http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/05/24/feature-02
| سفارتکاری

افغان-پاکستانی میثاقی لائحہٴ عمل نے باہمی اعتماد اور تعاون کی راہ ہموار کر دی

محمّد شکیل

پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی نصیر خان جنجوعہ (بائیں) 15 مئی کو اسلام آباد میں اے پی اے پی پی ایس کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد ایک افغان وفد کے ساتھ باہمی تعلقات پر بات چیت کر رہے ہیں۔ [پاکستان فیڈرل پریس ڈیپارٹمنٹ]

پشاور – پاکستانی قانون ساز، تجزیہ کار اور کاروباری قائدین افغانستان کے ساتھ حال ہی میں نافذ شدہ میثاقی لائحہ عمل کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس امّید کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس سے تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی اور ہمسایہ ممالک کے مابین باہمی اعتماد پیدا ہو گا۔

6 اپریل کو افغان صدر اشرف غنی اور پاکستانی وزیرِ اعظم شاہد خاقان عبّاسی نے افغان-پاکستان ایکشن پلان برائے امن و استحکام (اے پی اے پی پی ایس) کے سات بنیادی اصولوں پر اتفاق کیا۔

14 مئی کو اسلام آباد میں افغان نائب وزیرِ خارجہ حکمت خلیل کرزئی اور پاکستانی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کی قیادت میں دونوں ملکوں سے وفود نے اس معاہدے کو حتمی شکل دی۔

6 اپریل کو کابل میں صدارتی محل میں آمد پر صدر اشرف غنی پاکستانی وزیرِ اعظم شاہد خاقان عبّاسی کا استقبال کر رہے ہیں۔ [دفتر پاکستانی وزیرِ اعظم]

افغان وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا، "اے پی اے پی پی ایس باہمی اعتماد کو مستحکم کرنے اور دوطرفہ معاہدوں کے تمام حلقوں میں بات چیت کو عمیق تر کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل فراہم کرتا ہے۔ یہ دوطرفہ تشویش کے امور کا حل تلاش کرنے کا ایک میکنزم بھی ہے۔"

بیان میں کہا گیا، "طرفین نے اتفاق کیا کہ اے پی اے پی پی ایس کا موٴثر اور مکمل نفاذ دہشتگردی کے خاتمہ اور امن، استحکام اور دونوں ممالک کے عوام کی ترقی اور آسودہ حالی کے حصول میں کردار ادا کرے گا۔"

ان سات اصولوں میں افغان-سربراہی میں امن کے عمل کے لیے پاکستان کی حمایت، دونوں میں سے کسی بھی ملک کے خلاف سیکیورٹی خدشات کے خلاف دونوں ممالک کی کاروائی، اور کسی بھی ریاست مخالف عنصر کے لیے اپنے علاقہٴ عملداری کو نہ استعمال کرنے دینا شامل ہیں۔

مزید برآں، طرفین نے لائزون آفیسرز کے ذریعے متفقہ کاروائیوں پر مشترکہ عملدرآمد کا عہد کیا۔

انہوں نے عوامی الزام تراشی سے احتراز کرنے کے لیے "ایک دوسرے کی زمینی اور فضائی حدود کی خلاف ورزی سے بچنے اور اس کے بجائے تنازعہ اور خدشہ کے باہمی امور کا ردِّ عمل دینے کے لیے اے پی اے پی پی ایس تعاون کے میکنزم کا استعمال کرنے۔۔۔ [اور] اے پی اے پی پی ایس کے مکمل نفاذ کے لیے سرگرم گروہ اور تعاون کے ضروری میکنزم تشکیل دینے" کا عہد کیا۔

قانون سازوں کی حمایت

پاکستان میں متعدد سیاسی جماعتوں سے قانون سازوں نے اے پی اے پی پی ایس کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا۔

قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاوٴ نے کہا، "ہم دونوں ہمسایہ ممالک کے باہمی خدشات سے نمٹنے میں اے پی اے پی پی ایس کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اس کے نفاذ کے تاریخی فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہیں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "اے پی اے پی پی ایس پاکستان اور افغانستان کے لیے مواقع پیدا کرے گی کہ وہ ماضی کے عدم اعتماد کے تاثرات کو فراموش کر کے مل بیٹھیں اور ایک خوشگوار ماحول میں اہم امور پر فیصلے کریں۔"

انہوں نے کہا، "باہمی اعتماد اور باہمی احترام دونوں ممالک کو قریب لائے گا، جس سے بہتر سمجھ بوجھ اور ایک دوسرے کے نقطہٴ نظر کو قبول کرنے کے لیے رضامندی پیدا ہو گی۔"

خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان ہارون بلور نے کہا، "ہمیں توقع ہے کہ ایک دوسرے کے مطمعٴ نظر کو باقاعدہ طور پر ملحوظِ خاطر رکھ کر اتفاقِ رائے تشکیل دینے سے ایک متفقہ میکنزم کی عدم موجودگی کی وجہ سے توقف کا شکار امور حل کرنے میں فریقین کو مدد ملے گی۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے اس خطے میں طویل المعیاد اثرات پیدا ہوں گے جو ماضی کی غلط فہمیوں اور دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی وجہ سے بدامنی کا شکار رہا ہے۔

تجارتی اور سیکورٹی تعاون

پاکستان - افغانستان کے مشترکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سربراہ ضیا الحق سرحدی نے 2010 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ کے لئے کیے جانے والے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پیشقدمی میں دونوں ممالک کی درمیان گرتی ہوئی تجارتی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب کرنے کے صلاحیت ہے.

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "باہمی انحصار کے اس دور میں جبکہ دنیا ایک عالمی گاؤں تصور کی جاتی ہے، اقوام کے درمیان ایک معمولی معاہدہ سلامتی سے لے کر معیشت کے معاملات پر اثرانداز ہوتے ہوئے پوری صورت حال کو تبدیل کرسکتا ہے."

انہوں نے کہا، کاروباری برادری کی توقع ہے کہ اے پی اے پی پی ایس کے نتیجے میں سرحد پار تجارت میں اضافہ ہو گا. انہوں نے توجہ دلاتے ہوئے بتایا کہ موجودہ تجارت ناموافق سفری صورتحال، سرحد کی بندش اور ممالک کے درمیان بے اعتمادی کے باعث بندر عباس اور چابہار بندرگاہوں کو منتقل ہوچکی ہے.

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے سابق سیکورٹی سیکریٹری پشاور کے بریگیڈیئر محمود شاہ نے بتایا "جغرافیائ صورتحال، صدیوں پرانی روایات اور شورش کے بڑھتے خطرات وہ وجوہات ہیں جو دونوں ممالک سے ساتھ بیٹھ کر مسائل کو حل کرنے کے ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے کے متقاضی ہیں"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا اگر دونوں ممالک ایک دوسرے کی ترجیحات کو قبول کریں اور اعتماد کے ساتھ مشترکہ ایجنڈے پر کام کریں تو باہمی اعتماد اور مصالحت کے امکانات میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔

منصوبہ کا مؤثرنفاذ ایک فیصلہ کن عنصر ہوگا، شاہ نے بتاتے ہوئے مزید کہا " اے پی اے پی پی ایس کے تناظر میں سلامتی سے لے کر معیشت تک کے مختلف مسائل کے حل کے لئے دونوں اطراف ایک بہتر صورتحال میں ہونگی"۔

انہوں نے بتایا "منصوبہ پر خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ عمل کیا جانے چاہیئے کیونکہ یہی وہ کلیدیں ہیں جو اے پی اے پی پی ایس کی پیداواریت اور مؤثریت میں اضافہ کریںگی"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
11
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha
Habib sultan | 05-27-2018

Wafaq ny wafaqi mulazmin ki 3 besic dany ka notifiqation jari kia ya jhoot he

جواب