|

صحت

کے پی محکمہٴ صحت کے اہلکارویکسینز کے ذریعے ہیپاٹائٹس بی کا انسداد کر رہے ہیں

صوبائی حکومت نے پیدائش کے وقت نومولود بچوں کو ویکسین دینے کا آغاز کر کے انفکشن کی شرح کو کم کر دیا ہے۔

اشفاق یوسفزئی


3 جنوری کو ضلع مردان، خیبر پختونخوا میں ایک صحت کارکن ایک بچے کو ویکسین دے رہا ہے۔ [اشفاق یوسفزئی]

3 جنوری کو ضلع مردان، خیبر پختونخوا میں ایک صحت کارکن ایک بچے کو ویکسین دے رہا ہے۔ [اشفاق یوسفزئی]

پشاور – صوبائی محکمہٴ صحت کے حکام نے کہا کہ خیبر پختونخوا (کے پی) بچوں میں پیدائش کے وقت ویکسینیشنز کے ذریعے ہیپاٹائٹس بی انفکشنز میں کمی لا رہا ہے۔

2014 میں ایک عسکری آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کو بے دخل کیے جانے کے بعد سے اب تک خطے میں نگہداشت صحت میں بطورِ کل بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ طالبان عسکریت پسندوں نے 2005 سے 2014 کے درمیان کے پی اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں صحت عامہ کی کم از کم 300 تنصیبات تباہ کر دیں، جس کی وجہ سے رہائشیوں کے لیے صحت کے شدید مسائل پیدا ہوئے۔

کے پی ڈائرئکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر ایوب روز نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اب سرکاری ہسپتالوں میں پیدا ہونے والے بچوں کو پیدائش کے تقریباً فوراً بعد ویکسین کی پہلی خوراک دی جاتی ہے۔

کے پی میں نومولود بچوں کی ویکسین دو برس قبل شروع ہوئی اور اس کا مقصد آئندہ نسل کو اس وائرس سے محفوظ رکھنا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پیدائش کے وقت ویکسینیشن اس لیے اہم ہے کیوں کہ اگر کسی کو ہیپاٹائٹس بی انفکشن ہو جائے تو "بچوں یا بڑوں کے لیے کوئی علاج نہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم نے 2017 میں ہسپتالوں کے شعبہ زچہ و بچہ میں 97,000 اور 2016 میں 80,000 نومولود بچوں کو ٹیکے لگائے۔"

انہوں نے کہا، "ہیپاٹائٹس بی کے واقعات میں کمی موٴثر ویکسینیشن کے ذریعے ممکن بنی۔ جس کا انتظام مفت کیا جاتا ہے۔"

انفکشن کی شرح میں کمی

پاکستان میڈیکل ریسرچ کاوٴنسل کے مطابق، 12 برس سے کم عمر کے پاکستانی بچوں میں سے 4 فیصد میں ہیپاٹائٹس بی انفکشن ہے۔

معلوم ہوتا ہے کہ کے پی کی ویکسینیشن مہم سے صوبے میں انفکشن کی شرح کم ہو رہی ہے۔

کے پی ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے میجر ڈاکٹر کلیم اللہ خان کے مطابق، تازہ ترین ریسرچ نے ظاہر کیا ہے کہ صوبے میں صرف 2 فیصد بچوں کو ہیپاٹائٹس بی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "ان واقعات میں کمی ویکسینیشن کی وجہ سے ہے۔"

کے پی واحد صوبہ ہے جس نے ہسپتالوں میں نومولود بچوں کی ویکسینیش کا آغاز کیا ہے۔ خان نے کہا، "دیگر صوبے اس پروگرام کے اچھے نتائج کی وجہ سے اپنے ہسپتالوں میں اس پروگرام کی پیروی کرنے لگے ہیں۔"

خان نے کہا، "ویکسینیشن 98 فیصد واقعات میں موٴثر ہے۔ یہ واحد حل ہے کیوں کہ اس مرض کا کوئی علاج نہیں۔"

عالمی ادارہٴ صحت کے مطابق، ہیپاٹائٹس بی ویکسینیشن کم از کم 20 برس تک وائرس سے تحفظ فراہم کرتا ہے اور ممکنہ طور پر زندگی بھر کے لیے موٴثر ہے۔

بچوں کو ویکسین کی تین خوراک درکار ہوتی ہیں: انہیں پہلی خوراک پیدائش کے 24 گھنٹے بعد ہسپتال میں دی جاتی ہے جبکہ – تین ماہ اور چھ ماہ کی عمر میں – دوسری اور تیسری خوراک سرکاری ہسپتالوں میں واقع ایمیونائزیشن مراکز اور کارکنان صحت کی گھر گھر مہمات میں دی جاتی ہے۔

ہیپاٹائٹس بی کے پھیلاوٴ کا انسداد

کے پی محکمہٴ صحت صوبے میں سرکاری ہسپتالوں کو سہماہانہ بنیادوں پر ویکسین فراہم کرتا ہے۔ 2016-2018 ویکسینیشن پروگرام کے لیے محکمہٴ صحت کا بجٹ 300 ملین روپے (2.7 ملین ڈالر) ہے۔

خان نے کہا، "ہم نے زچگی سے متعلقہ نرسوں کو پہلے ہی تربیت دی ہے تاکہ وہ پیدائش کے فوراً بعد نومولود بچوں کو ویکسین دے سکیں۔"

انہوں نے کہا، "ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ، ہم نے عوام کو بچوں میں اس بیماری کی انسداد سے متعلق آگاہ کرنے کے لیے بھی ایک مہم کا انعقاد کیا ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہم مہم چلا رہے ہیں کہ والدین ختنوں اور ناک اور کان چھدوانے کے لیے بچوں کو ہسپتالوں میں لائیں جہاں جراثیم سے پاک اوزار استعمال ہوتے ہیں۔ بچوں کو غیر منظور شدہ کلینکس یا ہسپتالوں میں نہ لے جایا جائے، جہاں آلودہ سرنجیں اور آلات انہیں انفکٹ کر سکیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج