیکن یہ مسئلہ دیہاتوں میں شدید ترین ہے۔"

بنگش کے مطابق، خیبرپختونخوا حکومت سالانہ ترقیاتی پروگرام کے جزو کے طور پر مہمند ضلع میں پانی کی قلت پر توجہ دیتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کوشش کا پہلا مرحلہ، جس کا آغاز مستقبل قریب میں ہو جائے گا، اس میں چھ ٹیوب ویل کھودنا شامل ہے، جن میں سے ہر ایک کی لاگت 500،000 روپے (5،000 ڈالر) ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہاگر اربابِ اختیار پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کا مسئلہ فوری طور پر حل نہیں کرتے تو پاکستان ماحولیاتی تباہی کے دھانے پر ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق، حکام کے تخمینے ظاہر کرتے ہیں کہ سنہ 2025 تک ملک کو پانی کی "یقینی قلت" کا سامنا ہو گا، جس میں 500 مکعب میٹر پانی فی فرد دستیاب ہو گا -- جو کہ خشک سالی کے شکار صومالیہ میں دستیاب پانی کا محض ایک تہائی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 4

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

پاکستان کی ہندوستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں سے آپ کتنے مطمئن ہیں؟

نتائج