|

صحت

خیبرپختونحواہ افغان مہاجرین کے لیے ٹی بی کا مفت علاج فراہم کرتا ہے

ڈاکٹروں نے جنوری سے مفت علاج مہیا کرنا شروع کیا ہے تاکہ اس ہلاکت خیز بیماری کے پھیلاؤ سے جنگ کی جا سکے۔

اشفاق یوسف زئی


ہرات کے مرکزی ہسپتال میں 9 اپریل 2012 کو ایک افغان خاتون دیکھ رہی ہے جب کہ بچہ تپ دق (ٹی بی) کے وارڈ میں ایک بستر پر لیٹا ہے۔ اس وقت ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اندازہ لگایا تھا کہ 10,000 سے زیادہ افغان مہاجرین ہر سال ٹی بی سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ]عارف کریمی/ اے ایف پی[

ہرات کے مرکزی ہسپتال میں 9 اپریل 2012 کو ایک افغان خاتون دیکھ رہی ہے جب کہ بچہ تپ دق (ٹی بی) کے وارڈ میں ایک بستر پر لیٹا ہے۔ اس وقت ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اندازہ لگایا تھا کہ 10,000 سے زیادہ افغان مہاجرین ہر سال ٹی بی سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ]عارف کریمی/ اے ایف پی[

پشاور -- افغان اور پاکستانی شہری خیبر پحتونخواہ (کے پی) کی حکومت کی طرف سے تپ دق (ٹی بی) کو علاقے سے ختم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔

کے پی ٹی بی کنٹرول پروگرام کے مینجر ڈاکٹر مقصود علی خان کے مطابق، کے پی ہیلتھ سینٹرز نے یکم جنوری سے افغان مہاجرین کو مفت علاج مہیا کرنا شروع کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ علاوہ ازیں، پشاور میں ایک لیبارٹری جلد ہی افغان طبی عملے کی تربیت شروع کرے گی اور ٹی بی کی تشخیص کرنے کی ان کی صلاحیتوں کو بہتر بنائے گی۔

اس بیماری کو 2025 تک ختم کرنے کا مقصد رکھا گیا ہے۔

خان نے 2 اپریل کو پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "صوبہ کو ٹی بی کے افغان مریضوں کی بلا روک ٹوک نقل و حرکت کا سامنا رہا ہے جس نے ہمیں ان کے لیے مفت علاج شروع کرنے کی ترغیب دی تاکہ مقامی آبادی کو ٹی بی کا شکار ہونے سے محفوظ بنایا جا سکے"۔

اقوامِ متحدہ کے تخمینے کے مطابق تقریبا 2.3 ملین افغان مہاجرین پاکستان میں رہتے ہیںجن میں سے دونوں ملکوں کے تقریبا 10 ملین شہریوں کا ہر ماہ سرحد پار کرنا ریکارڈ کیا گیا ہے۔

کے پی کا، افغانستان اور پاکستان کے وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے درمیان سرحدی چوکیوں کے قریب ہونے کا مطلب ہے کہ کے پی کے شہریوں کے لیے ٹی بی کا خطرہ بڑھ گیا ہے کیونکہ فاٹا میں داخل ہونے والے افغان عام طور پر امداد اور دیگر سہولیات کے لیے کے پی چلے جاتے ہیں۔

خان نے کہا کہ "افغانستان میں ٹی بی کی موجودگی علاقے کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔۔۔ اس لیے ہم اس کے عام آبادی میں پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکمتِ عملی تیار کر رہے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "ہمیں عام طور پر ٹی بی کے افغان مریضوں کی سرحد کے ساتھ آزادانہ نقل و حرکت پر پریشانی ہوتی ہے جو اس بیماری کو ختم کرنے کے منصوبوں کو ممکنہ طور پر متاثر کرنے والا ایک مسئلہ ہے"۔

افغانستان کے منفرد طبی چیلنج

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے 2017 کے ایک تخمینے کے مطابق، افغانستان میں تقریبا 61,000 افراد سالانہ متاثر ہوتے ہیں اور ہر سال تقریبا 12,000 اموات ٹی بی کے باعث ہوتی ہیں۔

دریں اثناء ڈبیلو ایچ او کے مطابق، پاکستان میں ہر سال ٹی بی کے 510,000 نئے واقعات سامنے آتے ہیں۔

افغانستان نے 2016 اور2017 کے دوران ٹی بی کے تشخیص ہونے والے واقعات میں تقریبا 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جو ملک کو تشخیص، ٹیسٹوں اور بیماری کا پتہ لگانے میں درپیش چیلنجوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

ان چیلنجوں میں سے کچھ میں حفضانِ صحت کے برے حالات، ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والے ٹی بی کے بیکٹیریم کی ایک قسم کا پھیلاؤ اور ہیومن امیونوڈیفیشنسی وائرس (ایڈز) کے باعث افغانیوں کا کمزور ہونے والا مدافعتی نظام ہیں۔

کے پی کے ہیلتھ سروسز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایوب روز نے کہا کہ افغانستان میں طبی سہولیات کی کمی صورتِ حال کو مزید گھمبیر بنا سکتی ہے جس سے کے پی کے طبی عملے کی کوششوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کے پی کے حکام افغانستان کے ایچ آئی وی/ ایڈز کے مریضوں کو بھی مفت علاج مہیا کر رہے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم امید کرتے ہیں کہ ٹی بی کے خلاف نئی کوشش سے ٹی بی سے پاک کے پی اور ساتھ ہی افغانستان کا راستہ ہموار ہو سکے گا۔ گزشتہ ماہ کے دوران ہم نے 1,100 افغان شہریوں کو خدمات فراہم کی ہیں"۔

جلال آباد سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ افغان مزدور حضرت نبی ان مریضوں میں سے ایک ہے جو اس مفت علاج سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

نبی نے کہا کہ وہ ماہ پشاور ٹیسٹ کروانے آتا ہے اور ٹی بی کی دوائی حاصل کرتا ہے۔ انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ علاج ٹھیک جا رہا ہے۔

ان کے ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ "میں معمول کے مطابق کام کر سکتا ہوں اور چھہ ماہ میں ٹھیک ہو جاؤں گا"۔

پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ٹی بی اور سینے کے وارڈ کے سربراہ ڈاکٹر مختیار زمان آفریدی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "افغانستان میں سماجی ممانعت کے باعث ٹی بی کے خاتمے کی کوششوں کو نقصان پہنچتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام میں ٹی بی کے بارے میں غلط تصورات پائے جاتے ہیں جیسے کہ یہ ناقابلِ علاج ہے اور ہاتھ ملانے یا ساتھ کھانا کھانے سے یہ پھیل جاتا ہے۔

زمان کے مطابق، غلط معلومات رکھنے والے افراد یہ بے بنیاد خوف بھی رکھتے ہیں کہ ٹی بی کے مریضوں کو فوری طور پر ہسپتال میں آئسولیشن یونٹوں میں داخل کر دیا جاتا ہے اور یہ کہ ٹی بی کی ادویات سے بانجھ پن پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ریکارڈ کیے جانے والے ٹی بی کے تقریبا 510,000 واقعات میں سے 60,000 کے پی میں ہوتے ہیں۔

شانہ بشانہ کوششیں

افغانستان کے صحتِ عامہ کے وزیر فیروز الدین نے ای میل کے ذریعے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ افغانستان کے صحت کے حکام بھی ملک بھر میں ٹی بی کے واقعات کو کم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تاہم، صرف چند افغان صوبوں میں ہی اس بیماری کی مفت تشخیص کی سہولیات اور ادویات دستیاب ہیں۔

فیروز نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ صحت عامہ کی سہولیات اور بین الاقوامی طبی خیراتی اداروں جیسے کہ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی اور میڈیسن سینس فرنٹیرز (ڈاکٹرز وداوٹ بارڈرز) کو طالبان کے عسکریت پسندوں نے نشانہ بنایا ہے کہا کہ "افغانستان کا صحت عامہ کا بنیادی ڈھانچہ بری حالت میں ہے"۔

انہوں نے افغان ہسپتالوں، کلینکوں، فارمیسیوں اور سینئر ڈاکٹروں پر زور دیتے ہوئے کہ وہ ٹی بی کے مریضوں کو پشاور بھیجیں کہا کہ "ہم نے پکتیا صوبہ میں اچھے سامان سے لیس ٹی بی کا مرکز قائم کر لیا ہے جو بہت چھوٹا ہے اور سارے ملک کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتا ہے"۔

فیروز نے کہا کہ "ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ٹی بی میں کوتاہی کی شرح 5 فیصد سے کم، بیماری کا پتہ لگانے کی شرح 90 فیصد اور اس ٹھیک کرنے کی شرح 90 فیصد سے اوپر رہے اور اس کے لیے ہم پاکستان پر انحصار کر رہے ہیں"۔

"ہم پاکستان کے شکر گزار ہیں نہ صرف ٹی بی کے مریضوں کے علاج کے سلسلے میں تعاون پر بلکہ اپنے افراد کی صحت سے متعلقہ دوسرے معاملات پر بھی"، فیروز نے کہا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

افغانستان میں طالبان کے ممکنہ امن مذاکرات میں پاکستان کو کیا کردار ادا کرنا چاہیئے؟

نتائج