http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/05/22/feature-01
| توانائی

شمسی توانائی سے چلنے والے کنویں باجوڑ ایجنسی میں صاف پانی فراہم کر رہے ہیں

حنیف اللہ

باجوڑ ایجنسی میں یکم مئی کو ایک لڑکی شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل سے پانی لے رہی ہے۔ ]حنیف اللہ[

خار -- حکام باجوڑ ایجنسی میں شمسی توانائی سے چلنے والے مزید کنویں نصب کرنے پر کام کر رہے ہیں جو کہ وفاق کے زیر ِانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) بھر میں پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کی طرف ایک قدم ہے۔

اس کوشش میں ایسے غیر فعال ٹیوب ویلوں، جو کہ ایسے کنویں ہوتے ہیں جو زیرِ زمین آب اندوخت اور پمپوں میں دبائے جانے والے لمبے پائپوں کو استعمال کرتے ہوئے پانی کو اوپر لے کر آتے ہیں، میں شمسی توانائی سے چلنے والے نظام کو نصب کرنا شامل ہوتا ہے۔

ایجنسی کے صحت عامہ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ایک افسر سید رفیع اللہ نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ یہ قدم فاٹا کے 2017-2016 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ تھا، کہا کہ "باجوڑ ایجنسی میں بجلی کی کمی ہونے کے باعث، زیادہ تر ٹیوب ویل کام نہیں کر رہے ہیں اور ہم اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں"۔

فاٹا سے تعلق رکھنے والے ایک سنیٹر ہدایت اللہ خان (رسی پر ہاتھ رکھے ہوئے) اور مقامی بزرگ، گزشتہ سال 20 اگست کو باجوڑ ایجنسی کے علاقے ماموند میں، شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل کا افتتاح کر رہے ہیں۔ ]حنیف اللہ[

ایک سیکورٹی اہلکار باجوڑ ایجنسی کے علاقے ماموند میں ایسے ٹیوب ویل کے پاس سے گزر رہا ہے جسے شمسی توانائی کے پینلوں سے چلایا جاتا ہے۔ ]حنیف اللہ[

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے نتائج حوصلہ افزاء ہیں۔

انہوں نے یکم مئی کو پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم نے جولائی 2016 سے اب تک باجوڑ ایجنسی میں 32 ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی میں تبدیل کیا ہے"۔

اس کے نتیجہ میں، 32 گاؤں میں تقریبا 6,284 گھروں کو پینے کا صاف پانی میسر آیا ہے اور جون 2018 تک مکمل کیے جانے والے سات منصوبوں سے مزید 500 خاندانوں کو استفادہ حاصل ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ "ٹیوب ویلوں کو چلانے والا شمسی توانائی کا نظام اس لیے بھی موثر ہے کیونکہ اس میں زیادہ یا کم وولٹیج کا مسئلہ نہیں ہوتا ہے"۔

پانی کی مسلسل فراہمی

باجوڑ ایجنسی کے علاقے ماموند سے تعلق رکھنے والے ایک قبائلی بزرگ ملک شعیب نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ماضی میں ہمیں کئی دنوں تک بجلی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا تھا جس سے پانی دستیاب نہیں ہو سکتا تھا۔ اب ایسا نہیں رہا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ اب شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں نے علاقے کے ایک بڑے مسئلے کو حل کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتہائی قابلِ بھروسہ نظام مسلسل آٹھ گھنٹوں تک کسی رکاوٹ کے بغیر آرام سے چل سکتا ہے۔

باجوڑ کے علاقے رحمان آباد کے ایک شہری عبدل ولی نے کہا کہ علاقے کے تقریبا 400 گھروں کو شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں سے فائدہ پہنچا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ یہ نظام "2017 سے کام کر رہا ہے" اور یہ ایک بار بھی نہیں رکا یہاں تک کہ کسی مرمت کے لیے بھی نہیں۔ کنویں سے نکالا جانے والا پانی گھروں اور آب پاشی میں استعمال ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی سے چلنے والے نظام کی تنصیب سے پہلے، کنویں کا بجلی کا نظام ہر چند مہینوں بعد خراب ہو جاتا تھا اور شہریوں کو اس کی مرمت کے لیے پیسے جمع کرنے پڑتے تھے۔

شمسی توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ

کنویں کے پانی کو شمسی توانائی سے چلنے والے نظام سے پمپ کرنا شمسی توانائی سے فائدہ اٹھانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ایک حصہ ہے۔

باجوڑ ایجنسی کی عنایت کلے مارکیٹ کے ایک تاجر حافظ اللہ نے کہا کہ شمسی توانائی کا کاروبار بہت سے علاقوں میں ایک منافع بخش آمدن کا ذریعہ بن گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے ٹیکنالوجی کی بارے میں آگاہی بڑھ رہی ہے ویسے ویسے ہی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میں ایک ماہ میں تقریبا 500,000 روپے (4,300 ڈالر) مالیت کے سولر پینل فروخت کرتا ہوں کیونکہ گزشتہ چند سالوں میں باجوڑ میں ان کی مانگ میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ پینل نہ صرف پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں بلکہ انہیں گھروں میں برقی آلات کو چلانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha
| 07-25-2019

اچھا مکالہ، شمسی ٹیوب ویلز کی تنصیب کا طریقِ کار شفاف نہیں۔ زیادہ تر ایک فردِ واحد یا خاندان ایک ذاتی تحفہ کے طور پر اس کا دعویدار ہوتا ہے اور دیگر گھر اس سکیم سے محروم رہتے ہیں۔ ان ٹیوب ویلز سے کنکشن دور کے خواب ہیں یہاں تک کہ کسی کو اس سکیم سے ایک پیالہ پانی تک پینے کی اجازت نہیں۔ مقامی انتظامیہ کو کاروائی کرنی چاہیئے، معاملے کی چھان بین کرنی چاہیئے اور بدعنوانی کی سرگرمیوں کی روک تھام کرنی چاہیئے۔

جواب