|

صحت

پاکستان کے ویزہ پابندیاں نرم کرنے کے فیصلے کے بعد افغان مریضوں کو سہولت حاصل ہو گئی

افغان مریضوں کو علاج کے لئے سرحد پار سفر میں سہولت فراہم کرنے سے انھیں بروقت اپائنمنٹ پر پہنچنے اور اشد ضروری طبی سہولت کے حصول میں آسانی ہو گئی۔

اشفاق یوسف زئی


ایک افغان مریض پشاور کے ہسپتال میں علاج کروا رہا ہے۔ [اشفاق یوسف زئی]

ایک افغان مریض پشاور کے ہسپتال میں علاج کروا رہا ہے۔ [اشفاق یوسف زئی]

پشاور – سرحد پار پشاور میں علاج کی سہولت حاصل کرنے کے خواہشمند افغان مریض پاکستان کے ویزہ پابندیاں نرم کرنے کے فیصلے کے فوائد محسوس کر رہے ہیں۔

14 جون، 2016 کو پاکستانی فوج کے ایک میجر کے قتل کے بعد پاکستان نے سرحد پر کڑی پابندیاں عائد کردی تھیں۔

سرکاری اور نجی دونوں ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹر فیاض خان نے بتایا، پابندیوں نے پاکستانی ہسپتالوں سے علاج کے لٗئے کثرت سے آنے والے افغان مریضوں کے لئے مشکلات پیدا ہوئیں۔

انہوں نے بتایا، "افغانستان کے پاس خصوصی طبی سہولیات کافی نہیں ہیں، اس لئے مریض علاج کے لئے پشاور آتے ہیں۔"

انہوں نے بتایا، طورخم سرحد پر پابندیاں مریضوں کے پہنچنے میں تاخیر کا باعث تھیں۔

تاہم اس سال مئی میں نجی ہسپتال مالکان نے داخلہ اور قبائلی معاملات کے محکمہ کے سامنے مسئلہ پیش کرکے اپنے مریضوں کے راستے سے رکاوٹیں دور کرنے میں ایک کردار ادا کیا۔

"مئی کے وسط میں، حکومت نے افغان مریضوں کے لئے ویزہ قوانین میں نرمی کر دی،" خان نے بتایا۔ "اب مستند طبی کاغذات والوں کو بغیر کڑی جانچ کے اندر آنے کی اجازت ہے۔"

اپائنٹمنٹ ضائع ہوجانا

پشاور میں نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال اور ریسرچ سینٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر طارق ہاشم نے بتایا، مریضوں کو اکثر تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور علاج اور فالواپس کا اپائنٹمنٹ ضائع ہو جاتا تھا۔

"مریضوں کی جانب سے کئی شکایات کے بعد کہ ان کا اپائنٹمنٹ سرحد پر تاخیر کی وجہ سے ضائع ہوا، ہم نے حکومت سے رابطہ کیا، جس نے مریضوں کے لئے قوانین میں نرمی کردی۔" انہوں نے بتایا۔

ہاشم نے بتایا، "پابندیوں کے بعد نجی ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں بہت کمی آگئی تھی، لیکن اب صورتحال بہتر ہو گئی ہے کیونکہ انھیں فوری اجازت مل جاتی ہے۔"

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری، کراچی کے ڈاکٹر قیصر سجاد نے سرحد پر چیلنجز کے بارے میں بیان کرتے ہوئے بتایا کہ مریضوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہونا چاہیئے۔

انہوں نے بتایا، ایک افغان خاتون کو، جسے مثانے میں پیچیدگیوں کے باعث آپریشن سے گزرنا پڑا تھا، 20 دن کے بعد طبی جانچ کے لئے دوبارہ آنے کی ہدایت دی گئی تھی، 40 دن کے بعد واپس آ سکی۔

انہوں نے بتایا، کابل کی رہائشی ایک مریضہ جسے افغانستان میں مناسب دیکھ بھال نہیں مل سکی شدید پیچیدگیوں کا شکار ہو گئی کیونکہ گارڈز نے اسے ویزہ نہ ہونے کی بنیاد پر سرحد سے واپس کردیا تھا۔۔

انہوں نے بتایا، "اب، داخلے کے قوانین میں نرمی کے بعد وہ پہنچی ہے اور زیر علاج ہے۔"

خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں اس کے معالج ڈاکٹر رئیس خان نے بتایا، اگر خاتون اپنے اصل فالو اپ اپائنٹمنٹ پر پہنچ جاتی تو اب تک آپریشن کے بعد صحت یاب ہو چکی ہوتی۔

وطن میں ڈاکٹروں کی قلّت

وطن میں ڈاکٹروں کی کمی، افغانستان کے صوبہ خوست کے ایک ڈاکٹر گل جمال صفدر زادہ اپنے والد کو باقاعدگی سے شوکت خانم میموریل ہسپتال اور ریسرچ سینٹر میں کیمو تھراپی کے لئے لاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا، طالبان عسکریت پسندوں نے افغانستان میں ہر ثانوی اور تیسرے درجے کی دیکھ بھال کی سہولت تباہ کرکے افغانوں کو ان کی طبی ضروریات کے لئے پاکستان میں قائم سہولیات پر انحصار کے لئے چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے بتایا، "ہزاروں اسپیشلسٹ ڈاکٹروں نے اپنی جانوں کے خوف سے افغانستان چھوڑ دیا ہے، جس سے مریض مشکل صورتحال میں ہیں۔"

انہوں نے بتاتے ہوئے کہ "ہم سرحد پر داخلے میں آسانی کے لئے ہم پاکستان کے شکرگزار ہیں،" مزید کہا کہ اب وہ اور ان کے والد اپائنٹمنٹ پر مقرہ وقت کے مطابق پہنچنے کے قابل ہیں۔

صوبہ خوست کے عزیزالرحمان نے بتایا کہ اس نے آسانی سرحد عبور کرلی تھی جب ایک ہفتے قبل وہ اپنی بہن کو زچگی سے متعلق علاج کے لئے پاکستان لے کر آیا تھا۔

اس نے بتایا، وطن میں ڈاکٹروں اور سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے طبی سہولیات حاصل کرنے کی اس کی کوششیں ناکام رہیں۔

ہم خوش قسمت ہیں کہ یہاں پہنچ گئے اور اس کا علاج ہوگیا، رحمان نے بتایا۔ اگر وہ ایک دن تاخیر سے پہنچتی اس کی طبیعت بگڑ جاتی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 7

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج