2018-02-05 | دہشتگردی

سوات میں آرمی بیس پر حملے کے بعد پاکستان نے عسکریت پسندوں کو 'کچلنے' کا عزم ظاہر کیا

محمد عاہل

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک خودکش بمبار نے 3 فروری کو وادی سوات میں 11 فوجیوں کو شہید کر دیا۔


فوجی جوان 4 فروری کو کیپٹن جاذب کا تابوت کوہاٹ میں جنازے میں لے کر گئے۔ ]باسط شاہ/اے ایف پی[
فوجی جوان 4 فروری کو کیپٹن جاذب کا تابوت کوہاٹ میں جنازے میں لے کر گئے۔ ]باسط شاہ/اے ایف پی[
فوجی جوان 4 فروری کو کیپٹن جاذب کا تابوت کوہاٹ میں جنازے میں لے کر گئے۔ ]باسط شاہ/اے ایف پی[

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک خودکش بمبار نے 3 فروری کو وادی سوات میں 11 فوجیوں کو شہید کر دیا۔

پشاور – ایک روز قبل طالبان حملے میں شہید ہونے والے 11 فوجیوں کے پشاور میں بروز اتوار (4 فروری) کو جنازہ عام کے موقع پر پاکستان نے دہشت گردی کی تمام شکلوں کو کچلنے کا عزم دہرایا۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق، بروز ہفتہ (3 فروری) تحصیل کبل ضلع سوات میں واقع فوجی کیمپ پر خودکش حملے میں 11 فوجی شہید اور 13 زخمی ہوئے۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ حملہ آور نے آرمی یونٹ کے کھیلوں کے احاطے کو نشانہ بنایا۔

اے ایف پی نے بتایا کہ ایک فوجی کیپٹن جاذب بم حملے میں شہید ہونے والوں میں شامل تھے جس کی ذمہ داری صحافیوں کو موصول ہونے والی ایک ای میل میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، گورنر خیبر پختونخواہ اقبال ظفر جھگڑا اور دیگر اعلیٰ عہدیداران نے جنازے میں شرکت کی اور شہید ہونے والے فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بعد ازاں جنرل باجوہ اور اقبال ظفر جھگڑا نے دھماکے میں زخمی ہونے والے فوجیوں کی عیادت کے لیے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال پشاور کا دورہ کیا۔

تلاش زیر عمل

ڈسٹرکٹ پولیس افسر سوات کیپٹن واحد محمود نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ حکام نے علاقے میں حملے کے بعد بڑے پیمانے پر تلاشی کا آپریشن شروع کر دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ "ضلع کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔"

کیپٹن واحد محمود نے بتایا کہ "5 فروری ]سوموار[ کو کبلل کے مضافات سے پانچ مشتبہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔"

گورنر اقبال ظفر جھگڑا نے پاکستان فارورڈ کو 4 فروری کو بتایا کہ "جوانوں کا مورال بلند ہے اور دشمن کو کچل دیا جائے گا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں اپنے جوانوں پر فخر ہے اور ایسے بزدلانہ حملے ہمارا حوصلہ نہیں توڑ سکتے۔"

خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "قوم کو ]اپنے[ شہداء پر فخر ہے اور ایسے بزدلانہ حملے عسکریت پسندوں کے لیے کوئی کامیابی نہیں لا سکتے۔" "]عسکریت پسند[فرار ہو رہے ہیں اور ٹوٹنے کے قریب ہیں۔"

قربانیوں سے بے خوف

کیپٹن جاذب خیبر پختونخواہ کے سابقہ وزیر برائے قانون و پارلیمانی امور ملک ظفر اعظم کے پوتے تھے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ، "مجھے اور میرے خاندان کو جاذب پر فخر ہے جس نے اپنی زندگی وطن کے لیے قربان کی۔ ایسے حملے ہمارا عزم نہیں توڑ سکتے۔"

انہوں نے کہا کہ "پشتون ایک بہادر قوم ہیں اور وہ ایسی قربانیوں سے نہیں ڈرتے۔ اگرچہ جاذب کو کھونے کا دکھ ہے لیکن ایک شہید کا دادا ہونا انتہائی فخر کی بات ہے۔"

2007-2009 میں وادی سوات ٹی ٹی پی کے عملی کنٹرول میں تھی۔ عسکریت پسندوں نے اسلامی قانون کی خودساختہ سخت شکل نافذ کی اور عوامی کوڑے مارنا اور سزائے موت پر عمل کیا حتیٰ کہ پاکستانی فوج نے انہیں نکال باہر کیا۔

صدر پاکستان مسلم لیگ نواز خیبر پختونخواہ امیر مقام نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "آج سوات ایک پرامن مقام ہے۔ ایسے بزدلانہ حملے وادی کے لوگوں کو خوفزدہ نہیں کر سکتے۔ بہادر سواتیوں نے ماضی میں دہشت گردوں کو شکست دی ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہی کریں گے۔"

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد "ہمیں شکست نہیں دے سکتے۔ ہماری قوم اور سکیورٹی فورسز انہیں کچل دیں گی۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

2 تبصرے

Fida hussain | 02-14-2018

نہیں

M Shakeel Raza | 02-06-2018

Muje pak armi me kesi bi kam me job Mil Jay me kro ga 10th clear he

انتخاب

پاکستان میں چین کے بڑھتے ہوئے معاشی اثرورسوخ کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟

نتائج