|

صحت

فاٹا 21 مہینوں سے پولیو سے پاک جبکہ ملک بھر میں خاتمے کی کوششیں جاری

سیکورٹی کی بہتر صورتِ حال نے طبی ٹیموں کو قطرے پلانے اور پاکستان بھر سے اس وائرس کا خاتمہ کرنے کے لیے کام کرنے کے قابل بنایا ہے۔

عدیل سید


ایک پاکستانی طبی کارکن کراچی میں 7 مئی کو ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلا رہا ہے۔ ]آصف حسین/ اے ایف پی[

ایک پاکستانی طبی کارکن کراچی میں 7 مئی کو ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلا رہا ہے۔ ]آصف حسین/ اے ایف پی[

پشاور -- پاکستان کے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) مسلسل 21 مہینوں تک پولیو سے پاک رہے ہیں جو کہ کسی زمانے میں عسکریت پسندی کے شکار علاقے میں سیکورٹی فورسز اور طبی کارکنوں کی ایک فتح ہے۔

فاٹا ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کے ٹیکنیکل فوکل پرسن ڈاکٹر ندیم جان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "فاٹا جو کسی زمانے میں پاکستان میں پولیو کا مرکز تھا اب اس معذور کر دینے والی بیماری سے تقریبا دو سالوں سے پاک ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "یہ کامیابی نہ صرف پاکستان کو جلد ہی وائرس سے پاک کر دے گی بلکہ کرہِ ارض سے اس خطرناک بیماری کا خاتمہ کرنے میں بھی مدد کرے گی"۔

پاکستان افغانستان اور نائیجیریا کے ساتھ، دنیا کے ان واحد تین ممالک میں سے ایک ہے، جہاں پولیو کی وباء ابھی بھی موجود ہے۔

ندیم نے کہا کہ "اس کامیابی کا سہرا سیکورٹی فورسز، جنہوں نے علاقے کو عسکریت پسندوں سے صاف کیااور ہمارے طبی کارکنوں، کے سر جاتا ہے، جن کے اپنے ہم وطنوں کو اس معذور کر دینے والی بیماری سے بچانے کے عزم نے اس مقصد کو حاصل کرنے میں ہماری مدد کی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ برادری کے بارسوخ ارکان نے والدین کو منانے میں اہم کردار ادا کیا جو اس سے پہلے قطرے پلانے سے انکار کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے اماموں کی مدد حاصل کی ۔۔۔ کہ وہ اپنے جمعہ کے خطبہ میں اور برادری کی سطح پر عوام کو پولیو کے وائرس کے نقصان سے آگاہ کریں۔ اب انکار بہت شاذ و نادر ہی ہوتا ہے بلکہ والدین خود طبی کارکنوں سے رابطہ کرتے ہیں اور قطرے پلانے کی اگلی تاریخ کے بارے میں پوچھتے ہیں"۔

پولیو کے واقعات میں کمی

ندیم کے مطابق، فاٹا میں پولیو کا آخری واقعہ جولائی 2016 میں پیش آیا تھا۔ پاکستان کے دوسرے علاقوں میں بھی پولیو کے واقعات میں کمی آئی ہے۔

ندیم نے کہا کہ "فاٹا میں پولیو کا پھیلاؤ زیادہ تر طبی ٹیموں کے علاقے میں داخل ہونے میں ناکامی کی وجہ سے تھا اور اس کی وجہ وہ دہشت گرد تھے جو قطرے پلانے کی مہمات کی راہ میں رکاوٹ بنتے تھے"۔

قبائلی ارکانطالبان اور دوسرے عسکریت پسند گروہوں کے حملوں کے خطرےکی وجہ سے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کرنے پر مجبور تھے۔ ماضی میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو اس وقت بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جب عسکریت پسندوں نے قطرے پلانے والی ٹیموں کے ارکان کو اغوا یا ہلاک کر دیا۔

فاٹا ای او سی کے ایک ترجمان عقیل احمد خان کے مطابق، پولیو کے واقعات 2014 میں بہت زیادہ ہو گئے جب فاٹا میں 179 نئے واقعات اور پاکستان میں کل 306 نئے واقعات سامنے آئے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ اس سے اگلے سال، فوج کی مہم ضربِ عضب کے جاری ہونے کے باعث، پاکستان میں واقعات کی تعداد کم ہو کر 56 ہو گئی جس میں فاٹا میں پیش آنے والے 19 واقعات بھی شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ 2017 میں، پاکستان بھر میں پولیو کے آٹھ نئے واقعات سامنے آئے اور اس سال ابھی تک طبی عملے نے صرف ایک واقعہ کی اطلاع دی ہے۔

پولیو سے پاک پاکستان

عقیل کے مطابق، علاقے سے پولیو کے خاتمے کے لیے نئی حکمتِ عملی میں پاکستان اور افغانستان میں ہم آہنگ اور بیک وقت انجام دی جانے والی انسدادِ پولیو مہمات شامل ہیں۔

ریڈیو فری یورپ/ ریڈیو لبرٹی کے مطابق، ملک بھر میں جاری ہونے والی تازہ ترین مہم کا آغاز 7 مئی کو ہوا۔ حکام کے مطابق، اس کوشش کا مقصد پانچ سال سے کم عمر کے 23.8 ملین بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا ہے۔

خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے پولیو کے قطرے پلانے والے کارکن خاطر احمد آفریدی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہماری ٹیمیں فاٹا کے ہر کونے کھدرے میں جا رہی ہیں اور ماہانہ کی بنیاد پر علاقے میں تقریبا ایک ملین بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا رہے ہیں"۔

آفریدی نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ طبی ٹیموں کو بکھرے ہوئے گھروں تک پہنچنے کے لیے، بعض اوقات کئی میل تک چلنا پڑتا ہے اور کچھ واقعات میں پہاڑوں پر چڑھنا پڑتا ہے کہا کہ طبی ٹیمیں قبائلی پٹی میں ہر گھر اور جرگہ (مردوں کے سماجی اجتماع) میں جا رہی ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا دیے گئے ہیں۔

ایک قبائلی شخص جو پولیو کی بیماری کا شکار ہو چکا ہے اور اب قطرے پلانے کی مہم میں حصہ لے رہا ہے نے سیکورٹی کے خطرے کا باعث نامعلوم رہنے کی شرط پر بتایا کہ "لوگوں کو احساس کرنا چاہیے کہ پولیو ایک معذور کر دینے والی بیماری ہے اور اس سے متاثر افراد دوسروں پر بوجھ بن جاتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "میں نے قطرے پلانے والی مہم کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا تاکہ والدین کو پولیو کے اثرات کے بارے میں بتا سکوں اور انہیں اس بات پر آمادہ کر سکوں کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں اور انہیں معذور ہونے سے بچائیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ کو روس کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی دلچسپی پر تشویش ہے؟

نتائج