|

معاشرہ

پشاور رائٹرز کلب ادبی ورثے، تربیت کو فروغ دے رہا ہے

مصنفین اس آغاز کا خیرمقدم کر رہے ہیں، جو خیبرپختونخوا میں مصنفین کے لیے تربیت، ایک پلیٹ فارم اور ایک آن لائن نیٹ ورک فراہم کرنا چاہتا ہے۔

از محمد شکیل


11 فروری 2017 کو کراچی ادبی میلے کے دوران مہمان کتابیں دیکھتے ہوئے۔ پشاور میں حکام مصنفین کے ایک آن لائن کلب کے ذریعے خیبرپختونخوا میں ادب اور ثقافت کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ [آصف حسن / اے ایف پی]

11 فروری 2017 کو کراچی ادبی میلے کے دوران مہمان کتابیں دیکھتے ہوئے۔ پشاور میں حکام مصنفین کے ایک آن لائن کلب کے ذریعے خیبرپختونخوا میں ادب اور ثقافت کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ [آصف حسن / اے ایف پی]

پشاور -- خیبرپختونخوا (کے پی) کے محکمۂ ثقافت نے مقامی مصنفین کی مہارتوں کو جلا بخشنے کے لیے ایک آن لائن کلب شروع کیا ہے، جو اظہار کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے اور صوبے کے زرخیز ادبی ورثے کو فروغ دیتا ہے۔

پشاور رائٹرز کلب کا افتتاح 30 نومبر 2017 کو ہوا تھا۔ شمولیت اختیار کرنے کے لیے، ممکنہ ارکان کے لیے ان کی کم از کم ایک کتاب یا تحقیقی مقالہ شائع ہونا اور کے پی میں مقیم ہونا لازمی ہے۔

'تصنیف کی صنعت' کو ترقی دینا

کلب کے مقاصد میں سے ایک مقصد ارکان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور ان کی مہارتوں کو بہتر بنانے کی تربیت فراہم کرنا ہے۔

کے پی محکمۂ ثقافت میں ایک لسانی اور ادبی ماہر، اکبر خان ہوتی نے کہا کہ منصوبہ یہ ہے کہ صوبے سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور مصنفین کو آزاد منش حصہ لینے والوں کا ایک حلقہ بنانے کے لیے کلب میں رجسٹر کیا جائے، اور پھر ان کے کام کو نتائج اور مؤثر استعمال کی طرف لایا جائے۔

انہوں نے جنوری میں پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہمارے مصنفین اور ادیبوں کی مہارتوں کو ایک نظاماتی طریقے سے دعوتِ مبارزت دینا اور [انہیں] باہمی موازنے کے ذریعے اپنی مہارتوں کو بہتر بنانے کے مواقع دینا ایک نیا مظہر ہے جو یقیناً حصہ لینے والوں کی ترقی پر مثبت اثرات مرتب کرے گا۔"

کلب کے مقاصد میں نئے مصنفین کے لیے استعداد میں اضافہ کرنے کی تقریبات کا اہتمام کرنا، دانشوروں کو پیشہ ور مصنفین کے ساتھ شناسائی پیدا کرنے کی دعوت دینا اور ادبی مباحثوں کا انتظام کرنا شامل ہے۔ ہوتی نے کہا کہ کلب رجسٹرڈ ارکان کو مطالعہ اور تحریر کی سہولیات بھی فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ کلب تصنیف، تدوین، تصحیحِ اغلاط، تحریر، اداریوں، سکرین رائٹنگ، تلخیص نگاری کی خدمات، قلمی نسخے کو چمکانے، فہرست سازی اور دیگر متعلقہ خدمات کی معاصر تربیت فراہم کرتے ہوئے مصنفین کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد کرے گا۔

تربیت یافتہ آزاد منش مصنفین کی افرادی قوت کا حصہ بننے کے بعد، کے پی کے مصنفین اپنی خدمات پاکستان میں نجی اداروں، تاجر برادری اور صنعتی شعبے کو، نیز ملک سے باہر ممکنہ گاہکوں کو پیش کرنے کے قابل ہوں گے۔

ہوتی نے کہا، "ہم پاکستان میں اپنی نوعیت کے پہلے ۔۔۔ کلب کی چھتری تلے ادب کو فروغ دینے کے ذریعے صوبے میں 'تصنیف کی صنعت' کو ترقی دینا چاہتے ہیں۔"

ابھی تک 58 مصنفین پہلے ہی اندراج کروا چکے ہیں، جن میں ممتاز ادبی شخصیات جیسے کہ سعد اللہ جان برق، خالق داد امید، اباسین یوسفزئی، عبدالطیف سیماب، محمد علی دیناخیل اور زبیر طورولی شامل ہیں۔

ہوتی نے کہا کہ ان معروف مصنفین کی تحریریں کلب کے آن لائن ذخیرے کا حصہ ہوں گی اور نئی نسلوں اور نوواردوں کے لیے فیضیاب ہونے کا ذریعہ بنیں گی۔

ثقافتی ورثے کو فروغ دینا

ارشد حسین، ایک اداکار جو پہلے محکمے میں بطور ایک مشیر کام کرتے تھے، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ایک آن لائن چینل کے ذریعے علاقائی مصنفین کو اپنی مہارتوں کے اظہار کے طریقوں سے آراستہ کرنا ہمارے صوبے کے زرخیز اور متنوع قدیم ثقافتی ورثے کو فروغ دے گا جس نے اپنی جڑیں صدیوں پرانی روایات اور اقدار سے اخذ کی ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ پشاور رائٹرز کلب ارکان کی روئیت میں اضافہ کرتے ہوئے ان کے لیے روزگار اور ترقی کے نئے مواقع بھی کھولے گا۔

ان میں سے بہت سے شہ پارے بہت سی وجوہات، بشمول اظہار کے موزوں مقامات کی کمی، کی بناء پر ان کھوجے رہے ہیں، کا اضافہ کرتے ہوئے حسین نے کہا، مزید برآں، کلب کے ذریعے، علاقائی زبانوں میں تحریر کردہ ادبی شہ پاروں کو مرتب اور ریکارڈ کرتے ہوئے کے پی کے کا ثقافتی نقشہ تیار کرنا ممکن ہو گا۔

انہوں نے کہا، "کلب علاقائی نثر اور نظم کو بھی نمایاں کرے گا جو ہمارے لوگوں کی امن پسند فطرت اور ہماری دھرتی کے نرم تشخص کو پوری دنیا میں آشکار کر سکتی اور پھیلا سکتی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ کے پی میں لوگوں کی جانب سے تقریباً 28 زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان زبانوں کے مصنفین کو آن لائن کلب کے ذریعے زیادہ وسعت دینے کا موقع دینا ترقی اور نشوونما کے لیے مواقع تخلیق کرے گا۔

آن لائن اشاعت ان علاقائی مصنفین کے ساتھ رابطہ کرنے میں ناشرین کی مدد بھی کرے گی۔

حسین نے کہا کہ اگر ان مصنفین کے کام کو ان زبانوں میں ترجمہ کیا جائے جو پاکستان میں وسیع طور پر بولی جاتی ہیں تو کلب کے مصرف میں اضافہ ہو گا۔ اس سے ایسے مصنفین کے قارئین، اور نمود میں اضافہ ہو گا اور ممکنہ طور پر ان کے لیے مالی فوائد بھی پیدا ہوں گے۔

یونیورسٹی آف پشاور کے شعبۂ فن اور ڈیزائن کے چیئرمین اور پشاور کے رائٹرز کلب میں رجسٹرڈ مصنف، ڈاکٹر شیر علی خان نے کہا، "آن لائن کلب علاقائی مصنفین کے کام کو شہرت بخشے گا، اور دلچسپی رکھنے والے محققین کو علاقائی زبانوں اور ان سے ملحقہ ثقافتوں پر تحقیق کرنے کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہ علاقائی مصنفین کی آگے بڑھنے اور صوبے کے زرخیز اور متنوع ادبی ورثے کو فروغ دینے اور سنبھالنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کرے گا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے پہلے تین ماہ سے کتنے مطمئن ہیں؟

نتائج