|

سلامتی

طالبان کے کٹھ پتلی چیف جسٹس کا امن کا مطالبہ ٹوٹ کی تازہ نشانی

طالبان کے کٹھ پتلی چیف جسٹس مولاوی عبدالحکیم کی جانب سے ایک مبینہ خط کے مطابق، طالبان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ افغان عوام کی امن کی خواہش کا احترام کیا جائے۔

از سلیمان


طالبان کے کٹھ پتلی چیف جسٹس مولاوی عبدالحکیم کی جانب سے دستخط کردہ خط دکھایا گیا ہے۔ [فیس بُک/209 شاہین کور]

طالبان کے کٹھ پتلی چیف جسٹس مولاوی عبدالحکیم کی جانب سے دستخط کردہ خط دکھایا گیا ہے۔ [فیس بُک/209 شاہین کور]

کابل -- ایک خط سامنے آیا ہے جس میں طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو قائل کیا گیا ہے کہ وہ افغان عوام کے امن کے "جائز مطالبے" کا جواب دے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ خط، جس پر طالبان کے چیف جسٹس مولاوی عبدالحکیم کے دستخط ہیں، گروہ کی جانب سے افغانستان کی زیرِ قیادت امن کے عمل میں شامل ہونے کے لیے ہری جھنڈی دکھاتا ہے، لیکنچوٹی کے طالبان حکام کے مابین گہری ہوتی ہوئی تقسیمکا بھی انکشاف کرتا ہے۔

افغان وزارتِ دفاع نے خط کی ایک نقل صحافیوں کو پیش کی اور کہا کہ یہ قمری مہینے شعبان (17 اپریل تا 15 مئی) کے دوران صوبہ باغلان سے بھیجا گیا تھا۔

خط میں کہا گیا ہے، "افغانوں کی اکثریت ۔۔۔ موجودہ جنگ اور اس کے نتائج سے عاجز آ چکی ہے اور امن کی طالب ہے۔"

اس میں کہا گیا ہے، "چونکہ [طالبان] رہنماؤں پر افغان عوام کے جائز مطالبات پورے کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔۔۔ قیادت کو امن کے عوامی مطالبے پر غور کرنا چاہیئے اور تمام رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کے بعد افغان عوام کو ایک مثبت جواب دینا چاہیئے۔"

ملا ہیبت اللہ کے وفادار طالبان نے خط کے معتبر ہونے پر اختلاف کیا ہے۔

گروہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ خط "جعلی" ہے اور اس کا "[طالبان کے ساتھ] کوئی واسطہ نہیں ہے۔"

منقسم طالبان

وزارتِ دفاع کے ترجمان جنرل محمد رادمانیشن نے سلام ٹائمز کو بتایا، "مولاوی عبدالحکیم سمجھتے ہیں کہ طالبان افغانستان میں کامیاب نہیں ہو سکتے؛ یہی وجہ ہے کہ وہ امن کی بات کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "طالبان اپنے نفاق کو چھپاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے جنگجوؤں کے حوصلے پست نہیں کرنا چاہتے اور انہیں بکھرتے نہیں دیکھنا چاہتے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ گروہ سنگین اندرونی مسائل سے دوچار ہے۔"

انہوں نے کہا، "وہ 20 گروہوں میں تقسیم رہے ہیں۔" ترجمان کا کہنا تھا کہ "ان میں سے کچھ مافیا اور منشیات کے سمگلروں کے ساتھ مل چکے ہیں؛ ان میں سے کچھ دہشت گردوں اور انتہاء پسندوں کے ساتھ ہیں اوران میں سے کچھ علاقائی انٹیلیجنس سروسز کے لیے کام کر رہے ہیں

رادمانیش نے کہا، "عام طور پر، اپنے اختلافات کے باوجود، وہ سب افغانستان کو تباہ کرنے اور اس کے عوام کو مشکلات میں ڈالنے کے لیے مصروفِ عمل ہیں۔"

حالیہ ہفتوں میں یہ سامنے آنے والا پہلا خط نہیں ہے، جس سے نشاندہی ہوتی ہے کہ طالبان کے کچھ دھڑے افغان صدر اشرف غنی کی امن مذاکرات کی دعوت قبول کرنے کو تیار ہیں۔

افغان نیشنل آرمی کے 209ویں شاہین کور کے ترجمان، میجر محمد حنیف رضاعی نے سلام ٹائمز کو بتایا، "ماضی میں، [طالبان کے بانی] ملا محمد عمر کا ایک بیٹا، ساتھ ہی ساتھ طالبان کے صوبہ ہلمند کے گورنر [ملا عبدالمنان منصوری]، نے [امن کے لیے] ایسی ہی درخواست کی تھی۔"

رضاعی نے کہا، "طالبان دو دھڑوں میں تقسیم رہے ہیں: ملا ہیبت اللہ کا مورچہ اور ملا [یعقوب کے] پیروکار۔ ان گروہوں کے درمیان شدید اختلافات ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ملا عبدالحکیم کے پیروکاروں کو [بھی] احساس ہو گیا ہے کہ جنگ کوئی حل نہیں ہے اور یہ کہ وہ جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتے۔"

امن کے لیے ایک 'سبز جھنڈی'

وولیسی جرگہ (پارلیمان کے ایوانِ زیریں) میں صوبہ ہرات کے ایک نمائندے، غلام فاروق مجروغ نے کہا، "طالبان کے چیف جسٹس کی جانب سے یہ خط اور کی گئی درخواست ۔۔۔ امن مذاکرات ۔۔۔ کے لیے ایک ہری جھنڈی ہے۔"

انہوں نے سلام ٹائمز کو بتایا، "طالبان کے چیف جسٹس کی جانب سے اس درخواست کے بعد، [طالبان کے] بہار کے حملے کا اعلان ۔۔۔طالبان کی قیادت کی صفوں میں امن اور جنگ کے متعلق گہری تقسیم کا انکشاف کرتا ہے۔"

کابل کے مقامی ایک سیاسی تجزیہ کار اور صوبہ پکتیکا کے سابق گورنر، امین اللہ شارق نے کہا، "[غنی] کی جانب سے طالبان کو پیشکش کردہ امن پیکیج ۔۔۔ اچھی اور جامع سیاسی مراعات مہیا کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے ایسی مراعات کی پیشکش انہیں دوبارہ کبھی نہ کی جائے۔"

انہوں نے سلام ٹائمز کو بتایا، "یہ مجوزہ پیکیج بہت سے طالبان رہنماؤں کی جانب سے امن مذاکرات شروع کرنے اور جنگ ختم کرنے میں دلچسپی کے اظہار پر منتج ہوا ہے۔ طالبان کے چیف جسٹس کی جانب سے خط واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ اس گروہ کے کئی اہم رہنما امن کرنے کے لیے رضامند ہیں۔"

شارق نے کہا، "یہ بالکل واضح ہے کہ طالبان کی موجودہ جنگ مذہبی طور پر ناجائز ہے۔ خود طالبان کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ وہ اب مزید مذہب کو جنگ کرنے کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کر سکتے اور یہ کہ آخر کار، ان کے پاس امن کے عمل میں شریک ہونے کے علاوہ کوئی دوسرا اختیار نہیں ہے۔"

مولاوی عبدالحکیم کے خط کے اجراء کے وقت ہی، حالیہ ہفتوں میں درجنوں طالبان کمانڈر ہتھیار ڈال چکے ہیں۔

صوبہ قندھار کے صوبائی پولیس کے سربراہ جنرل عبدالرزاق نے 13 اپریل کو صحافیوں کو بتایا کہ ایسے ہی ایک واقعہ میں، "طالبان کے ساٹھ ارکان، بشمول تین وزراء اور کمانڈر جو اس وقت یا طالبان کی حکومت [2001-1996] کے دوران سرکاری عہدوں پر فائز رہے ہیں، نے امن قبول کرنے پر اپنی آمادگی کا اعلان لیا ہے۔"

طالبان اور عوام کے درمیان خلاء

کابل کے مقامی ایک سیاسی اور عسکری تجزیہ کار، مقدم امین نے سلام ٹائمز کو بتایا، "طالبان کو احساس ہو گیا ہے کہ ان کا جنگ جاری رکھنا، ان کی دہشت گردی کی سرگرمیاں اور جس طریقے سے وہ عام شہریوں کے ساتھ پیش آتے ہیں اس نے ان کے اور عوام کے درمیان خلاء میں اضافہ کر دیا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام میں ان کے لیے نفرت بڑھتی ہے۔"

انہوں نے کہا، "اس لیے، وہ امن مذاکرات میں شامل ہونے اور جنگ ختم کرنے کے لیے اپنی رضامندی ۔۔۔ کی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔"

افغان ہائی پیس کونسل کے ایک نائب ترجمان، محمد حیدری نے سلام ٹائمز کو بتایا، "عوام، دینی علماء اور بین الاقوامی برادری کے مابین امن کے عمل پر اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔"

حیدری نے کہا، "امن کے عمل کی اس وسیع پشت پناہی نے ہمیں امن کے حصول اور جنگ کے خاتمے کے متعلق بہت پُرامید کر دیا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "ہم اپنے امن کے ہدف سے قریب سے قریب تر ہو رہے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 51

1 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
حجیگس | 05-20-2018

کیا بےکار کا الاپ لگایا ہے. امریکہ اور ساٹھ ممالک اپنی ناکامی کا ساراملبہ اب اس طریقے سے نکالے گا . اس جنگ کا یہ نتیجہ آئے گا ہم نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا ... جآءالحق وزھق الباطل...

جواب

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج