|

معاشرہ

شندور سے تصاویر میں: دنیا کے بلند ترین میدان میں پولو کا جشن

تقریبا 15,000 تماشائیوں نے 9 جولائی کو شندور پولو فیسٹیول کے فائنل میچ میں شرکت کی۔

دانش یوسف زئی

  • 
یہاں نظر آنے والا درہ شندور، شمالی خیبر پختونخواہ میں واقع ہے۔ یہ سطح سمندر سے تقریبا 12,500 فٹ بلندی پر ہے۔ ]دانش یوسف زئی[

    یہاں نظر آنے والا درہ شندور، شمالی خیبر پختونخواہ میں واقع ہے۔ یہ سطح سمندر سے تقریبا 12,500 فٹ بلندی پر ہے۔ ]دانش یوسف زئی[

  • 
گلگت-بلتستان کی سی ٹیم سے تعلق رکھنے والا ایک کھلاڑی 9 جولائی کو پولو کی گیند کو مارنے سے پہلے گول کا نشانہ لے رہا ہے۔ شندور فری اسٹائل پولو کو لکڑی کی ایک گیند استعمال کرتے ہوئے کھیلا جاتا ہے۔ ]دانش یوسف زئی[

    گلگت-بلتستان کی سی ٹیم سے تعلق رکھنے والا ایک کھلاڑی 9 جولائی کو پولو کی گیند کو مارنے سے پہلے گول کا نشانہ لے رہا ہے۔ شندور فری اسٹائل پولو کو لکڑی کی ایک گیند استعمال کرتے ہوئے کھیلا جاتا ہے۔ ]دانش یوسف زئی[

  • 
خواتین تماشائی 9 جولائی کو پولو کے ایک میچ سے لطف اندوز ہو رہی ہیں۔ تماشائیوں میں سے ایک، خالدہ بی بی نے خواتین کے لیے نشستوں کا مناسب انتظام کرنے کا مطالبہ کیا۔ ]دانش یوسف زئی[

    خواتین تماشائی 9 جولائی کو پولو کے ایک میچ سے لطف اندوز ہو رہی ہیں۔ تماشائیوں میں سے ایک، خالدہ بی بی نے خواتین کے لیے نشستوں کا مناسب انتظام کرنے کا مطالبہ کیا۔ ]دانش یوسف زئی[

  • 
گلگت - بلتستان سے تعلق رکھنے والا ایک کھلاڑی 9 جولائی کو میچ کے دوران زخمی لیٹا ہوا ہے۔ شندور فری اسٹائل پولو میں زیادہ تر کھلاڑی بلندی اور آکسیجن کی سطح کے کم ہونے کے باعث زخمی ہوتے ہیں۔]دانش یوسف زئی[

    گلگت - بلتستان سے تعلق رکھنے والا ایک کھلاڑی 9 جولائی کو میچ کے دوران زخمی لیٹا ہوا ہے۔ شندور فری اسٹائل پولو میں زیادہ تر کھلاڑی بلندی اور آکسیجن کی سطح کے کم ہونے کے باعث زخمی ہوتے ہیں۔]دانش یوسف زئی[

  • 
چترال کی ٹیم سی کے ایک کھلاڑی، 42 سالہ راجہ طاہر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ وہ 12 سال کی عمر سے پولو کھیل رہے ہیں۔ ان کے والد نے بھی ایک دفعہ اسی ٹیم کے لیے کھیلا تھا۔ ]دانش یوسف زئی[

    چترال کی ٹیم سی کے ایک کھلاڑی، 42 سالہ راجہ طاہر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ وہ 12 سال کی عمر سے پولو کھیل رہے ہیں۔ ان کے والد نے بھی ایک دفعہ اسی ٹیم کے لیے کھیلا تھا۔ ]دانش یوسف زئی[

  • 
وادیِ کیلاش سے تعلق رکھنے والی خواتین سے 9 جولائی کو آدھے وقفے کے دوران روایتی رقص پیش کیا۔ ]دانش یوسف زئی[

    وادیِ کیلاش سے تعلق رکھنے والی خواتین سے 9 جولائی کو آدھے وقفے کے دوران روایتی رقص پیش کیا۔ ]دانش یوسف زئی[

  • 
ٹورازم کارپوریشن آف خیبر پختونخواہ کے مطابق، 15,000 سے زیادہ تماشائیوں نے 9 جولائی کو فائنل میچ میں شرکت کی۔ ]دانش یوسف زئی[

    ٹورازم کارپوریشن آف خیبر پختونخواہ کے مطابق، 15,000 سے زیادہ تماشائیوں نے 9 جولائی کو فائنل میچ میں شرکت کی۔ ]دانش یوسف زئی[

  • 
ہر سال، ٹورازم کارپوریشن آف خیبر پختونخواہ شندور پولو فیسٹیول کے دوران سیاحوں کی سہولت کے لیے ہزاروں خیمے نصب کرتی ہے۔ ]دانش یوسف زئی[

    ہر سال، ٹورازم کارپوریشن آف خیبر پختونخواہ شندور پولو فیسٹیول کے دوران سیاحوں کی سہولت کے لیے ہزاروں خیمے نصب کرتی ہے۔ ]دانش یوسف زئی[

  • 
میلے کے تین دنوں کے دوران مواصلات کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ شندور وادی میں عمومی طور پر ٹیلی کام کی سہولت ناقص ہوتی ہے۔ ]دانش یوسف زئی[

    میلے کے تین دنوں کے دوران مواصلات کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ شندور وادی میں عمومی طور پر ٹیلی کام کی سہولت ناقص ہوتی ہے۔ ]دانش یوسف زئی[

  • 
پاکستانی فوجی 9 جولائی کو آدھے وقفے میں پیراگلائڈنگ کے کرتب دکھا رہے ہیں۔ تماشائیوں نے پیراٹروپرز کے شاندار فری فال کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ]دانش یوسف زئی[

    پاکستانی فوجی 9 جولائی کو آدھے وقفے میں پیراگلائڈنگ کے کرتب دکھا رہے ہیں۔ تماشائیوں نے پیراٹروپرز کے شاندار فری فال کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ]دانش یوسف زئی[

شندور -- شندور پولو فیسٹیول ہر سال جولائی میں دنیا کے بلند ترین پولو کے میدان میں منایا جاتا ہے جو سطح سمندر سے 12,500 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔

اس سال یہ میلہ 7 سے 9 جولائی تک منعقد ہوا۔

خیبر پختونخواہ کے سیاحت، کھیلوں اور آثارِ قدیمہ کے سیکریٹری محمد طارق نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "شندور وادی میں ہزاروں سیاحوں کی میزبانی کی جاتی ہے جو پاکستان اور دنیا بھر سے سفر کر کے اس شاندار پولو میچ کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں جو تاریخی حریفوں چترال اور گلگت-بلتستان کے درمیان کھیلا جاتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "اس بلندی پر آکسیجن کی سطح کے انتہائی زیادہ طور پر کم ہو جانے کی وجہ سے یہ میچ فری اسٹائل میں کھیلا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ کوئی قواعد نہیں ہوتے جس سے کھیل اور بھی زیادہ دشوار ہو جاتا ہے۔ آدھے وقفے کے دوران، مقامی افراد تماشائیوں کو روایتی اور ثقافتی مظاہروں سے محظوظ کرتے ہیں"۔

اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے کہ کون جیتا، چترال اور گلگت-بلتستان دونوں چار ٹیمیں بھیجتے ہیں -- اے، بی، سی اور ڈی -- جو دوسری طرف کی ٹیموں کے خلاف کھیلتی ہیں۔

ہر ٹیم میں چھہ ارکان ہوتے ہیں۔ اگرچہ کوئی بھی ٹیم فائنل میں پہنچ سکتی ہے مگر عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ دونوں اطراف کی اے ٹیم میں سب سے بہترین کھلاڑی ہوتے ہیں۔

اس سال، دفاعی چیمپین چترال کی اے ٹیم نے گلگت-بلتستان کی اے ٹیم کو 9 جولائی کو ہونے والے فائنل میں 5-10 سے ہرا دیا۔

فرنٹیئر کور کے انسپکٹر جنرل کے پی نارتھ وسیم اشرف نے جیتنے والی ٹیم کو نقد انعامات اور ٹرافیاں دیں۔

انہوں نے کہا کہ کھیل پاکستان میں ثقافتی تنوع، ہم آہنگی اور امن کا ثبوت ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

4 تبصرے 💬

💬

Fayaz | 07-16-2018

بہت اعلی۔ چترال گزشتہ پانچ سال سے چیمپءن ہے۔


💬

Raja Wahid | 07-13-2018

بہت خوب ہمارے بارے میں لکھنے کے لئے شکریہ پاکستان فارورڈ


💬

Khan zeb | 07-13-2018

واہ۔ بہت دلچسپ اور معلوماتی مضمون۔ پولو تمام کھیلوں کا بادشاہ ہے بہت خوب


💬

Humayoon | 07-12-2018

ثقافت اور کھیل کے بارے میں دلچسپ اور حیران کردینے والے حقائق


انتخاب

ٹی ٹی پی کے مستقبل کے لیے ملا فضل اللہ کی موت کا کیا مطلب ہے؟

نتائج