|

معاشرہ

جانوروں کی ہلاکتوں کے باوجود، پشاور چڑیا گھر میں ہزاروں لوگ آتے ہیں

فروری میں چڑیا گھر کے کھلنے سے لے کر اب تک 34 سے زیادہ جانوروں کی ہلاکتوں کے باجود، ہزاروں مہمان روزانہ چڑیا گھر آتے ہیں۔

عدیل سید


ایک خاندان 28 جون کو پشاور چڑیا گھر میں داخل ہو رہا ہے۔ چڑیا گھر، جس کا افتتاح فروری میں ہوا تھا، روزانہ ہزاروں مہمانوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔ ]عدیل سید[

ایک خاندان 28 جون کو پشاور چڑیا گھر میں داخل ہو رہا ہے۔ چڑیا گھر، جس کا افتتاح فروری میں ہوا تھا، روزانہ ہزاروں مہمانوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔ ]عدیل سید[

پشاور -- جانوروں کی ہلاکتوں اور مبینہ طور پر ان سے بدسلوکی کی خبروں کے باجود، پشاور کا چڑیا گھر مقامی شہریوں اور دوسرے صوبوں سے آنے والے مہمانوں کو تفریح اور تعلیم فراہم کر رہا ہے۔

پاکستان میں چڑیا گھر، جن میں اسلام آباد اور کراچی کے چڑیا گھر بھی شامل ہیں، میں عام طور پر عملے کی مستقل کمی ہوتی ہے۔ ملک میں جانوروں کے تحفظ کے لیے بہت تھوڑے قوانین ہیں۔

پشاور کے چڑیا گھر کا افتتاح، اس کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد 13 فروری کو ہوا تھا۔ اس منصوبے پر اس وقت تک 500 ملین روپے (5 ملین ڈالر) کا خرچہ آ چکا ہے اور توقع ہے کہ اس پر 2 بلین روپوں ( 20 ملین ڈالر) کی کل لاگت آئے گی۔

خیبر پختونخواہ (کے پی) میں بیرونی تفریحی سرگرمیاں اس سے پہلے محدود تھیں اور اس کی وجہ عسکریت پسندوں کے حملوں کا خطرہ تھا۔ تاہم، امن و امان کی صورتِ حال کے بہتر ہو جانے اور نئی تفریحی سہولیات کے قیام کے باعث، ایسی جگہوں پر تماشائیوں کا ہجوم رہتا ہے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے تاجر اعجاز احمد جو کہ چڑیا گھر کی سیر کرنے آئے تھے، نے کہا کہ علاقے کے شہریوں کو سکون اور تفریح فراہم کرنے کے لیے تفریحی سہولیات لازمی ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میں اپنے بچوں کو تقریبا ہر ہفتے لے کر آتا ہوں تاکہ وہ مختلف طرح کے جانور دیکھ کر لطف اندوز ہو سکیں جنہیں انہوں نے صرف ٹیلی ویژن پر ہی دیکھا ہے"۔

پشاور چڑیا گھر کے ڈائریکٹر سید محمد علی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہمارے ہاں تقریبا ہر روز 6,000 سے زیادہ تماشائی آتے ہیں اور ان سے 40 روپے (0.40 ڈالر) کی انتہائی کم فیس لی جاتی ہے"۔

طلباء کے لیے فیس 20 روپے (0.20 ڈالر) ہے جب کہ ساٹھ سال کی عمر سے زیادہ کے بزرگ شہریوں اور تین سال سے کم عمر کے بچوں کا داخلہ مفت ہے۔

تعلیم، تفریح کی فراہمی

علی نے کہا کہ "یہ سہولت نہ صرف آنے والوں کو تفریح فراہم کر رہی ہے بلکہ انہیں تعلیم بھی فراہم کرتی ہے اور مختلف جانوروں کے رویوں اور پنجروں میں انہیں رکھنے کے بارے میں آگاہی بھی پھیلا رہی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "آنے والے چڑیا گھر کے اپنے دورے کے دوران مختلف اقسام کے جانوروں کی کھانے پینے کی عادات کے بارے میں سوال کرتے ہیں"۔ علمِ حیوانات کے طالبِ علموں کو اپنی تحقیق کے لیے جانوروں کا مشاہدہ کرنے کا فائدہ ملتا ہے۔

عوام کے لیے بڑے جانوروں کی بیس اقسام دیکھنے کے لیے رکھی گئی ہیں جن میں چار گوشت خور -- شیر، تیندوے، چیتے اور بھیڑیے -- ایک ہمہ خور ریچھ اور 15 نبات خور جانور شامل ہیں۔

چڑیا گھر میں 40 سے 45 پرندوں کی اقسام ہیں جن میں دوسرے ممالک سے لائے گئے کئی مختلف قسم کے پرندے بھی شامل ہیں۔

توقع ہے کہ پشاور کا چڑیا گھر جون 2020 تک مکمل ہو جائے گا۔ تعمیر کے جاری ہونے کے دوران بھی، جانوروں کی اضافی اقسام کی آمد جاری رہے گی۔

25 جون کو چھہ بنگالی چیتے جنوبی افریقہ سے چڑیا گھر پہنچے۔

اس کے دو دنوں کے بعد، چڑیا گھر کو پانچ زرافے ملے جن کے بارے میں علی کا کہنا ہے کہ وہ مزید تماشائیوں کو اپنی طرف کھینچیں گے کیونکہ ان کی کمی کو ہر آنے والے نے محسوس کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جلد ہی زیبرے بھی آ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹھیکہ دار ان کو منتقل کرنے کا انتظام کر رہا ہے۔

جنگلی حیات کی توسیع کے پی ڈویژن کے فارسٹ افسر نیاز محمد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "کے پی کے صوبہ کو منفرد نبائی اور حیواناتی حیاتیاتی تنوع سے نوازا گیا ہے کیونکہ پاکستان میں پائے جانے والے ممالیا جانوروں کی 188اقسام میں سے 98 کے پی میں پائی جاتی ہیں، اسی طرح پرندوں کی 456 اقسام، رینگنے والے جانوروں کی 56 اقسام، 44 اقسام کی تیتلیاں، 118 اقسام کی مچھلیاں اور 4,500 سے زیادہ اقسام کے پودے پائے جاتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ چڑیا گھر میں مختلف اقسام کے مقامی اور جنگلی جانوروں اور پرندوں کی نمائش کے لیے کام جاری ہے۔

بڑھوتی کا درد

تحقیقاتی کمیٹی جسے چڑیا گھر میں جانوروں کی فلاح و بہبود کے بارے میں جانچ پڑتال کرنے کا کام سونپا گیا تھا، کی تین مئی کی رپورٹ کے مطابق، اپنے آغاز سے اب تک 34 سے زیادہ جانوروں کی ہلاکتوں کے باجود چڑیا گھر مقبول ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 30 سے زیادہ پرندے، ایک نیلگی (بارہ سینگھا)، ایک برفانی تیندوا، ایک ہلکا بھورا ہرن اور ایک بندر سانس لینے میں مسئلہ، قدرتی وجوہات یا نقل و حرکت اور قرنطینہ کے دوران ناقص حالات کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

علی نے تسلیم کیا کہ سب سے بڑا مسئلہ عملے کی کمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہمارے پاس اس وقت چڑیا گھر میں 34 ملازم ہیں جبکہ ہمیں 250 ملازمین کی ضروت ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملازمین کی تعیناتی کے لیے حکام اور صوبائی فنانس ڈپارٹمنٹ کی منظوری کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ "چڑیا گھر کے پاس جانوروں کے چار ڈاکٹر رکھنے کی اجازت ہے مگر ہمارے پاس صرف ایک ہی ہے جس کے دو نائب ہیں اور وہ تمام جانوروں اور پرندوں کی مناسب دیکھ بھال میں پوری طرح مصروف رہتے ہیں"۔

علی نے کہا کہ ویٹنری ٹیم تمام جانوروں کی صحت کا مناسب طور پر مشاہدہ کر رہی ہے اور انہیں گاہے بگاہے مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین بھی دی جاتی ہے"۔

رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ پرندے اور نیلگی سانس لینے کے مسئلے کے باعث مرے جبکہ ہلکا بھورا ہرن اپنے پنجرے کی سلاخوں کے ساتھ ٹکرانے کے باعث مرا۔ بندر بھیٹریوں کے ایک غول کی طرف سے شدید زخمی کیے جانے کے باعث مرا جسے اسی پنجرے میں رکھا گیا تھا۔

برفانی تیندوا اچانک مر گیا اور پوسٹ مارٹم سے پتہ چلا کہ اس کی رگوں کا بند ہونا مرنے کی بنیادی وجہ تھی۔ یہ بات علی نے بتائی اور تفتیش سے اس بات کی تصدیق بھی ہوئی۔

علی نے کہا کہ شکار کرنے والے جانور جیسے کہ تیندوے کی زندگی 10 سے 14 سال کے درمیان ہوتی ہے۔ جو چڑیا گھر میں مرا اس کی عمر 11 سال تھی اور اس کے مرنے کی وجہ قدرتی حالات تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ برفانی تیندوے کی ہلاکت کے نتائج کو ابھی آخری شکل دی جا رہی ہے اور اس وقت وہ کے پی کے چیف سیکریٹری اعظم خان کے پاس ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے پہلے تین ماہ سے کتنے مطمئن ہیں؟

نتائج