|

معیشت

پاکستان اور انڈونیشیا نے تجارت اور اقتصادی تعاون کو وسیع کرنے کا عہد کیا

مستقبل کی ترجیحات میں سے ایک پاکستان کے ساتھ اس تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے جو انڈونیشیا کے ساتھ موجود ہے اور دو طرفہ سرمایہ کاری کو بڑھانا ہے اور اس طرح اقتصادی تعلقات کو متنوع اور وسیع بنایا جا سکے گا۔

آمنہ ناصر جمال


ایک پاکستانی کارکن گزشتہ سال 25 مئی کو کراچی میں مرکزی تھوک مارکیٹ میں چاولوں کا ایک تھیلہ اٹھائے ہوئے ہے۔ انڈونیشیا نجی شعبے سے ہونے والے معاہدوں کے تحت پاکستانی چاولوں کی بڑی مقدار کو درآمد کرنے کے لیے تیار ہے۔ ]آصف حسین/ اے ایف پی[

ایک پاکستانی کارکن گزشتہ سال 25 مئی کو کراچی میں مرکزی تھوک مارکیٹ میں چاولوں کا ایک تھیلہ اٹھائے ہوئے ہے۔ انڈونیشیا نجی شعبے سے ہونے والے معاہدوں کے تحت پاکستانی چاولوں کی بڑی مقدار کو درآمد کرنے کے لیے تیار ہے۔ ]آصف حسین/ اے ایف پی[

اسلام آباد -- حکام نے انڈونیشیا کے صدر جوکو ودودو کے پاکستان کے حالیہ دورے کے موقع پر کہا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تجارتی تعلقات پھل پھول رہے ہیں۔

پاکستانی کے سیکریٹری تجارت یونس دھاگا نے 26 سے 27 جنوری کے ودودو کے پاکستان کے سرکاری دورے کے بعد، پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "انڈونیشیا پاکستان کے اہم تجارتی شراکت دار رہا ہے"۔

دورے کے دوران، ودودو اور پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو وسیع کرنے کے لیے اپنے ارادوں پر زور دیا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان طویل المعیاد تعلقات کو قائم کیا جا سکے۔

2005 میں، پاکستان نے انڈونیشیا کے ساتھ جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ 2012 میں، دونوں ممالک نے ترجیحی تجارتی معاہدہ (پی ٹی اے) کیا جو اگلے سال سے نافذ ہوا۔

دھاگا نے کہا کہ "اس کے نتیجہ میں، انڈونیشیا کے ساتھ تجارت جو کہ 2012-2011 میں 1.23 بلین ڈالر (136.1 بلین روپے) تھی 2016-2015 میں بڑھ کر2.26 بلین ڈالر (250 بلین روپے) اور 2017-2016 کے سال میں 2.44 بلین ڈالر (265.5 بلین روپے) ہو گئی۔ تجارت میں یہ اضافہ انڈونیشیا کی طرف سے پاکستان کو کی جانے والی برآمدات کے باعث ہوا"۔

سب کے لیے جیت کی تجویز

آگے بڑھتے ہوئے ترجیحات میں اس تجارتی خسارے کو کم کرنا جو پاکستان کا انڈونیشیا کے ساتھ موجود ہے اور دو طرفہ سرمایہ کاری کو بڑھانا شامل ہے جس سے اقتصادی تعلقات وسیع اور متنوع ہو جائیں گے۔

ماضی کے پی ٹی ایز کا جائزہ لینے کے لیے فروری اور اگست 2017 میں ہونے والی میٹنگز کے دوران، پاکستان کی وزارتِ تجارت نے انڈونیشیا کے ساتھ پاکستان کے تجارتی خسارے اور انڈونیشیا کے غیر محصولاتی رکاوٹوں (این ٹی بیز) کے نفاذ کے مسئلہ کو اٹھایا تھا۔

دھاگا نے کہا کہ "پاکستانی طرف نے انڈونیشیا پر زور دیا کہ وہ اس پی ٹی اے کو دونوں ممالک کے لیے یکساں فائدہ مند بنائے اور اس کےعلاوہ پاکستانی مصنوعات پر سے این ٹی بیز کو ختم کر دے"۔

پی ٹی اے کے تحت، پاکستان نے انڈونیشیا کو 313 ٹیرف لائنوں پر ترجیحی محصولات پیش کی ہیں جب کہ انڈونیشیا نے پاکستان کے لیے 232 ٹیرف لائنوں پر محصولات کو کم کیا ہے۔

دھاگا نے کہا کہ مشاورت کے ایک سلسلے کے بعد، دونوں ممالک نے پی ٹی اے پر نظرثانی کرنے پر اتفاق کیا جس میں اپنی تجارت میں عدم توازن کے مسئلہ حل کرنے کے لیے اضافی پروٹوکول شامل کیا گیا ہے جس سے یہ معاہدہ سب کے لیے جیت کی تجویز بن گیا ہے۔ جنوری کے دورے کے دوران پروٹوکول اور مفاہمت کی بہت سی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ "طویل مزاکرات اور وزارتِ تجارت کی طرف سے سے مسلسل کوششوں کے بعد، انڈونیشیا کی طرف نے اب اتفاق کر لیا ہے کہ پاکستان کی سب سے زیادہ دلچسپی والی 20 ٹیرف لائنوں پر محصولات کو کم کر کے صفر کیا جائے"۔

اہم اشیاء میں آم، ٹوٹے ہوئے چاول (جو چاول اور دالوں کی پراسیسنگ کے دوران ٹوٹ جاتے ہیں)، تمباکو، اون، کپڑا، ڈینم، کپڑے، تولیے اور بستروں کی چادریں شامل ہیں۔ جن 20 ٹیرف لائنوں پر سوال اٹھایا گیا ہے وہ پاکستان کی عالمی برآمدات کا تقریبا 20 فیصد حصہ ہیں اور انڈونیشیا کی عالمی درآمدات کا 600 ملین ڈالر ( 66.4 بلین روپے) ہیں۔

دوسری پابندیوں کو ہٹانا

علاوہ ازیں، انڈونیشیا کے وزیر تجارت انگرٹرٹیسٹو لیوکیٹا نے 26 جنوری کو پاکستانی کینو (نارنگیوں) کی درآمد پر کوٹہ کی پابندیوں کے خاتمے کا اعلان کیا۔

انڈونیشیا اس سیزن میں 60,000 ٹن کینو درآمد کرنے گا جس کی مالیت کا اندازہ 33 ملین ڈالر (3.7 بلین روپے) لگایا گیا ہے۔ اس بات کا تخمینہ پاکستان کی برآمدات اور تجارت کی وزارت نے لگایا ہے۔

انجمنِ ملازمین پاکستان کے صدر اور پاکستان - انڈونیشیا بزنس فورم کے بانی چیرمین مجید عزیز جن کا تعلق کراچی سے ہے، نے کہا کہ "پاکستان کا انڈونیشیا کے ساتھ پرجوش تجارتی تعلق ہے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "بہت سالوں تک، ہم نے انڈونیشیا سے لاکھوں ٹن سالانہ کوئلہ درآمد کیا ہے تاکہ اپنے توانائی کے دیرنہ مسئلے کو حل کرنے میں مدد لی جا سکے۔ اس کےعلاوہ ہم لاکھوں ڈالر مالیت کا انڈونیشیا کا کاغذ باقاعدگی سے درآمد کرتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "تاہم، ہمیں مزید پاکستانی مصنوعات کو برآمد کرنے کی فوری ضرورت ہے"۔

چاولوں کے لیے منڈی کو کھولنا

دونوں اطراف نے اتفاق کیا کہ چاول ایک اور باہمی طور پر فائدہ مند تجارت کا میدان ہے۔

ماضی میں، چاول کی درآمد انڈونیشیا کے بیورو آف لاجسٹکس کے کنٹرول کے تحت آتی تھی۔ ایک حالیہ تبدیلی کے تحت، انڈونیشیا نجی شعبے کے معاہدوں کے تحت، پاکستان اور دوسرے ممالک سے چاول کی بڑی مقدار کو درآمد کرے گا۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے ملک محمد جہانگیر جو رائس ایکسپوٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سابقہ صدر اور پاکستان انڈونیشیا بزنس فورم کے بانی رکن ہیں، نے کہا کہ "انڈونیشیا پاکستان کے ساتھ اچھی تجارتی تاریخ رکھتا ہے اور وہ ایک اہم درآمدی و برآمدی شراکت دار ہے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "مجھے یہ کہتے ہوئے بہت زیادہ خوشی ہو رہی ہے کہ پاکستان پہلی بار سفید چاول (غیر باسمتی) انڈونیشیا کو برآمد کرے گا کیونکہ دو پاکستانی کمپنیوں نے 19 جنوری کو 65,000 میٹرک ٹن چاولوں کا آرڈر حاصل کر لیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ معاہدہ انڈونیشیا کی سفید چاولوں کی بہت بڑی منڈی سے فائدہ اٹھانے میں سنگِ میل ثابت ہو گا"۔

جہانگیر نے کہا کہ "پی ٹی اے کا معاہدہ انڈونیشیا اور پاکستان کو تجارتی تعلقات کو بڑھانے کا اچھا موقع فراہم کرتا ہے۔ دو طرفہ فائدہ سے آگے بڑھتے ہوئے، ہم یقین رکھتے ہیں کہ مضبوط تعلقات دونوں ممالک کو ایشیائی علاقے کی مجوعی مارکیٹ رجائیت پسندی سے فائدہ اٹھانے میں مدد فراہم کرتے ہیں"۔

تجارت کے راستے کی رکاوٹوں کو دور کرنا

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجٹیبل ایکسپوٹرز، امپوٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیرمین اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر، وحید احمح جن کا تعلق لاہور سے ہے نے کہا کہ ودودو کے سرکاری دورے کے دوران، دونوں اطراف نے اپنے متعلقہ ایوان ہائے تجارت کے سہ ماہی اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "تجارتی رکاوٹوں کا خاتمہ کرنے سے باہمی تجارت اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "لوگوں کا لوگوں سے رابطہ، براہ راست پروازوں کا انتخاب، بینکاری کی سہولیات، تجارتی وفود کا تبادلہ اور نمائشوں کو منعقد کرنے سے پاکستان سے انڈونیشیا کو کی جانے والی برآمدات میں دو سے تین سال کے اندر ایک بلین ڈالر (110.6 بلین روپوں) تک پہنچ سکتی ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

ٹی ٹی پی کے مستقبل کے لیے ملا فضل اللہ کی موت کا کیا مطلب ہے؟

نتائج