|

سلامتی

سیکورٹی فورسز گلگت بلتستان میں اسکولوں کو نذر آتش کرنے والے عسکریت پسندوں کو تلاش کر رہی ہیں

12 سے زیادہ پولیس یونٹ داریل، چلاس، اور تانگیر کے علاقوں میں گزشتہ ہفتے 12 اسکولوں کو نذر آتش کرنے والے عسکریت پسندوں کی تلاش کر رہے ہیں۔

محمد آہل


5 اگست کو دیامر یوتھ موومنٹ کے اراکین چلاس کے صدیق اکبر چوک میں حال ہی میں ضلع کے ایک درجن اسکولوں کو نذر آتش کرنے کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ [محمد آہل]

5 اگست کو دیامر یوتھ موومنٹ کے اراکین چلاس کے صدیق اکبر چوک میں حال ہی میں ضلع کے ایک درجن اسکولوں کو نذر آتش کرنے کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ [محمد آہل]

دیامر، گلگت بلتستان – پیر (6 اگست) کو پاکستانی سیکورٹی فورسز گلگت بلتستان (جی بی) کے ضلع دیامر میں ایک درجن اسکولوں کو نذر آتش کرنے کے ذمہ داروں کی تلاش کی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

2 اگست کی رات نامعلوم حملہ آوراسکولوں کو نذر آتش کرکے فرار ہوگئے۔ جن 12 اسکولوں پر حملے کیے گئے ان میں سے 10 اسکول طالبات کے تھے۔

جی بی حکومت کے ایک ترجمان فیض اللہ فارق نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، حملے کا اصل سرغنہ عسکریت پسند کمانڈر شفیق ہفتہ (4 اگست) کو تانگیر کے علاقے میں تلاشی کی کارروائی کے دوران ہلاک ہو گیا۔

فارق نے بتایا، دریں اثنا، فورسز نے مبینہ طور پر دہشت گردوں کی معاونت کے الزام میں 30 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔

12 سے زائد پولیس یونٹ داریل، چلاس، اور تانگیر کے علاقوں میں گزشتہ ہفتے 12 اسکولوں کو آگ لگانے والے عسکریت پسندوں کی تلاش کر رہے ہیں انہوں نے مزید بتایا کہ ایک پولیس افسر کارروائی کے دوران شہید ہوا جبکہ دوسرا زخمی ہے۔

فارق نے بتایا، حملے کے جواب میں جی بی حکومت نے پیر کو منصوبہ کا اعلان کیا ہے کہ ازسرنو تعمیر کے بعد جلائے گئے تمام اسکول یکم ستمبر کو کھول دیے جائیں گے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل جی بی گوہر نفیس نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ سیکورٹی فورسز داریل، چلاس اور تانگیر کے علاقوں میں دہشت گردوں کے پکڑے جانے تک کارروائی جاری رکھیں گی۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بیان دیا کہ، فورس کمانڈر شمالی علاقہ جات میجر جنرل ثاقب محمود ملک نے بتایا ہے کہ عسکریت پسندوں کو عوام کو دہشت زدہ کرنے اور طالبات کو تعلیم حاصل کرنے سے روکنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

تعلیم کے دشمنوں سے جنگ

جی بی کے وزیرِ اعلیٰ شمس میر کے ایک ترجمان نے پیر (6 اگست) کو پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے اسلام آباد سے ماہرین پہنچ چکے ہیں، اور ضرورت پڑنے پر ریاست مخالف عناصر سے لڑنے کے لیے مزید معاونت پہنچ سکتی ہے۔

دیامر کے کمشنر عبدالوحید شاہ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم دہشتگردوں کے ملوث ہونے کی نفی نہیں کر سکتے۔۔۔ 2 اگست کو ہونے والا حملہ لڑکیوں کی تعلیم کے دشمنوں کا کام محسوس ہوتا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ماضی میں زیادہ تر 2004-2011 کے عرصہ کے دوران لڑکیوں کے سکولوں کو ہدف بنانے والے شدت پسند ہی موردِ الزام ہیں۔

ملک کے دیگر حصّوں سے پاکستانی سیاسیت دانوں نے سکول جلائے جانے کی مذمت کی۔

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین اور منتخب برائے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ ملک بھر میں معیاری تعلیم فراہم کرنا اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت لڑکیوں کی تعلیم پر مرکوز رہے گی اور "تعلیم دشمنوں کے لیے صفر برداشت ہو گی اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔"

نگران وزیرِ اعظم ناصرالملک نے ایک بیان میں حملے کی مذمت کی اور کہا کہ پاکستانی قوم کو ایسی بزدلانہ حرکتوں سے شکست نہیں دی جا سکتی، انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ جی بی کو سکولوں کے تحفظ کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنے کے احکامات موصول ہوئے ہیں۔

پنجاب کے نگران وزیرِ اعلیٰ حسن عسکری اور کے پی کے نگران وزیرِ اعلیی دوست محمّد خان نے مختلف بیانات میں کہا کہ دہشتگرد تعلیم کی راہ میں حائل ہونے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

تعلیم کی راہ میں رکاوٹیں

یہ سکول جی بی میں لڑکوں اور لڑکیوں میں کم ترین شرحِ خواندگی کے حامل ضلع دیامر میں تعلیم کے فروغ کے لیے تعمیر کیے گئے سکولوں میں سے تھے۔

الف اعلان این جی او کی جانب سے شائع کی گئی پاکستان کی ضلعی تعلیم کی درجہ بندیوں 2017 کے مطابق، 2017 میں گلگلت بلتستان کو 63.18 کا اسکور ملا اور وہ معیارِ تعلیم کے اعتبار سے پاکستان کی آٹھ انتظامی اکائیوں – خیبر پختونخوا (کے پی)، بلوچستان، سندھ اور اس کے بعد وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات— سے اوپر چوتھے نمبر پر رہا۔

دیامر تعلیم کے معیار کے اعتبار سے جی بی میں سب سے کم درجہ بندی کا حامل ضلع تھا، جس کا اسکور 36.37 تھا اور یہ پاکستان کے دس کم ترین درجہ بندی کے اضلاع میں سے تھا۔

اس ضلع میں 224 سرکاری سکول ہیں۔ جن میں سے 83 فیصد پرائمری سطح کے ہیں، 10.6 فیصد مڈل سکول ہیں اور 6 فیصد ہائی سکول ہیں۔ اس میں کوئی ثانوی سکول نہیں ہے۔

الف اعلان کے مطابق، سرکاری سکولوں کی کل تعداد میں سے 156 لڑکوں کے سکول ہیں، جبکہ 88 لڑکیوں کے سکول ہیں۔ سرکاری سکولوں میں اندراج شدہ 16,800 طالبِ علموں میں سے صرف 20 فیصد، یا 3,479 لڑکیاں ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 4

1 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
Ayesha BiBi | 09-11-2018

میں نے بطور فنکار درخواست دی \n

جواب

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج