|

نقل وحمل

پشاور کے آگ بجھانے والے عملہ نے دشوار گزار مقامات پر لگنے والی آگ سے نمٹنے کے لیے موٹر سائیکل حاصل کر لیے

موٹرسائیکلوں سے لیس آگ بجھانے کی ایک نئی سروس آگ بجھانے کے بڑے ٹرک پہنچنے تک، تنگ گلیوں میں لگنے والی آگ تک پہنچ کر اسے روک سکے گی۔

جاوید خان


18 مارچ کو ریسکیو 1122 ہیڈکوارٹرز میں آگ بجھانے کے ارکان اپنے نئے متعارف کرائے گئے موٹرسائیکلوں پر کمربستہ کھڑے ہیں۔ [جاوید خان]

18 مارچ کو ریسکیو 1122 ہیڈکوارٹرز میں آگ بجھانے کے ارکان اپنے نئے متعارف کرائے گئے موٹرسائیکلوں پر کمربستہ کھڑے ہیں۔ [جاوید خان]

پشاور – حکام کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا (کے پی) ریسکیو سروس نے آگ بجھانے کی ایک سروس کا آغاز کیا ہے، جو آگ بجھانے کے لیے پشاور کی پر ہجوم گلیوں سے جانے کے لیے موٹر سائیکل استعمال کریں گے۔

کے پی ریسکیو 1122 ہنگامی سروس کے ایک ترجمان بلال احمد فیضی نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 7 مارچ کو شروع ہونے والی یہ نئی سروس پاکستان میں اپنی طرز کی پہلی سروس ہے۔

فیضی نے کہا، "2009 سے اب تک ریسکیو 1122 نے 5,361 مقامات پر آگ بجھائی ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ موٹرسائیکل طویل عرصہ سے ضروری تھے کیوں کہ وہ باآسانی شہر کی گلیوں میں حرکت کر سکتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ آگ سے لڑنے والے موٹرسائیکل پرہجوم شہری مقامات سے موصول ہونے والی تمام کالز پر فوری ردِّ عمل دیں گے۔ "اس سے آگ بجھانے والے ٹرکوں کے موقع پر پہنچنے سے قبل شعلوں کو محدود رکھنے میں مدد ملے گی۔"

کے پی ریسکیو 1122 کے سبکدوش ہونے والے ڈائریکٹر اسد علی خان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "یہ موٹرسائیکل آگ بجھانے کے 2 آلات کے ساتھ 25 لٹر پانی کے 2 ٹینک لے جا سکتے ہیں۔"

عوام کو سہولیات میں بہتری

موٹرسائیکل سروس کی تعیناتی کمیونیٹی کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے لیے حکومتِ کے پی کی کاوشوں میں سے تازہ ترین ہے۔

فیضی نے کہا، "آگ بجھانے والی موٹرسائیکلوں سے قبل کے پی کے ریسکیو 1122 نے 2017 میں پشاور اور دیگر اضلاع کے رہائشیوں کی بہتر طور پر مدد کرنے کے لیے ایمرجنسی میڈیکل رسپانس بسیں منی ایمبولینس اور آگ بجھانے والے ٹرک چلانا شروع کیے۔" انہوں نے مزید کہا کہ ریسکیو 1122 کے پی کے 10 اضلاع میں خدمات انجام دے رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کے پی کے ریسکیو 1122 حکام آئندہ چند ماہ میں موٹرسائیکل ایمبولینس متعارف کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

صوبہ پنجاب کی ریسکیو 1122 نے پرہجوم مقامات پر تیز تر ردِّ عمل دینے کے لیے گزشتہ اکتوبر میں موٹرسائیکل ایمبولنس متعارف کرائیں۔ متاثرین کے ہسپتال جانے سے قبل سڑکوں یا دیگر مقامات پر طبّی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے موٹرسائیکل ایمبولینس تمام درکار آلات لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کے پی کے ریسکیو 1122 کے نو تعینات شدہ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر خاطر احمد نے کہا کہ حکومتِ کے پی بہتر طور پر عوام کی مدد کرنے کے لیے محکمہ کو ہر قسم کی سہولیات اور جدید ترین ٹیکنالوجی فراہم کر رہی ہے۔

احمد نے 29 مارچ کو ریسکیو 1122 کے حکام کے ایک اجلاس میں کہا، "نئی متعارف کرائی گئی فائر بائیکس ایک بے مثال سروس ہے جو شہر کی تنگ گلیوں میں فوری ردِّ عمل دے سکتی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے تین مزید اضلاع – سوات، ایبٹ آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان—کو آگ بجھانے کے چھوٹے ٹرک، منی ایمبولینس اور آگ بجھانے کی گاڑیاں حوالہ کر دی گئی ہیں۔

احمد نے مزید کہا، "بہت جلد یہ منی ایمبولینس اور آگ بجھانے کی گاڑیاں دیگر اضلاع تک پہنچ جائیں گی کیوں کہ ہم عوام کے دروازہ پر ان کو خدمات پہنچانا چاہتے ہیں۔ "

ایک شکرگزار کمیونیٹی

عوام الناس نئی فائر بائیک سروس کی پذیرائی کر رہی ہے۔

35 سالہ آصف جان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "جیسا کہ بس ریپڈ ٹرانزٹ [بی آر ٹی] کی تعمیر اور روزانہ کے ٹریفک جام کی وجہ سے سڑکیں اکثر بند رہتی ہیں، یہ فائر بائیک سروس پر ہجوم علاقوں اور ایسی گلیوں میں آگ بجھانے میں مدد کرے گی کہ جہاں ٹرک داخل نہیں ہو سکتے۔"

جان اندرونِ پشاور کی تنگ رہائشی گلیوں کے ایک بازار، مینا بازار کے رہائشی ہیں۔

جان نے مزید کہا کہ آگ بجھانے کے ٹرکوں پر آنے والے آگ بجھانے والے عملہ کو حال ہی میں قریبی کریم پورہ بازار میں آگ بجھانے میں مشکل پیش آئی۔

انہوں نے کہا، "آگ بجھانے کی چھوٹی گاڑیاں، بطورِ خاص پانی کی ٹنکیوں والے موٹرسائیکل اندرونِ شہر میں آگ پر قابو پانے میں زیادہ مددگار ہوں گے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے 💬

💬

Ahmad Ali | 04-13-2018

السلامُ علیکم، ہاں یہ مکالہ عوامی سہولیات کو بہتر بنانے سے متعلق ہے، ایک شکرگزار کمیونیٹی اور پشاور کے آگ بجھانے کے عملہ نے دشوار گزار مقامات پر لگنے والی آگ سے نمٹنے کے لیے موٹر سائکل حاصل کر لیے۔


انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج