2018-01-10 | سلامتی

کے پی پولیس کے اعداد و شمار اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے دہشتگردی میں ملوث ہونے کو ظاہر کرتے ہیں

جاوید خان

2017 میں کے پی میں گرفتار ہونے والے 473 عسکریت پسندوں میں سے 58 نے کم از کم دو برس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔


30 اپریل 2017 کو کراچی میں ملک کی سب سے بڑی اسلامی درسگاہ جامعہ بنوریہ میں پاکستانی مدرسہ کے طالبِ علم ایک امتحان دے رہے ہیں۔ [آصف حسن/اے ایف پی]
30 اپریل 2017 کو کراچی میں ملک کی سب سے بڑی اسلامی درسگاہ جامعہ بنوریہ میں پاکستانی مدرسہ کے طالبِ علم ایک امتحان دے رہے ہیں۔ [آصف حسن/اے ایف پی]
30 اپریل 2017 کو کراچی میں ملک کی سب سے بڑی اسلامی درسگاہ جامعہ بنوریہ میں پاکستانی مدرسہ کے طالبِ علم ایک امتحان دے رہے ہیں۔ [آصف حسن/اے ایف پی]

2017 میں کے پی میں گرفتار ہونے والے 473 عسکریت پسندوں میں سے 58 نے کم از کم دو برس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔

پشاور – سطحِ تعلیم اور ملزمان کی عمریں ظاہر کرنے والے گرفتاری کے ریکارڈ کے مطابق، گزشتہ برس کے دوران خیبر پختونخوا (کے پی) میں گرفتار ہونے والے متعدد عسکریت پسند اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔

کے پی پولیس کے ذرائع نے پاکستان فارورڈ پر انکشاف کیا کہ گرفتار ہونے والے 473 عسکریت پسندوں میں سے کم از کم 24 گریجوایٹ یا پوسٹ گریجوایٹ ڈگریوں کے حامل ہیں، جبکہ 34 نے انٹرمیڈیئیٹ امتحان (یونیورسٹی کے دو برس) پاس کیا ہے۔

تاہم، اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ گرفتار شدہ عسکریت پسندوں کی اکثریت نے یا تو صرف ابتدائی تعلیم حاصل کی ہے یا ناخواندہ ہیں۔

پشاور میں سنٹرل پولیس آفس کے ایک ذریعہ نے پولیس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "2017 میں گرفتار ہونے والے 13 یا 2.75 فیصد عسکریت پسندوں نے پوسٹ گریجوایٹ ڈگریاں حاصل کررکھی ہیں، جبکہ 11 افراد (2.33 فیصد) [بیچلرز ڈگری کے ساتھ] فارغ التحصیل ہوئے۔"

ذریعہ نے کہا کہ گرفتار شدہ عسکریت پسندوں میں سے چونتیس (7.19 فیصد) نے انٹرمیڈیئیٹ امتحان پاس کیا اور 57 عسکریت پسند (12.05) ہائی سکول سے فارغ التحصیل ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ گرفتار شدہ عسکریت پسندوں میں سے کل 36 (7.61) نے مڈل سکول پاس کیا، 45 یا 9.51 نے پرائمری تعلیم مکمل کی، جبکہ 58 عسکریت پسندوں (12.26 فیصد) نے پرائمری درجہ سے کم سطح کی کلاسیں لی ہیں۔

علاوہ ازیں، 51 عسکریت پسند (10.78 فیصد) دینی درسگاہوں سے فارغ التحصیل ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق، گرفتار شدہ عسکریت پسندوں میں سے اٹھاسی (18.60 فیصد) ناخواندہ ہیں، جبکہ پکڑے جانے والے 80 (16.91 فیصد)عسکریت پسندوں کی تعلیم نامعلوم ہے، یہ فرض کیا گیا ہے کہ یہ بھی ناخواندہ ہیں۔

ذریعہ نے کہا کہ جیسا کہ بھرتی کنندگان اس عمر کے نوجوانوں کو بآسانی ہدف بنا سکتے ہیں، گرفتار شدہ عسکریت پسندوں کی ایک بڑی اکثریت، 189، کی عمریں 20 تا 30 برس تھیں۔​

تعلیم یافتہ نوجوان عسکریت پسندی میں مخصوص کردار ادا کرتے ہیں

"عسکریت پسندی میں ملوث ہونے پر گرفتار کیے گئے افراد میں تعلیم یافتہ لوگ شامل ہیں،" کے پی انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین خان محسود نے تصدیق کرتے ہوئے پاکستان فارورڈ کو بتایا یہ افراد ، مذہبی مدارس اور رسمی اسکول اور کالجز دونوں سے تعلیم یافتہ ہیں۔

ایک ذریعے نے پولیس ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا، سنٹرل پولیس آفس کے ریکارڈ کے مطابق، گزشتہ سال کے دوران گرفتار کیے گئے 33، 14 سے19 کے درمیان، 98،20 سے 25 کے درمیان، جبکہ 91،26 سے 30سال عمر کے عسکریت پسند شامل ہیں۔ دیگر کئی گرفتار کیے گئے 60 سے زیادہ عمر کے تھے۔

بہت سے مواقع پر، مقامی پولیس اور انسداد دہشت گردی ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو گرفتار کیا جو عسکریت پسندی اور دہشت گردی سے متعلق لٹریچر تقسیم کر رہے تھے۔

کے پی پولیس کے ترجمان زاہد اللہ خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "نظریہ کے علاوہ تعلیم یافتہ طبقے کی [عسکریت پسنوں] کی صفوں میں شمولیت کی ایک وجہ ہے کہ وہ دوسرے تعلیم یافتہ لوگوں کی تقاریر اور عسکریت پسندی کے بارے میں ان کے بات کرنے کے طریقے سے متاثر ہوتے ہیں۔"

بہت سالوں سے کے پی میں تشدد کو کور کرنے والے پشاور کے ایک صحافی سلمان یوسف زئی نے بتایا کہ تعلیم یافتہ عسکریت پسند میدان جنگ اور حملوں سے الگ رہتے ہیں۔

یوسف زئی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہ تعلیم یافتہ عسکریت پسند عملی طور پر حملوں میں شامل نہیں ہوتے، لیکن وہ ان گروہوں کے لئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانا، لٹریچر چھاپنے وغیرہ جیسی دیگر سرگرمیوں پر توجہ دیتے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے

مولوی انوار حیدر | 01-13-2018

پوسٹ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس کے متعلق ہے اور تصویر مدارس کے طلباء کی لگا رکھی ہے، دھوکہ دیتے ہوئے شرم کیوں نہیں آتی؟ نیچے جا کر امتحان کا عنوان لگا کر پھر سے دھوگہ دیا اور اپنے لئے چور راستہ رکھ لیا کچھ شرم کوئی حیاء

انتخاب

سنہ 2018 میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج