|

انتخابات

بعد از انتخاب پاکستان کو درپیش پانچ سب سے بڑی مشکلات

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انتہاپسندی، معیشت، آبادی میں اضافہ، پانی کی کمی اور سول-فوجی تعلقات مستقبل کی سب سے اہم مشکلات ہیں۔

اے ایف پی


عام انتخابات کے ایک دن کے بعد، اسلام آباد میں 26 جولائی کو پاکستانی صبح کا اخبار پڑھ رہے ہیں۔ ]عامر قریشی/ اے ایف پی[

عام انتخابات کے ایک دن کے بعد، اسلام آباد میں 26 جولائی کو پاکستانی صبح کا اخبار پڑھ رہے ہیں۔ ]عامر قریشی/ اے ایف پی[

اسلام آباد -- پاکستان کی اگلی حکومت کو ان گنت چیلنجوں کو سامنا ہے جن میں آبادی میں اضافے سے لے کر ابلتی ہوئی انتہاپسندی شامل ہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیرمین عمران خان،ملک کے اگلے وزیراعظم بننے کے راستے پر چلتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جمعہ (27 جولائی) کو جاری کیے جانے والے نتائج کے مطابق، پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں فیصلہ کن برتری حاصل ہوئی ہے مگر وہ حکومت بنانے کے لیے درکار 137 نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور پی ٹی آئی کو اتحاد بنانا پڑے گا۔

اس بات سے قطع نظر کہ انچارج کون ہے، نئے حکمران کو سخت فیصلے کرنے ہوں گے اور وہ بھی جلد از جلد۔

پاکستان کو درپیش سب سے بڑی مشکلات کا مفصل تجزیہ کچھ یوں ہے:

انتہاپسندی

حالیہ سالوں میں عسکری گروہوں پر کریک ڈاون کے بعد، پاکستان بھر میں سیکورٹی کی صورتِ حال میں ڈرامائی بہتری آئی ہے۔

مگر تجزیہ نگاروں نے طویل عرصے سے متنبہ کیا ہے کہ پاکستان انتہاپسندی کی بنیادی وجہ سے نہیں نپٹ رہا اور عسکریت پسند ابھی بھی زبردست قسم کے حملے کر سکتے ہیں۔

جس میں انتخابات کے اس موسم میں ہونے والے حملے بھی شامل ہیں، سیاسی اجتماعات میں بم دھماکوں کا ایک سلسلہجس نے 180 افراد کی جانیں لے لیں، بشمول پاکستان کی تاریخ کا دوسرا ہلاکت انگیز ترین حملہ بھی اس سلسلے کی کڑی ہے۔

تجزیہ نگاروں نے متنبہ کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ شورش پسند دوبارہ سے گروہ بندی کر رہے ہوں اور سالوں کے نقصانات کے بعد دوبارہ سے اپنے آپ کو ثابت کرنے کے متلاشی ہوں۔

معیشت

پاکستان کی اگلی حکومت کو ادائیگیوں میں توازن کے بحران کے بارے میں بڑھتے ہوئے خوف کا سامنا ہے کیونکہ اس بات کی قیاس آرائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے کہ اسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی طرف سے پانچ سالوں میں دوسرے بیل آوٹ کو مانگنا پڑے گا۔

سینٹرل بینک زرِمبادلہ کے ذخائر کو استعمال کر رہا ہے اور روپے کی قیمت میں کمی کر رہا ہے جس میں اس ماہ میں 5 فیصد کمی بھی شامل ہے، تاکہ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے میں کمی کی کوشش کی جا سکے۔

پاکستان جس نے طویل عرصے سے درآمدآت پر انحصار کیا ہے، نے کئی بلین ڈالر کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ایک سلسلے کو بنانے کے لیے مواد کی خریداری میں اضافہ کیا جس سے اسلام آباد کی طرف سے ان کی آدائیگی کرنے کی اہلیت کے بارے میں خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

دریں اثنا، علاقائی حریفوں، جن میں چین بھی شامل ہے، کی طرف سے سستی مصنوعات فراہم کیے جانے کے باعث اس کی معمولی سی برآمدآت جیسے کہ ٹیکسٹائل کو نقصان پہنچا ہے جبکہ غیر ملکی ترسیلِ زر -- جو کہ ملک کی معیشت کا ایک بڑا حصہ ہے -- میں کمی آئی ہے۔

معیشت کو تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ سے بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

آبادی میں اضافہ

عالمی بینک اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں ایشیاء میں سب سے زیادہ شرحِ پیدائش ہے جو کہ فی خاتون تقریبا تین بچے ہے۔

گزشتہ سال کی مردم شماری کے مسودہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس شرح کے باعث 1960 سے آبادی میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے جو اب 207 ملین تک پہنچ گئی ہے۔

مشاہدین نے متنبہ کیا ہے کہ آبادی میں انتہائی زیادہ اضافہ، ملک کی طرف سے انتہائی محنت سے کمائی گئی اقتصادی اور سماجی ترقی پر برا اثر پڑ رہا ہے۔

اس مسئلے میں مزید اضافہ اس امر سے پیدا ہوتا ہے کہ مانع حمل طریقوں کے بارے میں کھلے عام بات کرنا برا سمجھا جاتا ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آبادی میں اضافے کو کم کرنے کے لیے اگر زیادہ کام نہیں کیا گیا تو ملک کے قدرتی وسائل -- خصوصی طور پر پینے کا پانی -- آبادی کے لیے کافی نہیں ہو گا۔

پانی کی کمی

تجزیہ نگاروں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر حکام نے پانی کی کمی کے منڈلاتے ہوئے مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے کی کوشش نہ کی تو پاکستان ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق، سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 تک ملک کو پانی کی "مکمل قلت" کا سامنا ہو گا اور فی شخص صرف 500 کیوبک میٹر پانی مہیا ہو گا -- جو کہ سوکھے ہوئے صومالیہ میں میسر پانی کا بھی ایک تہائی ہے۔

پاکستان کے پاس وسیع ہمالیہ گلیشیئرز، دریا، مون سون بارشیں اور سیلاب ہیں -- مگر پانی کو ذخیرہ کرنے کے صرف تین بڑے تالاب ہیں، اس کے مقابلے میں جنوبی افریقہ یا کینیڈا میں یہ تعداد 1,000 سے زیادہ ہے۔

اس کے نتیجہ میں، اضافی پانی جلد ہی ضائع ہو جاتا ہے۔

منڈلاتے ہوئےبحرانوں کے سلسلے کا رخ بدلنے کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے کو بنانے کے لیے سیاسی اقدامات انتہائی ضروری ہوں گے۔ اس کے علاوہ عوام کو پانی بچانے کے بارے میں تعلیم دینے کے لیے بہت کم کام کیے جا رہے ہیں۔

سول-ملٹری تعلقات

پاکستان نے اپنی تاریخ کے تقریبا 71 سالوں میں سے تقریبا آدھے فوجی حکومت کے تحت گزارے ہیں اور سویلین حکومتوں اور مسلح افواج کے درمیان اقتدار کا عدم توازن طویل عرصے سے جمہوریت اور ترقی کے راستے میں ایک رکاوٹ کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔

سرگرم کارکنوں اور کئی نمایاں صحافیوں نے فوج پر الزام لگایا ہے کہ وہ سیاست دانوں اور میڈیا پر دباؤ ڈال کر ایک کمزور سویلین حکومت بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ فوج نے اسالزام کی تردید کی ہے۔

ملک کی اگلی حکومت کو ملک کو درپیش چیلنجوں سے، اقتدار کے اس نازک توازن کو بگاڑے بغیر، نپٹنے کا کام سونپا جائے گا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 22

2 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
Shoaib Ashraf | 08-27-2018

عزیزم جناب۔۔۔ \nنہایت خوب عمدہ کام۔۔۔ \nآداب \n

جواب
Prof.Dr.Naudir Bakht | 07-31-2018

میری رائے ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ بدعنوانی اور بد انتظامی ہے۔ یہ لاقانونیت اور قانون کی حکمرانی کے فقدان پر مبنی ہے۔ \n

جواب

انتخاب

آپ وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے پہلے تین ماہ سے کتنے مطمئن ہیں؟

نتائج