|

سلامتی

ہمسائیوں کے تعلقات میں بہتری کے لیے پاکستانی، افغان دفاعی عہدیداران کی طورخم میں ملاقات

طورخم سرحدی کراسنگ پر فلیگ میٹنگ سرحد پر کچھ عرصہ پہلے مختصر جھڑپ کے بعد ہوئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسی ملاقاتیں ابلاغ کو بہتر بنائیں گی اور تناؤ کو ختم کریں گی۔

از محمد اہل


پاکستان اور افغانستان کے دفاعی حکام 18 اپریل کو طورخم سرحدی کراسنگ پر مشاورت کرتے ہوئے۔ [محمد اہل]

پاکستان اور افغانستان کے دفاعی حکام 18 اپریل کو طورخم سرحدی کراسنگ پر مشاورت کرتے ہوئے۔ [محمد اہل]

طورخم -- دفاعی ذرائع نے پاکستان فارورڈ کو بتایا ہے کہ پاکستانی اور افغان دفاعی حکام نے بدھ (18 اپریل) کے روز زیادہ اور متواتر تعاون کے ذریعے سرحد پر امن برقرار رکھنے کے عزم کے اظہار کے لیے مشاورت کی ہے۔

طورخم سرحدی کراسنگ پر فلیگ میٹنگ، جس کی سربراہی پاکستان کی جانب سے لیفٹیننٹ کرنل ارشد اور افغانستان کی جانب سے لیفٹیننٹ کرنل وحید نے کی، اس ہفتے کے شروع میںپاک افغان سرحد پر ایک مختصر جھڑپکے بعد ہوئی ہے۔

افغان سرحدی پولیس اور پاکستان فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے درمیان اتوار (15 اپریل) کے روز افغانستان کے صوبہ خوست کے ضلع زازی میدان میں شروع ہوئی تھیں، جو کہ پاکستان کے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں کرم ایجنسی کی سرحد سے ملحق ہے۔

بعد ازاں قبائلی عمائدین کی جانب سے ثالثی کے ذریعے جنگ بندی ہوئی تھی۔

تناؤ ختم کرنا

دونوں اطراف کے حکام اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فلیگ میٹنگ ہمسائیوں کے تعلقات کو بہتر بنانے میں ایک اہم قدم ہے۔

افغان صدر عبداللہ عبداللہ کے ایک مشیر، حکمت صافی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ایسی ملاقاتیں دونوں ممالک کو قریب لائیں گی۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کو ایسے ہی ختم کریں گی جیسے حالیہ سرحدی [جھڑپ] کو حل کیا گیا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقاتپاکستانی وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کے دورۂ کابلکے بعد بہتر ہوئے ہیں۔"

فلیگ میٹنگ میں شرکت کرنے والے دفاعی حکام کوپاکستان کی جانب سے سرحد پر باڑ کی تنصیباور ویب پر مبنی ایک کسٹمز (ویبوک) نظام کے اطلاق پر تازہ ترین معلومات فراہم کی گئیں، جس کا مقصد سرحد پر کسٹمز کی کلیئرنگ کو ہموار بنانا ہے۔

حکام کے مطابق، افغان دفاعی حکام کی جانب سےطورخم سرحدی کراسنگکو کچھ دیر کے لیے رات 9 بجے تک کھلا رکھنے کی تجویز پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اب طورخم رات 8 بجے بند ہو جاتی ہے۔

فلیگ میٹنگ دیگر کوششوں کا ایک جزو تھا جن کا مقصد سرحد پر جھڑپوں سے بچنا ہے، جس کا فائدہ صرف دہشت گردوں کو ہوتا ہے۔

افغان وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان، جنرل محمد رادمانیش نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "افغان اور پاکستانی سرحدی دفاعی حکام کے درمیان بات چیت کے بعد، اب سرحد پر کوئی لڑائی نہیں ہے۔"

انہوں نے کہا، "دونوں ممالک کے حکام نے کابل میں کسی بھی سرحدی خلاف ورزی کو روکنے پر اتفاق کیا ہے، اور ہم اس معاہدے کے ساتھ وابستہ ہیں۔"

رادمانیشن نے کہا، "ہمیں یہ امید بھی ہے کہ پاکستان بھی وابستہ رہے۔"

انہوں نے کہا، "ہم نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ دہشت گردی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ حکومتوں کو دہشت گردی کے خلاف لڑنے میں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیئے، اور دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کا ہونا اس بارے میں بہت مؤثر ہو سکتا ہے۔"

انہوں نے کہا، "مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی فہم دہشت گردی کے خلاف لڑنے اور امن و استحکام کو یقینی بنانے کا بہترین راستہ ہے۔"

فلیگ میٹنگز کی اہمیت

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحد پر تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے فلیگ میٹنگز اشد ضروری ہیں۔

پشاور کے مقامی دفاعی تجزیہ کار اور سابق سیکریٹری دفاع فاٹا، بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے کہا کہ باڑ کی تنصیب اور سرحدی انتظام دہشت گردوں کی سرحد کے آر پار نقل و حرکت کی نگرانی کرنے اور پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک میں سیکیورٹی کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ہیں۔

شاہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "افغان اور پاکستانی دفاعی حکام کے درمیان سرحدی حفاظت پر بات چیت اور سرحدی دفاعی حکام کے درمیان جدید مواصلات پرتشدد واقعات کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "افغان اور پاکستانی دفاعی اہلکاروں کے درمیان پرتشدد جھگڑے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور سرحد پر باقاعدگی کے ساتھ فلیگ میٹنگز کے ساتھ ان سے بچا جا سکتا ہے۔"

انہوں نے کہا، "یہکرم ایجنسی کی سرحد کے ساتھ تناؤ کو کم کرنےمیں بھی مدد کرے گا۔"

یونیورسٹی آف پشاور میں شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کے چیئرمین، پروفیسر سید حسین شہید سہروردی نے کہا کہ فلیگ میٹنگز اس تناؤ کو کم کرنے کے لیے ضروری ہیں جو رابطے میں کمی کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پاکستان اور افغانستان دونوں پر لازم ہے کہ تمام سطحات پر ایسے مزید باہمی میل جول کریں۔ وہ حال ہی میں کرم ایجنسی میں ہونے والی فسادی کارروائیوں جیسے واقعات سے بچنے میں مدد کریں گے اورطویل سرحد پر سکون کو برقرار رکھیں گے۔"

افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر رستم شاہ مہمند نے کہا کہ ایسی فلیگ میٹنگز ہر ہفتے یا کم از کم ہر مہینے ہونی چاہیئیں تاکہ سرحد سے متعلقہ تمام امور پر مفاہمت میں مدد ملے قبل اس سے کہ وہ پرتشدد ہو جائیں۔

انہوں نے کہا، "ایسی ملاقاتیں سرحدی دفاع پر پاکستان کے کام کے متعلق بتانے نیز ان کے متنازعہ امور کو حل کرنے کے لیے دونوں ممالک کو اکٹھا کرنے کے لیے بھی اہمیت کی حامل ہیں۔ سرحدی تناؤ کا دونوں ممالک پر [منفی] اثر پڑے گا اور دشمن کو فائدہ ہو گا۔"

انہوں نے کہا، "ایسے باہمی میل جول بہت مثبت ہیں اور تناؤ اور غلط فہمیوں کو کم کرنے اور معاملات کو بہت شفاف بنانے میں مددگار ہیں۔"

[کابل سے سلیمان نے اس رپورٹ میں حصہ لیا۔]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج