|

انتخابات

پشاور میں ٹی ٹی پی کے بم دھماکے نے جمہوری عمل پر پاکستان کے عزم کو پختہ کر دیا ہے

تمام جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی قائدین نے عہد کیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے سامنے نہیں جھکیں گے اور انتخابات کے ذریعے امن کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

از اشفاق یوسفزئی

پشاور میں ایک دن پہلے ایک انتخابی ریلی پر ہونے والے خودکش حملے، جس کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے، میں جاں بحق ہونے والے 20 افراد، بشمول عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنماء ہارون بشیر بلور، کی آخری رسومات 11 جولائی کو ادا کی گئیں۔ [احمد اعوان / اے ایف پی ٹی وی / اے ایف پی]

پشاور -- اندازاً 30،000 سوگواران بدھ (11 جولائی) کو پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مقامی رہنماء ہارون بشیر بلور کی نمازِ جنازہ میں شریک ہوئے، جس سے ایک روز قبل ایک بم دھماکے، جس کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے، میں کم از کم 21 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

کیپیٹل سٹی پولیس افسر پشاور قاضی جمیل الرحمان نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ یکہ توت گاؤں میں ایک انتخابی ریلی جس میں بلور بھی شریک تھے میں ایک نوجوان خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، انہوں نے مزید کہا کہ دھماکے میں 63 افراد زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا (کے پی) کے شعبۂ انسدادِ دہشت گردی کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس محمد طاہر کی سربراہی میں ایک سات رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی ہے جو ایک ہفتے کے اندر اندر اپنی رپورٹ جمع کروائے گی۔

بلور اے این پی، جو بڑی مدت سے ٹی ٹی پی کی مخالف رہی ہے، کے صوبائی ترجمان تھے۔ وہ دہشت گردوں کے زبانی مخالف تھے، اور اکثر عام شہریوں اور سیکیورٹی فورسز پر ان کے حملوں کی مذمت کرتے تھے۔

گزشتہ چند برسوں کے دورانطالبان جنگجوؤں نے اے این پی کے سینکڑوں قائدین اور حامیوں کو ہلاک کیا ہے ۔ ہارون کے والد بشیر احمد بلور، کے پی کے ایک سابق وزیر اور اے این پی کے سیاستدان، خود بھی دسمبر 2012 میں ایک خودکش بم دھماکے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ ان کے چچا، اے این پی کے بڑے رہنماء غلام احمد بلور، دو خودکش دھماکوں میں بال بال بچے ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بدھ کے روز پشاور کے حلقہ پی کے-78 میں انتخاب ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں سے ہارون بلور25 جولائی کو ہونے والے عام انتخاباتمیں صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے انتخاب لڑ رہے تھے۔ حلقے کے لیے نئی انتخابی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا ہے۔

دہشت گرد جمہوریت سے خائف ہیں

بدھ کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں ٹی ٹی پی نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی۔

پشاور کے مقامی دفاعی تجزیہ کار اور سابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات کے سابق سیکریٹری دفاع، بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے کہا کہ بم دھماکے کا مقصد عوام کو انتخابات میں شرکت نہ کرنے کے لیے دھمکانا تھا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ٹی ٹی پی اور دیگر انتہاپسند دہشت گرد گروہ اپنے خوف اور فساد کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور انتخابات کو قبول نہیں کریں گے ۔۔۔ حکومت کو چاہیئے کہ فساد کے خطرے کو اتنا آسان نہ لے۔"

شاہ نے کہا، "جمہوریت دہشت گردی کا بہترین حل ہے۔"

قومی محکمۂ انسدادِ دہشت گردی (نیکٹا) نے 9 جولائی کو خبردار کیا تھا کہ جاری انتخابی مہم کے دوران دہشت گردوں کی جانب سے چھ سیاستدانوں کو ممکنہ طور پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

نیکٹا کے ڈائریکٹر عبید فاروق نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا کہ ان میں مندرجہ ذیل قائدین شامل ہیں: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان، اے این پی کے رہنماء اسفندیار ولی خان اور امیر حیدر ہوتی، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ، جمعیت علمائے اسلام (ایف) کے رہنما اکرام خان درانی اور طلحہ سعید،جو حافظ سعید -- جنگجو گروہ جماعت الدعوۃ (جے یو ڈی) کے امیر -- کے بیٹےہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ-نواز کی اعلیٰ قیادت کو دھمکیاں ملی ہیں۔

دہشت گردی کو شکست دینا

اے این پی کے صدر اسفندیار ولی خان نے بلور کے لیے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ تاہم وہ پُرعزم رہے، اور کہا کہ ان کی جماعت دہشت گردی سے خوفزدہ ہو کر انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرے گی۔

انہوں نے بدھ کے روز بلور کی رہائش گاہ پر صحافیوں سے کہا، "انتخابی سرگرمیاں تین روز بعد دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔ ہم انتخابات میں حصہ لیں گے اور ملک میں امن قائم کرنے کے لیے جیتیں گے۔"

انہوں نے کہا، "ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انتخاب کو یقینی بنائے اور انتخابی عمل میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کو سزا دے۔"

انہوں نے کہا، "میں کارکنان سے اپیل کرتا ہوں کہ پرسکون رہیں اور امن کے لیے کام کریں۔ ہماری جماعت عدم تشدد کی وجہ سے مشہور ہے، اور ہم ووٹ کی طاقت کے ذریعے دہشت گردوں کو شکست دیں گے۔"

اسفندیار ولی خان نے کہا، "ہم دہشت گردی کے خوف کی وجہ سے بدمعاشوں کے لیے میدان کھلا نہیں چھوڑ سکتے اور ہم ہر قیمت پر انتخاب لڑیں گے۔"

اے این پی کے جنرل سیکریٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہ پارٹی دہشت گردوں کے سامنے نہیں جھکے گی اور امن کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں 1،000 سے زائد کارکنوں اور قائدین کی قربانیاں دی ہیں اور اپنے لوگوں کی خاطر قربانیاں دیتے رہیں گے۔ ٹی ٹی پی جمہوریت کی مخالف ہے اور بزورِ طاقت اپنی غیر قانونی حکمرانی قائم کرنا چاہتی ہے۔"

افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے، میاں راشد حسین کو سنہ 2010 میں ٹی ٹی پی کی جانب سے شہید کیا گیا تھا۔

وسیع مذمت

حملے کی پاکستان اور بیرونی ممالک میں وسیع طور پر مذمت کی گئی۔

پاکستانی فوج کے ترجمان کی جانب سے پوسٹ کردہ ایک ٹویٹ میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اظہارِ تعزیت کیا اور ان اموات کی مذمت کی۔

انہوں نے کہا، "ہم نقصان پہنچانے والی قوتوں کے گٹھ جوڑ کے خلاف لڑ رہے ہیں جو ایک پُرامن اور مستحکم پاکستان کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ہم پُرعزم رہے ہیں اور انہیں شکست دیں گے۔"

منگل کے روز پاکستانی فوج نے اعلان کیا تھا کہ وہ 25 جولائی کوپُرامن اور منصفانہ اور آزاد انتخاباتکے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے 371،000 فوجی تعینات کرے گی۔

دیگر پاکستانی حکام، بشمول نگران وزیرِ اعظم ناصر الملک، اور دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی مذمت کی۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے ٹویٹ کیا، "ہارون بلور اور اے این پی کے دیگر کارکنوں کی اموات کا سن کر دکھ ہوا اور پشاور میں اے این پی کی کارنر میٹنگ پر دہشت گرد حملے کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔"

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے "اس ماہ انتخابات کے لیے مہم چلانے والے عام شہریوں پر پشاور میں حملے" کی پرزور مذمت کی۔

بیان میں کہا گیا، "ہم جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی امید رکھتے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

ٹی ٹی پی کے مستقبل کے لیے ملا فضل اللہ کی موت کا کیا مطلب ہے؟

نتائج