| تجزیہ

کیا داعش مغرب کی تخلیق کردہ ہے؟

پاکستان فارورڈ


ابوبکر البغدادی 2014 میں موصل، عراق کی النوری مسجد میں "دولتِ اسلامیہ" کی تخلیق کا اعلان کر رہے ہیں۔ البغدادی کا تعلق عراق سے ہے اور وہ داعش کے بانی بننے سے پہلے القاعدہ سے تعلق رکھتے تھے۔ ]فائل[

ابوبکر البغدادی 2014 میں موصل، عراق کی النوری مسجد میں "دولتِ اسلامیہ" کی تخلیق کا اعلان کر رہے ہیں۔ البغدادی کا تعلق عراق سے ہے اور وہ داعش کے بانی بننے سے پہلے القاعدہ سے تعلق رکھتے تھے۔ ]فائل[

اسلامی دنیا میں موجود سب سے زیادہ مستقل سازشی تصورات میں سے ایک یہ ہے کہ "دولتِ اسلامیہ (داعش) اور اس جیسے انتہاپسند گروہ مغربی ممالک خصوصی طور پر امریکہ کی پیداوار ہیں۔

یہ خیال، جو تجویز کرتا ہے کہ ان گروہوں کو اسلامی ممالک میں مغربی دخل اندازی کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، کو اسلامی دنیا میں آبادی کے بڑے حصوں میں قابلِ قدر حمایت حاصل ہے جس میں سیاست دان بھی شامل ہیں۔

علماء، ماہرین اور مذہبی شخصیات کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تصورات جھوٹ ہیں جنہیں اصل حقائق کو مسخ کرنے کے لیے پھیلایا گیا ہے۔


داعش کی طرف سے عید الاضحی 2016 پر جاری کردہ ویڈیو سے، اس کے جنگجوؤں کی طرف سے شام کے متاثرین کے گلے کاٹنے سے چند لمحے پہلے کی لی گئی تصویر۔ ایک ماہر کا کہنا ہے کہ اس نظریے کے فروغ سے کہ امریکہ نے داعش کو تخلیق کیا ہے "کچھ قوتیں درحقیقت لوگوں کو عالمی عسکری نیٹ ورکس کی سفاکیوں کے بارے میں متذبذب کرنا چاہتی ہیں"۔ ]فائل[

داعش کی طرف سے عید الاضحی 2016 پر جاری کردہ ویڈیو سے، اس کے جنگجوؤں کی طرف سے شام کے متاثرین کے گلے کاٹنے سے چند لمحے پہلے کی لی گئی تصویر۔ ایک ماہر کا کہنا ہے کہ اس نظریے کے فروغ سے کہ امریکہ نے داعش کو تخلیق کیا ہے "کچھ قوتیں درحقیقت لوگوں کو عالمی عسکری نیٹ ورکس کی سفاکیوں کے بارے میں متذبذب کرنا چاہتی ہیں"۔ ]فائل[


یمن میں داعش کے تربیتی مرکز میں رنگروٹوں کو دکھایا گیا ہے۔ داعش اپنی اہلیت کو استعمال کرتے ہوئے ابھری اور اس سے ہی اس نے اپنی جنگی قابلیت اور حربوں کو ترقی دی۔ ایک ماہر کا کہنا ہے کہ یہ بات ناقابلِ یقین ہے کہ اسے سی آئی اے یا کسی اور کی طرف سے ہدایات اور مشورے ملتے ہیں۔] فائل[

یمن میں داعش کے تربیتی مرکز میں رنگروٹوں کو دکھایا گیا ہے۔ داعش اپنی اہلیت کو استعمال کرتے ہوئے ابھری اور اس سے ہی اس نے اپنی جنگی قابلیت اور حربوں کو ترقی دی۔ ایک ماہر کا کہنا ہے کہ یہ بات ناقابلِ یقین ہے کہ اسے سی آئی اے یا کسی اور کی طرف سے ہدایات اور مشورے ملتے ہیں۔] فائل[


داعش نواز ال وفاء میڈیا فاونڈیشن کی طرف سے پھیلائی جانے والی ایک تصویر میں داعش کے عناصر کو جنگی تربیت حاصل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ کچھ ممالک، خاص طور پر ایران، سازش کے خیال کو علاقے میں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے اعمال پر الزامات سے توجہ ہٹا سکے۔ ]فائل[

داعش نواز ال وفاء میڈیا فاونڈیشن کی طرف سے پھیلائی جانے والی ایک تصویر میں داعش کے عناصر کو جنگی تربیت حاصل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ کچھ ممالک، خاص طور پر ایران، سازش کے خیال کو علاقے میں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے اعمال پر الزامات سے توجہ ہٹا سکے۔ ]فائل[

کراچی سے تعلق رکھنے والے مذہبی عالم علامہ احسان صدیقی جو بین المذہبی کمیشن برائے امن و ہم آہنگی کی قیادت کرتے ہیں، نے کہا کہ "ایسے نظریات کو فروغ دینے سے، کچھ قوتیں درحقیقت لوگوں کو عالمی عسکری نیٹ ورکس کی سفاکیوں کے بارے میں متذبذب کرنا چاہتی ہیں"۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ "کوئی بھی اس کی جڑوں کو أبو مصعب الزرقاوي تک لے جا سکتا ہے" کہا کہ مشرقِ وسطی میں داعش کے آغاز کی تاریخ کے بارے میں کوئی سوال نہیں ہے۔

اردن کے عسکریت پسند الزرقاوي، جس نے 2004 میں القاعدہ میں شمولیت اختیار کی تھی، نے اسامہ بن لادن کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا تھا، بعد میں ایراق میں القاعدہ کا پہلا امیر بنا تھا۔

عراق میں جڑیں

ابوبکر البغدادی -- جو اب داعش کی قیادت کرتا ہے -- نے ایک سال بعد، بغداد کی کیمپ بوکا جیل سے نکلنے کے بعد، 2005 میں القاعدہ میں شمولیت اختیار کی، جہاں اسے ایک مطلوبہ دہشت گرد کے پاس جاتے ہوئے گرفتار کیے جانے کے بعد قید کیا گیا تھا۔

جنوبی سامَرّاء کے گاوں ال جیلم میں 1971 کو پیدا ہونے والے البغدادی بعد میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے بغداد منتقل ہو گئے۔ یہ بات ہاشم ال ہاشمی نے بتائی جنہوں نے داعش پر دو کتابیں "دی ورلڈ آف آیسس" اور "آیسس فرام ویدن" لکھی ہیں۔

ال ہاشمی نے کہا کہ کم عمری سے ہی وہ صلافی نظریات سے متاثر تھا اور بغداد کی ایک مسجد کے امام کے طور پر اپنے انتہاپسندانہ خیالات کو پھیلانا چاہتا تھا۔

عسکری گروہ جیش الطائفہ المنصورہ کی ایک نمایاں شخصیت ہونے کے ناطے، البغدادی کو اس کے کزن ملا فوزی البدری نے القاعدہ سے متعارف کروایا اور اس نے اس وقت کے راہنما الزرقاوي کے ساتھ وفادری کا عہد کیا۔

الزرقاوي 2006 میں ایک امریکی چھاپے میں ہلاک ہو گیا۔

ال ہاشمی نے کہا کہ "جب سے الزرقاوي ہلاک ہوا ہے، البغدادی نے ابو عمر البغدادی (حامد داود محمد خلیل ال زاوی) کی قیادت کے دوران، جماعت کی صفوں میں ترقی کرنا جاری رکھا۔"

اس کے بعد، اس نے ابو حمزہ ال مہاجر، عراق میں مصری القاعدہ کے سربراہ، کے تحت خدمات انجام دیں اور "داعش کا راہنما بننے کا راستہ ہموار کیا"۔

ال ہاشمی نے کہا کہ ال مہاجر کی وفات، جسے عراقی فورسز نے 2010 میں ہلاک کیا تھا، نے "البغدادی کو راہنما بننے کا موقع دیا"۔

انہوں نے کہا کہ البغدادی کو "نوزائیدہ داعش کی قیادت" کرنے کے لیے تجویز کیا گیا مگر اس کی امیدیں اس سے بھی بلند تھیں اور وہ اسلامی خلافت کو بحال کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا۔

ال ہاشمی نے کہا کہ "البغدادی نے 2011 میں شام میں شورش کا فائدہ اٹھایا اور اپنی چند قریبی پیروکاروں کو القاعدہ کے ارکان کو جو مشرقی شام میں موجود تھے، اس بات پر قائل کرنے کے لیے بھیجا کہ وہ خلافت کے تصور کو قبول کر لیں اور اپنے مرکزی گروہ کو چھوڑ کر داعش میں شامل ہو جائیں جو کہ مضبوط ہونا شروع ہو گئی تھی"۔

اپریل 2013 میں وہ آخرکار شام کی قیادت اور ایسے گروہوں کو جو نظریاتی طور پر القاعدہ سے منسلک تھے، کو داعش کے قیام کا اعلان کرنے پر قائل کرنے میں کامیاب رہا۔

ان گنت جھوٹ

مصری سیاسی محقق، عبدل نبی باقر جو الاظہر یونیورسٹی کے شریعت اور قانون کے شعبہ کے پروفیسر ہیں، نے کہا کہ دہشت گرد گروہوں کے علاقے میں پھیلاؤ کے ساتھ ان گنت جھوٹ موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "تاریخی اور سیاسی حقائق کا جائزہ لینے کے بعد، ہم نے نامعلوم فریقین کی طرف سے پھیلائے جانے والے دعووں کو سراسر جھوٹ پایا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان دعوؤں کو بڑے پیمانے پر مانا جاتا ہے "کیونکہ انہیں علاقے کے بہت سے سیاست دانوں نے بار بار دہرایا اور ان پر بار بار زور دیا ہے"۔

باقر نے سوال کیا کہ "مثال کے طور پر داعش امریکہ کی پیداوار کیسے ہو سکتی ہے جبکہ وہ عراق میں القاعدہ سے ابھری ہے جسے أبو مصعب الزرقاوي اور اس سے پہلے بن لادن نے بنایا تھا؟"

اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیش اسٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا نے کہا کہ یہ بات بہت واضح ہے کہ داعش کو القاعدہ کے سابقہ راہنماؤں نے بنایا تھا جو عراق اور شام میں سرگرم تھے۔

عراقی ماہر ال ہاشمی نے کہا کہ "اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ داعش امریکہ کی پیداوار ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "اس تنظیم اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے ابھری اور اس نے اپنی حملوں کی اہلیت اور ہتھکنڈوں کو ترقی دی۔ یہ بات ناقابلِ یقین ہے کہ یہ، باقی کی بنیاد پرست تنظیموں کے ساتھ، سی آئی اے یا کسی اور سے ہدایات اور مشورے وصول کرتی ہے"۔

افغانستان کے ہلمند صوبہ کے سابقہ گورنر جمعہ خان نے کہا کہ "داعش کو امریکہ نے تخلیق نہیں کیا"۔

انہوں نے سوال کیا کہ "داعش امریکہ کی سب سے بڑی دشمن ہے، کوئی یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ اسے انہوں نے بنایا ہے؟"

ننگرہار صوبہ سے تعلق رکھنے والے افغان پارلیمنٹ کے رکن امیر خان یار نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں داعش سے جنگ کر رہا ہے۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ امریکہ "کبھی" بھی داعش کی مدد نہیں کرے گا، کہا کہ "ننگرہار میں، ہم اس بات کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ وہ ہر روز داعش کے باغیوں سے جنگ کر رہے ہیں، وہ افغانستان میں استحکام لانے کے لیے اپنے فوجیوں کی جانوں کی قربانی دے رہے ہیں"۔

توجہ ہٹانے کے ہتھکنڈے

قاہرہ یونیورسٹی میں سوشیالوجی کی پروفیسر بسما حسنی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ "یہ بہترین طریقے سے بنائے گئے جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں ہے" کہا کہ "سازش کا نظریہ نیا نہیں ہے"۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ جھوٹ ایسے افراد یا اداروں کی طرف سے پھیلائے جاتے ہیں جن پر سامعین کو اعتماد ہے اس لیے انہیں "حقیقت یا ہدف بنائی جانے والی آبادی کے خلاف تیار کی گئی ایک سازش کے طور پر دیکھا جاتا ہے"۔

حسنی نے کہا کہ عام لوگ اکثر ایسے معاملات پر تحقیق نہیں کرتے ہیں اور بہت سے مشہور شخصیات کے بیانات سے قائل ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سے ہو سکتا ہے کہ لوگوں کی توجہ بنیادی مسئلے سے ہٹ جائے جو کہ سازش کے نظریے کا بنیادی مقصد ہے جو "جتنی دیر تک ہو سکے مسئلے کو طول دینے کے لیے توجہ ہٹانے کی وجہ" بناتا ہے۔

عراق کے مسلمان علما جن کی قیادت شیخ خالد ال ملا کر رہے ہیں، نے کہا کہ "داعش کو امریکی پیداوار تصور کرنا" اسلامی دنیا میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے مسئلے سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ "کیا امریکہ کے لیے 1.5 بلین مسلمانوں کی ذہنیت کو کنٹرول کرنا قابلِ یقین ہے اور یہ کہنا کہ وہ مسلمانوں کے لیے فیصلے کر رہا ہے؟"

انہوں نے کہا کہ "ہم اس بات کو تسلیم کیوں نہیں کرتے کہ داعش انتہاپسندانہ سوچ کی پیداوار ہے جسے مذہب، حکومت اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد نے پھیلایا ہے تاکہ نوجوان مسلمانوں کے جذبات کا استحصال کیا جا سکے اور خودغرضانہ مقاصد یا سیاسی مقصد کے لیے ان کے ذہنوں کو کنٹرول کیا جا سکے؟"

ایرانی حکومت کا کردار

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی ایس) نے اکثر یہ جھوٹ پھیلایا ہے کہ مشرقِ وسطی میں جاری تنازوں کو مغربی ممالک خصوصی طور پر امریکہ ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔ یہ بات ماہرین نے کہی۔

ایرانی میڈیا مشینمسلسل اس نظریے کی تشہیر کرتی ہے اور دعوی کرتی ہے کہ علاقے میں دہشت گردانہ حملے اور ان کے منصوبے، امریکہ کی طرف سے اپنے مقاصد کے لیے، علاقے کے لوگوں کے خلاف تیار کی جانے والی سازش کا حصہ ہیں۔ یہ بات ال شرق سینٹر فار ریجنل اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز کے محقق فتح ال سعید نے کہی جو کہ ایرانی معاملات کے ماہر ہیں۔

اس سازش کے تصور کے پھیلاو کو بہت سے ایران نواز سیٹلائٹ گروہوں جیسے کہ لبنان کی حزب اللہ کی امداد حاصل ہے۔ یہ بات ال سعید نے کہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئی آر جی ایس اس جھوٹ کو پھیلانے کے پیچھے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نے انتہاپسند گروہوں جس میں القاعدہ بھی شامل ہے کو مسلسل امداد فراہم کی ہے۔

الاظہر کے قانون کے پروفیسر باقر نے کہا کہ "اس جھوٹ کو پھیلانے کے پیچھے پہلی وجہ تو آئی آر جی سی پر الزام لگائے جانے سے توجہ کو ہٹانا ہے اور دوسری وجہ علاقے میں اس کی مداخلت کے لیے وجہ فراہم کرنا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے اس سازش کے نظریے کو استعمال کیا ہے "تاکہ عرب علاقے میں شیعہ فرقے کو امریکی منصوبے کے خلاف کھڑے ہونے اور شیعوں کو ان کے خاتمے کی کوششوں سے بچانے کی کوشش، کے بہروپ میں کنٹرول کیا جا سکے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

49
23
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha